دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔۔۔۔محمد جاوید حیات ۔۔۔۔۔۔” تم میں اتنی جرات کہاں صاحب “۔۔۔

امام وقت دوڑے جا رہا ہے کسی نے راستہ روک کر پوچھا ہے ۔۔۔کہاں کا ارادہ ہے صاحب تم پریشان ہو دوڑے جا رہے ہو ۔۔۔۔اپنے آپ کو دریا میں ڈالنے جارہا ہوں ۔۔۔ایسی کیا مصیبت آگئی ۔۔۔بادشاہ وقت نے مجبور کیا ہے کہ میں سلطنت کا قاضی القضات بنوں ۔۔۔اس مہا کام کے لیے بار بار اسرار کرتا رہا ہے۔۔اب کی بار بلا کر پوچھا تو میں نے پھر سے انکار کیا ۔۔۔بادشاہ وقت نے کہا ۔۔۔تم جاہل ہو ۔۔میں نے کہا کہ باشاہ سلامت تو پھر جاہل کیسے قاضی بن سکتا ہے اس جواب پر بادشاہ وقت بہت بگڑاہے ۔۔اب مجھے یا تو عہدہ قبول کرنا ہے یا اپنے آپ کو دریا میں ڈالنا ہے ۔۔میں قیامت کے دن مخلوق کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اس سے بہتر ہے کہ اپنے آپ کو دریا میں ڈال دوں ۔۔۔یہ عہدے اور اقتدار سے بھاگنے والا امام ابو حنیفہ تھے وہ بادشاہ وقت المنصور کا ہر ظلم سہتے رہے اور اپنی آخرت بچاتے رہے ۔۔روایت ہے فاروق اعظم رض خلیفتہ المسلمین سے پوچھا گیا کہ گندم کی روٹی کیوں نہیں کھاتے ہو ۔۔۔فرمایا کہ کیا میری سلطنت میں ہر بندے کو 1گندم کی روٹی میسر ہے ۔حضرت بن عبدالعزیز کی بچیاں جو کی سوکھی روٹیاں کھا رہی تھیں ۔لقمے خلق سے نیچے نہیں اتر رہی تھیں شہزادیاں رو رہی تھیں عمر بن عبد العزیز یہ دیکھ کر رونے لگے بیوی نے تسلی دی ۔۔۔روتے کیوں ہو لقمے آہستہ کو نگلے جاٸیں گے تر ہوتے ہوتے ۔۔۔۔۔فرمایا اس لیے نہیں رو رہا ہوں کہ میری بچیوں کو جو کی سوکھی روٹی میسر ہے اس لیے رو رہا ہوں کہ کہیں میری سلطنت میں اگر کسی کی بچی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو ”کل “میں اس کا کیسے جواب دوں گا ۔۔۔۔یہ ” کل“ ان کے لیے سب کچھ تھا یہ دنیا کی فانی زندگی کا ”کل “نہیں تھا یہ قیامت کی داٸمی زندگی کا ”کل“ تھا جو ان کے سامنے تھا ۔۔۔
یہ (عمر بن عبد العزیز) بستر مرگ پہ تھے ان کے تیرا بچے تھے پوچھنے والے نے پوچھا کہ اپنے بچوں کے لیے وصیت کرو ۔۔۔ان کے پیشرو بادشاہ اپنی اولاد میں سے کسی کو ولی عہد بناتے باقی کو اپنی سلطنت تقسیم کرتے یہ ان کے شاہی خاندان کی روایت تھی لیکن انھوں نے فرمایا کہ میں نے ان کے لیے بہت اچھا کمایا ہے ایک لقمہ بھی حرام کاان کو نہیں کھیلایا۔۔۔دنیا نے دیکھ لیا کہ ان کے سارے بیٹے گورنر گزرے ۔۔
یہ ہمارے پیشرو تھے ۔۔ہم اقتدار کے بھوکے ہیں۔۔۔ ہم حکمرانی کے جنونی ہیں ۔۔ہماری زندگی میں ” کل“ کا تصور کچھ اور ہے ہم نے دنیا کی زندگی کو ” کل“ سمجھ رکھا ہے ۔۔آخرت کا تصور نہیں اگر اقتدار کے لیے کوشش کرتے ہوۓ ہماری نیت زمہ داری نبھانے کی ہو ۔۔۔ہماری نیت خدمت کی ہو۔۔ ہماری نیت عوام کے حقوق کی حفاظت کی ہو اور اس کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہونے کی ہو تو ہم ضرور ”کل “ سے ڈریں گے ۔۔تب اقتدار حاصل ہوجاۓ تو مزید ڈریں گے ۔ہماری خدمت میں نکھار آجاۓ گا ۔ہم ”حاکم“ ہونے کی جگہ ” خادم “ زیادہ نظر آٸیں گے لیکن ہم میں وہ جرات نہیں ۔ہم سچے ہونے کی جرات سے عاری ہیں ہم حقوق کی جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ہمارے پاس ایسی ہمت نہیں کہ کوٸ کرپٹ ٹھیکدار ” کمیشن “اوفر کرے تو ہم ٹھکرا دیں ہمارے سینے میں وہ دل نہیں کہ نوکری دیتے ہوۓ۔۔۔ فاٸدہ پہنچاتے ہوۓ اپنوں کی بجاۓ دوسروں کے لیے تڑپیں ۔۔ہماری یادیںں ایسی نہیں کہ اخرت سے متعلق ہوں ہماری یادیں دنیا سے متعلق ہیں ۔۔ہم نےچکا چوند کی عارضی زندگی کو سب کچھ سمجھ رکھا ہے ہم حقیقتا ”موت “سے نہیں ڈرتے ”زندگی“ سے ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ ختم نہ ہوجاۓ ۔ہمارے پاس سچ کی ہتهيار نہیں ہم صداقت کی خداٸی دولت سے محروم ہیں ۔الیکشن کی اس دوڑ دھوپ میں ہمیں جن نمایندوں کا سامنا ہوتا ہے ان کی آنکھوں سے بھوک ٹپکتی نظر آتی ہے ۔وہ سچ کی دولت سے خالی ہیں ۔حالانکہ استاد اور نماٸندے کے پاس زبان نہیں ہوتی ۔۔وہ کچھ بولتا نہیں ان کے کردار بولتے ہیں ان کی صداقت بولتی ہے ۔لگتا ہے کہ یہ کرداروں سے خالی ملک جرات اور صداقت سےبھی خالی ہے ۔۔میں نے جب ایک مذہبی نماٸندے سے پوچھا کہ صاحب اگر اقتدار تجھے مل ہی جاۓ تو عوام کا بوجھ اٹھا سکتے ہو انھوں نے مجھے سورہ یوسف کی آیت کا حوالہ دیا ۔میں نے کہاوہ تو پیغمبر خدا تھے اپنے بارے میں حافظ اور امین کہا۔وہ سخت ناراضگی کےعالم میں میرے سوال کا جواب دٸیے بغیر اپنی حمایتیوں سے مخاطب ہوا ۔ہم اپنے نماٸندوں کو اگر اسلام کی مثال نہ بھی دیں تب بھی ان مغرب کےدیوانوں کے سامنے مغرب کی مثالیں موجود ہیں ۔۔وہاں کوٸی نماٸندہ کرپشن کے لیے اقتدار میں نہیں آتا کوٸی سیاسی پارٹی اپنا یا اپنے نماٸندوں کا نہیں سوچتی ۔وسیع قومی مفاد وہاں مشترکہ ہیں ۔فلاح قوم ان کا مطمع نظر ہے ۔وہاں پر ” ہم نے کیا “ اور ”میں نے کیا “ کا نعرہ نہیں ہوتا ۔وہاں پر ہر ایک کی اپنی پالیسی نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو قوم کا مستقبل سامنے ہوتا ہے ۔وہاں اگر اقتدار والی پارٹی نے سڑک بنانا شروع کیا تو اس کا اقتدار ختم ہوتے ہی وہ منصوبہ ختم نہیں ہوتا دوسری پارٹی جو اقتدار میں ہو اس کو تکمیل تک پہنچاتی ہے وہاں پر کوٸی منصوبہ ادھورا نہیں ۔ان کو تو فالو کرو۔۔۔ کہیں سے بھی تو شرافت ، خدمت اور صداقت کا سبق سیکھو ۔۔۔مانتے ہیں کہ تم میں وہ جرات نہیں ہے اگر نہیں تو نماٸندگی کا کس نے تمہیں حق عطا کیا اگر کسی نے نہیں تو تم کہاں کے نماٸندے ہو؟ کس کے ہو؟ ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔