فکرو خیال ۔ فرہاد خان۔۔۔گنتی کے یہ چند ہیرے لوگ ۔

زندگی کا زیادہ عرصہ بیت چکا۔ عمر کے اس موڑ پر پہنچتے ہوئے گنتی کے یہ چند ہیرے لوگ زندگی کے بچے کچے لمحات گزارنے ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ باریش بزرگ، عمر کے اس حصے پہنچتے پہنچتے اپنا سب کچھ اپنے اپنے اولاد کے حصے میں ڈالے بیتے لمحات کے،اچھے برے دنوں کے داستانیں لئے گپ شب میں لگ جاتے ہیں ۔ یہ سیدھے سادھے لوگ، جن کے پاس نہ آج کے دور جدید کا موبائل ہے اور نہ یہ فیس بک ،واٹس اپ، یو ٹیوب بارے کچھ خبر رکھتے ہیں۔ ان کی اپنی ایک الگ اور منفرد دنیا ہے۔ انہیں کسی سٹیٹس اپ ڈیٹ کی ،فیس بک پوسٹ کی یا یو ٹیوب اپلوڈ کی کوئی خبر نہیں ہوتی ۔ان کو فیس بک یا واٹس اپ چیٹنگ کا پتہ ہے اور نہ یہ ایسے گپ شپ کی علم رکھتے ہیں۔ان کے اپنے موبائل ندارد۔یہ اب بھی دوستی کو، رقابت کو اور مل بیٹھ کر گپ شپ کو اہمیت دیتے ہیں اور اسے نبھانا بھی خوب جانتے ہیں۔یہ اب بھی رشتے کو حقیقی سمجھ بوجھ سے نبھاتے ہیں اور یہ اب بھی محبت ،قربت ،رواداری اور بھائی چارے کی قدر و قیمت کو جان کر جی جان سے اسے نبھا جاتے ہیں۔ یہ اس دور کے شاہد ہیں جب روٹی کے لئے چترال تا دیر پیدل جانا ہوتا تھا ،یہ اس دور ازیت کے باسی رہے ہیں جب ایک نوالے کے لئے دن رات جتن کرکے بمشکل خاندان کی کفالت کی جاتی تھی۔ اور یہ وہ دن دیکھ چکے کہ جب اپنی بنی بنائی آدھی سے زیادہ کی کمائی کو سرکار کے نام یا مہتر کے نام قربان کیا جاتا اور زندگی کے دن بمشکل گزار دیئے جاتے۔خود مہینوں بھوکے رہنے کی ازیت سہہ جاتے۔ یہ ان تمام ایام زندگی کے شاہد ہیں جب پہننے کو آج کی طرح کے کپڑے،کھانے کو روٹی اور رہنے کو اس دور کے جیسے سہولیات کا نام و نشان تک نہ تھا اور اسی لئے ان کی عمر کا اکثر حصہ اپنی اور اپنی اولاد کے روزی روٹی کی فکر میں انتہائی مشقت میں گزری۔ آج جن اسائشات کی بہتات تلے ہم ہیں ان کی قدر ان ہیرون سے پوچھیں تو الف سے ی تک کے وہ قصے سنائیں گے کہ آپ کو اپنے کانوں پر یقین کرنا مشکل ہو جائیگا ۔جس دور عالم سے ہو کر یہ آ نکلے ہیں اس دور کے بارے ان سے پوچھیں تو ہم تم یقین نہیں کریں گے ۔جس مشکل حالات میں، جس جہدوجہد کے بعد ان تاریک راہوں سے مجھے اور آپ نکال کر، پال پوس کر یہ اس مقام تک لائے ہیں واقعی میں یہ عظیم تریں لوگ ہیں اور جو کچھ آج ہمارے پاس ہیں یہ سب ان کی مرہون منت ہیں ۔یہ اس تاریخ کی اور اس دور کے شاہد ہیں اور یہ تاریخ آپ ان کی زبانی جان سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کریں گے کہ ہم کس دور کے باسی ہیں ۔آج ہماری زندگیوں میں کس چیز کی کمی ہے۔؟ کسی چیز کی بھی نہیں مگر، پھر بھی ہم خوش نہیں۔اللہ کا دیا سب کچھ ہے مگر شکر گزاری سے کوسوں دور ہیں ۔ عمر کے اس حصے پہنچے ہوئے ، تجربے اور زندگی کی اونچ نیچ کے بارے جتنا ان لوگوں کو معلوم ہے زرا ایک آدھ گھنٹہ ان کے پاس بیٹھ کر پوچھ لیں اندازہ ہو ہی جائیگا اور اپنے دور کے اسائشات کی شکر گزاری کا موقع بھی ملے گا۔آج ہم تو اپنی اپنی پسند کے گروپس میں اپنے اپنے گھروں میں چپ چاپ بیٹھے انلائن چیٹنگ میں مصروف ہوجاتے ہیں اور یہ اپنے زمانے کے دوست و احباب ڈھونڈتے ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔ اپنے اپنے دلون کا بوجھ گران کم کرنے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے اور اپنی اپنی ماضی کے قصے سنانے لگ جاتے ہیں ۔اپنے اردگرد موجود ان ہیرون کی قدر کرنا سیکھیں کیونکہ ان کے دور کے ان کے آدھے سے زیادہ دوست و احباب اس دار فانی سے کوچ کر چکے اور یہ ان کے جانے کے دکھوں کے ساتھ ساتھ یاد ماضی میں کھوئے اداسی کی تصویر بنے بیٹھے آپ کو دکھائی دیں گے ۔ان کی قدر کیجئے کیونکہ اس دار فانی کا کوئی اعتبار نہیں ۔اللہ پاک ان سب کو سلامت رکھے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔