پاکستان پیپلز پارٹی لوئر چترال کےمرکزی الیکشن آفس کی افتتاح تقریب

چترال (چترال ایکسپریس) پاکستان پیپلز پارٹی لویر چترال کے صدر اور قومی اسمبلی کے امیدوار انجینئر فضل ربی جان، صوبائی نائب صدر اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار سلیم خان، تحصیل صدر عالمزیب ایڈوکیٹ اور دوسرے رہنماؤں نے کہا ہے کہ چترال کی تمام ترقیاتی کاموں کی تاریخ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہے اور اس وقت بھی چترال کے غریب عوام کی امیدوں کا یہی مرکز ومحور ہے جبکہ عام انتخابات کی تاریخ میں چترال ٹاؤن میں پہلی مرتبہ کسی سیاسی جماعت نے اپنے کارکن کو قومی اسمبلی کی ٹکٹ الاٹ کی ہے تاکہ یہاں ترقیاتی کاموں کا نیٹ ورک مکمل ہوسکے۔ اتوار کے روزدنین میں بونی روڈ پر واقع مرکزی الیکشن آفس کی افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جب بھی پی پی پی برسراقتدار آئی تو چترال میں ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہوا اور تعلیم، صحت، روڈکمونیکیشن اور دوسرے تمام ڈیویلپمنٹ سیکٹرز میں میں نمایان کام ہوئے اور ہزاروں غریب بے روزگاروں کو سرکاری ملازمتیں دی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ آنے والا دور پی پی پی کا ہی ہوگا اور چترال سے پارٹی کے نامزد امیدواروں کو چترال کے عوام اپنی قیمتی ووٹ سے کامیاب کرکے علاقے کی پسماندگی کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ ان گھمبیر حالات میں ملک کی درست سمت میں رہنمائی کرکے اسے معاشی اور سیاسی دلدل سے بحفاظت باہر نکال لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 8فروری کا دن پی پی پی کی کامیابی کا دن ہوگا جس کے بعد شہید ذولفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی وژن کے مطابق ملک کی تعمیر واستحکام کا سفر دوبارہ شروع ہوگا۔ اس سے قبل پارٹی کے سینئر نائب صدر شریف حسین اور دوسرے رہنماحاجی غازی وردک، قاضی وقار اقبال ایڈوکیٹ، فتح الرحمن لال، عبدالصمد شاہ، نادر شاہ، شیر جوان، نظار ولی شاہ، شبنم ناصر اور دوسروں نے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی کے نامزد امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہاکہ اس پارٹی نے ورکروں کی خواہش اور امنگوں اور علاقائی حالات کو سامنے رکھ کر بہترین فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی نے چترال ٹاؤن میں فضل ربی جان کو ٹکٹ دے کر بال ان کے کورٹ میں پھینک دی ہے کہ وہ اسے کامیاب کرکے اپنی ترقی کا سنگ بنیاد اپنے ہاتھوں رکھے جبکہ اس سے قبل 36ہزاروں کے حامل اس علاقے میں ترقی کے حوالے سے احساس محرومی اور مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔