*عرب سرداریاں* ( 22)۔۔۔*تحریر۔۔۔۔ شہزادہ مبشرالملک*

# *جزیرہ عرب* ۔

اعلانیہ دعوت اسلام سے قبل عرب حکمرانوں اور سرداران عرب کی مختصر حالت پیش خدمت ہے تاکہ ظہور اسلام کے وقت کی پوزیش واضح ہوسکے ہمارے ہاں اکثر دینی اور تاریخی کتب میں عربوں کو جاہل۔ خونخوار۔تہزیب تمدن سے دور آزاد قبائل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حالانکہ جس وقت اسلام کا خورشید جہاں تاب یہاں ابھر رہا تھا اس وقت جزیرہ عرب میں دو قسم کے حکمران تھے۔ایک تاج پوش بادشاہ جو مکمل آزاد نہ تھے اور دوسرے قبایلی سردار ان کی حیثیت بھی انہی شاہوں جیسی تھی اور یہ اندرونی طور پہ آزاد بھی تھے۔
شاہوں میں نمایاں یہ لوگ تھے۔

1۔ *شاہ یمن۔*

قوم سبا ۔۔۔ کی ڈھائی ہزار سال قبل مسیح کی تاریخ رکھتے تھے۔شاہان سبا ۔۔۔ مکرب۔۔۔ لقب رکھتے تھے۔300ء کے بعد سے دور اسلام تک۔یمن میں انتشار اصطراب کا دور رہا۔ جس کا فائدہ اٹھا کر ۔۔۔ رومیوں ۔۔۔ نے یہاں قدم جمائے۔اور ان کی مدد سے ۔۔۔ حبشی۔۔۔ 340ء قابض بنے۔اور 378ء تک رہے۔ 451ء میں ۔۔۔ سیل عرم۔۔۔جس کا ذکر قران میں بھی ہے ۔۔۔ کا بند ٹوٹا اور زبردست سیلاب نے بستیوں کی بستیان ویران کر دیں۔523ء میں یہاں کے یہودی بادشاہ نے ۔۔۔ نجران۔۔۔ کے عیسایوں پر حملہ کیا اور عیسائی مذہب چھوݱنے پر مجبور کیا۔سورہ بروج میں ۔۔۔۔اصحآب الاخدود ۔ ۔۔کے لرزہ خیز واقعہ کی جانب اشارہ موجود ہے۔ اس واقعہ کو بہانہ بناکر رومی بادشاہ بحری بیڑہ دے کرحبشیوں کو اگے رکھ کر ستر ہزار فوج کے ساتھ 525ء حملہ کیا اور اس کےکمانڈر اریاط ۔۔۔۔ شاہ روم کے گورنر کی حیثیت سے یہاں کے گورنر بنے ۔لیکن ان کے نائب کمانڈر۔۔۔۔ ابرہہہ۔۔۔ اصحاب فیل۔۔۔ والے نے اسے قتل کرکے یہاں کےحکمران بنے۔ابرہہہ کے ابابیل کے ہاتھوں بربادی کے بعد ایران کی مدد سے اہل یمن ۔۔۔ حبشیوں۔۔۔ کوباہر نکال کر575ء میں بادشاہت قائم کی۔لیکن یمنی حبشی کشمکش میں۔۔۔ شاہ ۔۔۔ مارا گیا ایران کے ۔۔۔شاہ کسری اعظم ۔۔۔ نےموقع دیکھ کر یمن کو فارس ایران کا صوبہ بنا کر ایرانی گورنر لگا دیا۔ اخری گورنر ۔۔۔ باذان۔۔۔ نے 628ء میں اسلام قبول کی اور ۔۔۔۔ یمن۔۔۔ اسلامی سلطنت کا حصہ بنا۔

بحوالہ۔ تاریخ اسلام ۔ محمد رسول اللہ۔ الرحیق المختوم۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔