اوراق گلگت وچترال۔۔۔ (حصہ دوئم) قسط نمبر1۔۔تحریر:شاہ حسین گہتوی۔۔

 : گرام اور گروم ایک تاریخی جائزہ

گرام سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اس کا معنی بستی یا گاؤں ہے۔ اسے سب سے پہلے آریاؤں نے متعارف کیا تھا۔ تاریخ ہندوستان کے مصنفین غلام رسول مہر اور ان کے ساتھی لکھتے ہیں۔
” آریہ بہت جنگجو اور چُست و چالاک تھے۔ وہ دراز قد اور سفید فام تھے۔ شکار اور رتھوں کی دوڑ کے بہت شوقین تھے۔ بعض ناچ اور گانے کے دلدادہ تھے۔ کبھی کبھی امرت رس بھی پیتے تھے اور جُوا بھی کھیلتے تھے۔ اس زمانے میں بڑے بڑے ہوا دار مکانوں میں رہتے تھے۔ بہت سے مکانات ایک جگہ تعمیر کئے جاتے تھے اور اس آبادی کو گرام یا گاؤں کہتے تھے۔“
تاریخ ہندوستان صفحہ ۴۳
مذکورہ مصنفین ”ویدک زمانے کے آریاؤں کا طرز حکومت“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔
” انہوں نے ابتدا میں بڑے بڑے شہر آباد کرنے کے بجائے دیہات میں رہنا شروع کیا۔ ایک گرام یاگاؤں میں کئی خاندان آباد ہوتے تھے۔ ہر ایک خاندان کا سردار اس خاندان کا بڑا رکن ہوتا تھا۔“ تاریخِ ہندوستان صفحہ ۷۳
مختار علی نئر اپنے مضمون ”پشاور کا تاریخی اور لسانی پس منظر“ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ” اگر غور کیا جائے تو یہ بات ثابت ہے کہ قبل مسیح سے لیکر بعد مسیح تک گندھارا کے علاقے کے مقامات، ان کے نام، لوگوں کے نام وغیرہ، کتبے، تحریریں، عادات اور تاریخی شواہد سب کے سب ہندکو زبان کے معلوم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر بٹ گرام، اوڈی گرام، ہوڈی گرام، بہا گرام، میل گرام، نو گرام وغیرہ۔ عالم میں انتخاب پشاور صفحہ ۸۳
خیبر پختونخواہ کے میدانی علاقوں میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندو آباد تھے۔ ہندکو زبان بھی انہی لوگوں کی تھی۔ جب افغانستان سے مسلمان افعانوں کی آمد ہوئی تو یہ پرانے لوگ کچھ قتل ہوئے اور کچھ پہاڑی علاقوں یعنی مہمند، دیر کہوستان، گلگت اور چترال کی طرف ورود کیے۔ راقم کی تحقیق کے مطابق محمود غزنوی کے حملوں اور یوسفزئی قبائل کے حملوں کی وجہ سے مہاجرت کے واقعات پیش آئے تھے۔ محمد آصف خان نے اپنی کتاب ”تاریخِ ریاست سوات“ میں لکھا ہے کہ ”راجہ گیرا کی شکست اور قتل ہونے کے بعد سوات کے بدھ باشندے جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ بھاگ کر کوہستانوں میں چلے گئے۔“ تاریخِ ریاست سوات صفحہ ۹۳
خیبر پختون خواہ کے علاقوں میں گرام نامی بستیاں:
بٹ گرام، نجی گرام، شاہ گرام، تلی گرام، اوڈی گرام، پجی گرام، دن گرام،کلو گرام، بلو گرام، تازہ گرام، اخگرام، جاٹ گرام، خاگرام، دوشا گرام، نمو گرام، گوٹی گرام، جولا گرام، الا گرام، نوگرام، کافی گرام ، علی گرام وغیرہ۔ محمد آصف خان نے اپنی کتاب ”تاریخِ سوات“ میں لکھا ہے کہ ”ہوڈی گرام ایک گاؤں ہے جو کہ راجہ ہوڈی کے نام پر آباد ہے اور ہوڈی کی یادگاروں میں سے ہے۔ مسلمان حکمرانوں اور مسلمان قوم کی عالی ظرفی ہے کہ عہد قدیم کے ان یادگاروں کے نام تندیل نہیں کئے ہیں۔ اس طرح کے ناموں کے دوسرے گاؤں بھی سوات میں موجود ہیں۔ مثلاً دنگرام، پنجی گرام وغیرہ۔
مقامات کے یہ نام زیادہ تر دیر و سوات میں موجود ہیں۔ کچھ نام مردان کے علاقے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مذکورہ گرام نامی مقامات ”یوسفزئی قوم کی سرگزشت“مصنف خان روشن خان کی کتاب کے حصہ دوئم شجرۂ نسب یوسفزئی کے مختلف صفحات سے اخذ کی گئی ہیں۔
گرام نامی بستیاں کشمیر کے علاقے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ کشمیر اور دیر و سوات کا بھی زمانہ قدیم میں قریبی نسلی، تہذیبی اور مذہبی تعلق رہا ہے۔
چترال کے گرام نامی مشہور بستیاں:
۱۔ تالی گرام کریم آباد
۲۔ لوڑی گرام کریم آباد
۳۔ گرام کریم آباد
۴۔ بریش گرام کریم آباد
۵۔ میژی گرام لوٹ کوہ
۶۔ شوگرام علاقہ موڑکھو
۷۔ زوندران گرام موڑکھو تریچ
۸۔ زور گرام موڑکھو تریچ
۹۔ سری گرام موڑکھو تریچ
۰۱۔ میرا گرام علاقہ مستوج
۱۱۔ میرو گرام گہکیر موڑکھو
پروفیسر اسرارالدین نے چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط۸) میں زونے یا زوند قبیلہ کے عنوان سے لکھا ہے کہ زونے یا زوند قبیلہ مقامی روایات کے مطابق یہاں کا قدیم ترین قبیلہ ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس بستی کا نام بھی انہی کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔
آخون زادہ مرزا فضل بیگ نے اپنی کتاب ”تاریخ اشاعت اسلام چترال“ میں زوند کے متعلق لکھا ہے۔ ”بالائی چترال میں ابتداً کالاشی مذہب کے سردار آباد تھے۔ کیونکہ گرام کالاشی مذہب میں گاؤں کو کہتے ہیں۔ مثلاً شاہ گرام، شوگرام، زوندران گرام اور میرا گرام وغیرہ۔
کالاش شاہ نام کا سردار جس علاقے کو آباد کیا تھا اُس کا نام شاہ گرام موسوم ہوا اور کالاش شو نام کا سردار جس علاقے میں آباد ہوا تھا اُس کا نام شوگرام پڑگیا۔ کالاش زوند نام کا سردار جس علاقے میں آباد ہوا تھا اُس کا نام زوندرانگرام پڑگیا۔
تاریخ اشاعت اسلام چترال صفحہ 91
گرام اور گروم کے متعلق اوپر تاریخ دانوں کے بیانات کوٹ کی گئی ہیں۔ تاہم مختصراً یہاں پھر اس موضوع کوچھیڑنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق بستی یا گاؤں کے لیے گرام کا نام آرین یا ہندو قبائل نے سب سے پہلے استعمال کئے تھے۔ کالاش یا بشگالی قبائل اپنے گاؤں کو گروم (Grom) کہلاتے تھے۔ گرام اور گروم کا فرق گزشتہ صفحات میں بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کرنل جان بڈالف نے اپنے ”قبائلِ ہندوکُش“ میں لکھا ہے۔
“The Frequent occurence of the names of Shoghoor, Shoogram and Shogot, seems to point to the prevalence once of Shivaism, but there are no relics of ancient customs still existing to bearout the presumption that it was practised by any of the Tribes now to be found in the valley.” Page 65
علاقہ موڑکھو پائین کے شوگرام اور علاقہ بالائی موڑکھو زوندران گرام کے چھوٹی بستی شوگہت (Shoogaht) کو کرنل بڈالف نے شیومت (Shavaism)کے آثار میں شمار کیا ہے۔ شوگہت زون کا مسکن تھا جہاں اب بھی اسکی نسل آباد ہیں۔
شوگرام کے علاوہ گہکیر علاقہ موڑکھو کے مقام پر میروگرام ہندوؤں کی مقدس پہاڑ ”میرو“ کو یاد دلاتا ہے۔ سعداللہ جان برق اپنی کتاب ”پشتون اور نسلیات ہندوکُش“ میں لکھا ہے۔ ”لیکن پہاڑ کا ایک اور نام ”میر“ بھی ہوتا ہے جو اکثر ناموں کا حصہ ہوتا ہے جیسے کاش میر، تریچ میر، پامیر، شامیر وغیرہ اور یہ نام غالباً ہندی اساطیر کا وہ نام ہے جسے میرو(Mero) کہتے ہیں۔ میرو کا محل وقوع کہیں بھی نہیں ہے۔“ پشتون اور نسلیات ہندوکُش صفحہ 191
گرام کے متعلق سعد اللہ جان برق اپنی کتاب میں مذید لکھتا ہے۔ ”انسانی معاشرہ جب قبیلوں کی حد سے گزر کر گنوں اور بستیوں تک پہنچا توگاؤں یا بستی کا نام ”گرام“ ہوتا تھا۔اس بستی کے سردار کو گراما پتی کہتے تھے۔“ پشتون اور نسلیات ہندوکُش صفحہ 275
اس کتاب کے ایک اور مقام پر فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ ”ہندی منابع میں اسے گراما پتی، گرام بمعنی گاؤں دور کہا جاتا ہے۔“ پشتون اور نسلیات ہندوکُش صفحہ 363

: گرام اور گروم میں فرق

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ گرام آریائی کلچر اور سنسکرت نام ہے جو اکثر ہندو سرداری نظام کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ گروم (Grom) بشگالی کلچر اور زبان کی نشاندہی کرتا ہے۔
رابرٹ سن اپنی کتاب ”دی کافرز آف دے ہندوکُش“ میں لکھا ہے۔
” The next siah-posh tribe in general and numerircal importance, is the Muman or Madugal Kafirs, who occupy that short tract of country between the Kam and the Katirs of the Bashgal valley. They are collected into three vaillages, and posses also a few hamlets.
The names of the Villages are:-
Begalgrom, or Muman Susku, Mungal
مندرجہ بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ گروم بشگالی زبان میں بستی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ جس طرح مذکورہ بشگالی بستی کے لیے بیگال گروم یعنی بیگال کی بستی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ رابرٹ سن گروم سے بننے والے بستیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔
شاٹیو گروم Shtev grom
کازٹیجی گروم Kstigi grom
پونٹز گروم Pontz grom
سٹ سم گروم Satsum grom
ڈائیو گروم Dio grom
پاسکی گروم Puski grom
(The Kafirs of the Hindukush by Robertsun page 80)
علاقہ موڑکھو تریچ وادی میں دو بستیوں میں آریائی نام گرام اور بشگالی زبان کی گروم مندرجہ ذیل صورتوں میں موجود ہیں۔
زوندران گرام، زور گرام اور سری گرام (وضاحت کے لیے میری کتاب آوراقِ گلگت و چترال ملاحظہ فرمائیے)۔
شاہ گروم: یہ وادیئ تریچ کا آخری گاؤں ہے جو نورستانی یا بشگالی زبان کے لفظ گروم سے مل کر بنا ہے۔
وادیئ تریچ میں گرام اور گروم الگ الگ صورت میں اپنی وضاحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

حوالہ جات /کتابیات

۱۔ تاریخ ہندوستان مصنف غلام رسول مہر
۲۔ دی کافرز آف دے ہندو کُش مصنف رابرٹ سن
۳۔ افعان قبائل مصنف خان روشن خان
۴۔ اوراقِ گلگت و چترال مصنف شاہ حسین گہتوی زوند
۵۔ تاریخِ سوات مصنف محمد آصف خان
۶۔ چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط۸) مصنف پروفیسر اسرار الدین
۷۔ پشتون اور نسلیات ہندوکُش مصنف سعداللہ جان برق
۸۔ تاریخِ اشاعتِ اسلام مصنف اخونزادہ میرزا افضل واحد بیگ

بدھی اور سنگھ لاحقہ

علاقہ گلگت کے قدیم ناموں کے ساتھ سنگھ لاحقہ استعمال ہوتا تھا۔ گلگت کے شین اور دوسرے قبائل جو شینا بولتے تھے اپنے نومولود بچوں کے ناموں کے ساتھ ”سنگھ“ لاحقہ لگاتے تھے۔راقم الحروف کی تحقیق کے مطا بق سنگ لاحقہ بدھی مذہب سے عقیدت کے اظہار کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ تاریخ ہندوستان میں لفظ سنگھ کے متعلق لکھا ہے۔
”بھکشنیں اور بھکشو مختلف گروہوں اور سلسلوں میں تقسیم کئے گئے تھے ان گروہوں یا سلسلوں کو سنگھ کہتے تھے۔ بھکشوں یعنی سنگھ کے ممبروں کی زندگی بسر کرنے کے قوانین بنے ہوتے تھے۔ ہر شخص مرد ہو یا عورت بلا لحاظ فرقہ یا ذات سنگھ میں شامل ہوسکتا تھا بشرطیکہ اس کی عمر پندرہ سال سے زیادہ ہو۔ سنگھ کے ممبر مساوی حقوق رکھتے تھے چاہے وہ کسی بھی فرقہ یا ذات کے ہوں۔ سنگھ کا انتظام جمہوری اصل پر ہوتا تھا اور ہر ایک بات کا فیصلہ کثرت رائے سے کیا جاتا تھا۔“ تاریخِ ہندوستان صفحہ ۶۹ از غلام رسول مہر و دیگرعلاقہ گلگت ایک دفعہ بدھی مذہب کے زیرِ اثر تھا۔ اسی اثر کے تحت شین قبائل اپنے نومولود بچوں کے ناموں کے آکر میں سنگھ لاحقہ لگاتے تھے مثلاً مامو سنگھ، چو سنگھ، مو سنگھ، جو سنگھ وغیرہ۔
ان ناموں کا سکھوں سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ بدھی مذہب سے عقیدت کا اظہار تھا۔ بعد کے زمانے میں ہندوستان کے راجپوت، چھتری، سیکھ بھی سنگھ کا لاحقہ استعمال کرنے لگے۔ لغوی طور پر سنگھ ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی شیر کے ہیں لیکن یہ مذہبی عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا تھا۔
دام لاحقہ اور کافر دور
علاقہ دروش کے قدیم سرداروں کے سکونت گاہوں کے ساتھ لفظ ”دام“ بکثرت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً آزردام، آزاد دام، چکی دام، کُتردام، کاڑدام وغیرہ۔ کہیں چترالی سرداروں کے نام کے ساتھ یہ لفظ استعمال ہوا ہے مثلاً شاپیر دام وغیرہ۔

ڈام لاحقہ

ڈام بشگالی زبان میں گھر، مکان اور مقام کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ عام محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ ”اوا تا ڈامہ نو گوم“ یہ کسی سے ناراضگی کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں آپ کے گھر نہیں آؤنگا۔ لفظ دام اور ڈام کا معنی ایک ہی ہے یعنی گھر یا مقام۔
رابرٹ سن نے اپنی کتاب ”دی کافرز آف دی ہندو کُش“ میں لکھا ہے۔
” All dances on the plateform are known as “Damnut”.”
Page 628
ڈام مقام یا جگہ کے لیے استعمال ہوا ہے اور نٹ بشگالی زبان میں ناچنے کھے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ڈام نٹ یعنی ناچنے کا مقام۔ چترالی یا کہوار زبان میں لفظ ”نٹ“ ناچ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً نٹ دیاؤ اوشوئے، نٹ دویان۔
دام اور ڈام کا معنی ایک ہی ہے۔ دام زیادہ تر جنوبی چترال میں استعمال ہوا ہے اور ڈام کھو علاقے میں بھی استعمال ہوتا تھا۔

گلگت بلتستان پر اسرائیلی اور مصری روایات کے اثرات
گلگت بلتستان اور ورشگوم کے بعض خاندان اپنی نسب کو مصر، شام اور عرب سے ملاتے ہیں اور بعض قبائل اپنی نسب کو شام کے یہودیوں سے جوڑتے ہیں۔
راقم غلام محمد چیف کلرک گلگت اور پروفیسر خالد کشمیری سے اتفاق کرتا ہوں کہ درد اقوام میں ایک قبیلہ بنی اسرائیلی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے قبائل اسی درد قبیلے سے ہمسائیگی کے اثرات قبول کئے جس کی وجہ سے اسرائیلی روایات تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ پروفیسر صاحب لکھتا ہے۔ ”درداغ کون تھا اور دردستان کس وجہ سے ان علاقوں کا نام پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام یہود ا تھا۔ یہودا کا بیٹا ذراع اور ذراع کا بیٹا درداغ تھا۔ درداغ کی ذریت جب گلگت بلتستان میں کوہِ ہندوکُش سے وادیئ کشن گنگا تک آباد ہوئی تو مورثِ اعلیٰ کے نام پر اس کا نام ”دردستان“ پڑگیا جسے قدیم ہندی لٹریچر میں دردیش اور یونانی میں دردُون کا ملک کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا ہے۔ قراقرم صفحہ ۳۹۲
کلاش قبائل کا حائضہ عورت کو ایک الگ جگہ حالت خاص دور ہونے تک رکھنا اور زچہ کو چالیس روز تک الگ مکان پر رکھنا جسے بمطابق محمد پرویش شاہین بحوالۂ کافرستانذانی تک Zanitek کہا جاتا تھا، یہودیوں کا ایجاد کردہ تھا۔ سیرت النبی ﷺ میں سید سلیمان ندوی لکھتا ہے۔ ” یہودیوں کے یہاں یہ بھی دستور تھا کہ جب کوئی عورت ایام سے ہوتی تھی تو اس کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے اور اس کو گھر سے بالکل الگ کر دیتے تھے۔“

سیرت النبی جلدششم صفحہ ۶۵۷
فرعونِ مصر ہر نومولود نرینہ بچے کو قتل کردیا کرتا تھا۔ جب حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو اللہ رب العزت کے حکم پر اُس کی ماں نے ایک بکس بنوائی اور اپنے پیارے بیٹے کو اس میں ڈال کر دریا میں بہادی۔
تاریخِ مسلمانانِ عالم میں لکھا ہے کہ علامہ طبری بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے تین دن آپ کع دودھ پلائی اور چھوٹے دن ایک لکڑی کے صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ صندوق میں اندر کی طرف چمڑا لگا دیا گیا تھا تاکہ پانی بھی نہ پہنچے اور ڈوبے بھی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صندوق بنانے والا فرعون کی قوم سے تھا مگر مسلمان تھا اور اس کا نام حربیل تھا۔ بعض مفسرین اور علماء و اخبار نے دودھ پلانے کی مدت تین ماہ بیان کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ بچے کو بہت عمدہ کپڑے پہنا کر صندوق میں رکھا گیا تھا۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ”جو آگے سناتے ہیں کہ ڈال اس کو صندوق میں پھر اس کو ایک صندوق میں پھر اس کو ڈال دے دریا میں، پھر دریا اس کو کنارے پر اٹھالے۔ اس کو ایک دشمن میرا اور اس کا۔ اور ڈال دی میں تجھ پر محبت اپنی طرف سے اور تاکہ پرورش پائے تو میری آنکھوں کے سامنے“
تاریخِ مسلمانانِ عالم صفحہ ۱۶۲ تا ۲۶۲
جب عرب قبائل حضرت موسیٰؑ کا یہ واقعہ شمالی علاقہ جات میں لائے تو رفتہ رفتہ لوگوں نے حضرت موسیٰؑ کے اس واقعہ کو اپنے راجاؤں سے منسوب کرنا شروع کیا۔ یہ واقعہ گلگت کے کسی تراخانی راجہ کا نہیں ہے بلکہ حضرت موسیٰؑ کا واقعہ ہے اور یہ اللہ رب العزت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
کسی تراخانی نومولود نرینہ کو پیدائش کے بعد اُس کی ماں نے بکس بنواکر دریا میں ڈال دینا، پھر زرگر غڈوش نامی کسی سونے وال کا اس بکس کو دریا سے نکال لینا اور بچے کو زندہ سلامت بکس سے نکلوا کر اس کو پرورش کرنا، پھر بالغ ہونے کے بعد مرغ کا ”بلاس تھم بھٹی“ کی آواز نکالنا اور ایک عام شخص کا مرغ کی زبان سمجھنا اور عوام گلگت کا بلاس جا کر اپنے والیئ عہد کو ڈھونڈ نکالنے کی کہانی سے صرف یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ لوگ بنی اسرائیلی پیعمبر حضرت موسیٰؑ پر ایمان رکھتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ راہِ راست سے بھٹک کر گمراہ ہوگئے اور بالآخر حضرت موسیٰؑ کے واقع کو اپنے مقامی راجاؤں کو کبھی کرک، کبھی سومالک اور کبھی تراخان سے منسوب کرنا شروع کئے۔ اس طرح اپنے راجاؤں کو مافوق الفطرت مقام دلانے کی ناکام کوشش کی۔ راقم کے مطالعہ و تحقیق اور تجربہ کے مطابق تراخانی راجاؤں سے منسوب یہ واقعہ بنی اسرائیلی روایات و واقعات سے ماخوذ ہے۔
مصری روایات
گلگت میں راجہ کو ”را“ کہلاتے تھے۔ یہ ”را“ کا لقب مصر کے بادشاہوں یا فرعون کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ سعداللہ جان برق اپنی کتاب ”پشتون اور نسلیاتِ ہندوکُش“ میں لکھتا ہے۔ ”مصری تاریخ کی ابتداء پہلے خاندان کے فرعون نارمر یامیناس سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد کلوپٹراتک تیس مختلف خاندانوں نے حکومت کی تھی جن میں کل ملا کر کم و بیش پانچ سو بادشاہ گزرے ہیں اور یہ سب کے سب فرعون کہلاتے تھے جو فارا یعنی رب الارباب کے بیٹے کہلاتے تھے کیونکہ مصری پیشوائیت بھی اقتدار کے ثمرات کھاتی تھی اس لیے جو بھی اقتدار پر قابض ہوجاتا تھا اسے جھٹ فارا یعنی رب الارباب، را (Ra) سورج کا بیٹا بنا لیتے تھے حالانکہ فراعین میں کچھ افریقی، کچھ عرب اور کچھ ہیسکسوس اور یونانی یعنی ہند یورپی بھی تھے۔
کرنل جان بڈالف نے اپنی کتاب ”قبائل ہندوکُش“ میں مقپون خاندان کے متعلق لکھا ہے کہ ان کا مورث ابراہیم شاہ مصری مہم جو تھا جو براستہ ہندوستان اسکردو وارد ہوا تھا۔ گلگت کے ”را“ کہلانے والے راجگان مقپونوں کی نسل سے بتایا جاتا ہے۔ مصر کے بادشاہوں کو ”را“ یعنی سورج کا بیٹا کہا جاتا تھا جبکہ بلتستان سے آئے ہوئے راجگان کو بھی ”را“ کہا جاتا تھا۔ لفظ ”را“ کا معنی Webster’s new world dictionary کے صفحہ ۳۹۳ میں یوں لکھا ہے۔
Ra(ra) The sun god and chief god of the ancient Egyptians. Page 393
یہ مصری بادشاہوں کا لقب تھا۔ راقم کے تجزیہ کے مطابق مقپون خاندان کے لوگ گلگت سے اسکردو گئے ہوئے تھے۔ غالباً یہ شین تھے۔ گلگت کے سورج کا بیٹا کہلانے والے حکمرانوں کا لقب ”را“ تھا۔ ان حکمرانوں کے عہد میں ضلع اپر چترال کے بالائی علاقہ کھوت میں نکالی ہوئی ایک مشہور نہر کا نام ”را ژوئی“ (Ra Zhoi)ہے جس کا مطلب راجہ کی نکالی ہوئی نہر ہے۔

راجہ علی شاہ مقپون

راجہ علی شاہ مقپون بلتستان کے مقپون خاندان کا شہزادہ تھاجنہوں نے ورشگوم اور مستوج کے بالائی بستیوں پر دھاوا بول دیا تھا۔ کرنل جان بڈالف راجہ علی شاہ اور ان کے بھائیوں کے حملے اور قبضے کے متعلق لکھتا ہے۔
” The most powerful was Ali Shah, the founder of Rondu Family, who conquered the country to the west ward as far as Chitral, in which places he ruled for twelve years. The bridge over the river Chitral is said to have been constructed by him and planet tree of his planting is still pointed out. Page
کرنل بڈالف کے مذکورہ بیان کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علی شاہ مقپون 1680 کے لگ بھگ علاقہ ورشگوم پر قبضہ کیا تھا۔ اُس وقت ورشگوم کے علاقے چترال بالا کی حدود میں شامل تھے۔DE میک کریکر کی رپورٹ 1883 کے مطابق چترال دو حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک حصہ چترال پائین تھا جس میں علاقہ کھو، چترال اور دروش کے علاقے شامل تھے۔ دوسرا حصہ چترال بالا جس میں ورشگوم اور مستوج کے علاقے تھے۔
علی شاہ مقپون اور ان کے بھائیوں کی فوج بالائی مستوج کے علاقے بروک اور بالیم تک آئے تھے۔ ان کے فوج کے ساتھ ایک شین شاعر بھی تھا جنہوں نے راجہ علی شاہ مقپون اور ان کے بھائیوں کے فوجی کاروائی کو شینا زبان میں نظم کیا تھا۔ 1905 ء میں غلام محمد چیف کلرک گلگت اپنی کتاب ”دی فیسٹول اینڈ فاک لور آف گلگت“ میں اُس شینا زبان کے نظم کو انگیریزی میں ترجمہ کیا ہے۔
پہلے بند میں لکھا ہے
O (countrymen) the sons, the sons of Makpon, three brothers, have pitched their shining tent beside the rippling pond below.
ترجمہ: اے ہم وطنو! تین بیٹے، مقپون کے تین بیٹے، تین بھائیوں نے اپنے چمکدار خیمے لہریں مارتی ہوئی جھیل کے قریب نصب کردئیے۔
سیاق و سباق بتاتا ہے کہ مقپون فوج جھیل شندور کے نزدیک خیمہ زن ہوئے تھے۔
دوسرا بند
O (countrymen) Sher Shah, Ali Shah and Murad three brothers, have conquered Brook, Balim and the women of the places are weeping.
ترجمہ: اے ہم وطنو! شیر شاہ، علی شاہ اور مراد خان تینوں بھائیوں نے بروک اور بالیم کو فتح کئے اور ان علاقوں کی عورتیں رو رہی ہیں۔
جھیل شندور کے نزدیک خیمہ زن مقپون فوج اپنے قیام کے دوران حصول خوراک کے لیے بروک اور بالیم جیسے دو بستیوں پر حملہ کئے تھے۔ اس بند میں اس واقع کا ذکر ہے اور اسے فتح قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور بند میں شین شاعر یوں کہتا ہے۔
O (countrymen) Sher Shah, Ali Shah and Murad Khan three brothers, have defamed the name of Shah Katoor and have distributed many goats.
ترجمہ: اے ہم وطنو! شیر شاہ، علی شاہ اور مراد خان تینوں بھائیوں نے ملک کٹور کے بادشاہ کو بدنام کیا اور کئی بکریاں آپس میں تقسیم کیں۔
اس بند سے معلوم ہوتا ہے کہ بلتستانی فوج کے آدمیوں نے کٹور ریاست کے اندر داخل ہوکر بالیم اور بروک کے بستیوں پر ڈاکہ ڈال کر بکریاں اپنے قبضے میں کرلئے تھے اور انھیں آپس میں بانٹ کر انھیں بہت بڑا فتح قرار دیا تھا۔ یہی مقپون فوج بروک سے بالیم جانے کے لیے ایک عارضی پُل دریائے لاسپور پر باندھا تھا تاکہ بالیم سے زیادہ زیادہ بکریاں ہاتھ آسکیں۔ شین شاعر نے اس واقع کو یوں نظم کیا ہے۔
O (countrymen) Sher Shah, Ali Shah and shah Murad, three brothers, have made a bridge over the blue river below.
ترجمہ: اے ہم وطنو! شیر شاہ، علی شاہ اور شاہ مراد تینوں بھائیوں نے نیلے دریا پر پُل باندھا۔
شین شاعر نے جس دریا کو نیلا دریا کہا ہے یہ دریائے لاسپور ہے۔ دریائے چترال نیلے رنگ کا نہیں ہے۔ بمباغ کے مقام پر جب دریائے کھو دریائے مستوج سے جا ملتا ہے تو دریائے مستوج نیلے رنگ کا نہیں رہتا بلکہ بھورے رنگ میں تبدیل ہوجاتا ہے کیونکہ علاقہ کھو میں زمین کی کٹاؤ کی وجہ سے دریا مٹی سے آلودہ ہوکر بھورے رنگ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
مذکورہ شینا لوک گیت کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علی شاہ اور ان کے بھائیوں نے نہ چترال کو فتح کیا تھا اور نہ ہی دریائے چترال یعنی چیوپُل کی تعمیر کی تھی۔ یہ چیو پُل سومالک ثانی کا سسر چیوسنگھ نامی ایک راجہ نے تعمیر کیا تھا۔
شین شاعر نے بروک اور بالیم جیسے دو گاؤں پر جھیل شندور میں خیمہ زن راجہ علی شاہ کے آدمیوں کی خوراک کا انتظام کرنے کے لیے جو حملہ ہوا تھا اُسے مبالغہ آمیزی سے بیان کیا ہے۔ نیز بروک سے بالیم جانے کے لیے عارضی پُل جسکو چترالی زبان میں ”بونڈ“ Bond کہلاتے ہیں، کی تعیر کو دریائے چترال کے اوپر پُل سے تعبیر کیا ہے حالانکہ بستیوں پر ڈاکہ ڈالنا قابل مذمت واقعہ ہے۔
علی شاہ اور ان کے بھائیوں کا علاقہ ورشگوم پر حملہ شاہ رئیس بن شاہ بابر کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ شاہ رئیس کے وقت مراد خان اور ان کے بھائی ورشی گھوم پر قبضہ نہ کرسکے تھے۔

گال لاحقہ

دجلہ و فرات کے درمیانی علاقہ سے ہند آیا ہوا ایک گروہ جو 1500 قبل مسیح کے لگ بھگ ہند وارد ہوئے تھے اپنے مسکن کو گال لاحقہ سے ظاہر کرتے تھے۔ گال کا مطلب مقام، ملک یا بستی تھا۔ راقم کے مطابق بعض اوقات گال کی ”ل“ ”ڑ“ میں تبدیل ہوکر گڑھ بنا۔ شاید چترالی زبان کا گاڑو جو قطعۂ زمین کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی گال کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔
سعداللہ جان برق کے مطابق دجلہ و فرات کے درمیانی علاقہ کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام لوگال ذگیزی Logal Zagezi تھا جو 2600 تا 2500 قبل مسیح کے درمیان مذکورہ علاقے کا حکمران تھا۔
تاریخی واقعات سے قیاس کیا جاتا ہے کہ ان قبائل کا کوئی گروہ ہند آئے ہوں گے۔ مذکورہ قبائل کا ہند میں ورود ۰۰۵۱ قبل مسیح کے لگ بھگ قیاس کیا سکتاہے۔ یہ قبائل نہ صرف ہند کے دور دراز علاقوں میں اپنے اثرات چھوڑے بلکہ سعداللہ جان کے مطابق فانس کا قدیم نام بھی گال تھا۔ پُرت گال کا نام بھی اسی گال سے مل کربنا ہوا بتایا جاتا ہے۔ ہند کے علاقوں میں بنگال، مہمند کا راج گال، دیر کہوستان کا شیرین گال انہی قبائل کے اثرات ہیں۔یہ طبقہ اپنے مسکن یا بستی کو گال لاحقہ سے ظاہر کرتے تھے۔
جب اس گروہ کے لوگ بشگال موجودہ نورستان میں وارد ہوئے تو انہوں نے اپنے بستیوں کو مندرجہ ذیل نام دیے۔ بش گال، منڈو گال، مددو گال، وائی گال، پریسون گال، اسکوری گال، شیر گال، اولا گال، پیٹی گال،بری گال اور باڑ گال وغیرہ۔
چترال میں مذکورہ گروہ کے اثرات جشتان گال، ڈھونڈی گال، کولی گال (دامیل)، مروئے گال (پرواک) میں پائے جاتے ہیں۔ علاقہ گلگت میں بری گال، سمیگال(داریل) اسی مناسبت سے رکھے گئے نام معلوم ہوتے ہیں۔ گلگت کے ایک قدیم حکمران کا نام بھی بری گال تھا۔ شاید اسی بری گال بادشاہ کا وطن اصلی بش گال موجودہ نورستان کا علاقہ بری گال ہو۔ شینا لوک گیت کے ایک بند میں بری گال کا تذکرہ یوں کی گئی ہے۔
Thoki loozham barigul yao
Thoki loozhan jet minyoikina di yen
Thoki loozhan aki meenam
ترجمہ: یہ بری گال کا ہے۔ یہ ہار کسی کو بھی پیرونے نہیں دوں گی۔ یہ ہار میں خود پیروں گی۔
تاریخِ اقوام ِ دردستان و بلورستان صفحہ ۰۰۳
مذکورہ اثرات سے یوں لگتا ہے کہ لفظ گال عراق سے سفر کرتا ہوا بنگال، خیبر پختونخوا کے مہمند، دیر، چترال، گلگت اور افغانستان کے صوبہ نورستان تک پھیل گیا تھا۔یہ لفظ اُس گروہ کے وطنِ اصلی پر بھی روشنی ڈالتا ہے جو خود کو عرب کہلاتے ہیں۔ اس گروہ کا ہند سے ہوکر آنے کا ایک اور لفظ بھی شہادت دیتا ہے۔ اس گروہ کے لوگ گال کے علاوہ اپنے مسکن کو دیش بھی کہلاتے تھے جس طرح اتر پردیش وغیرہ۔ نورستان میں کام دیش، گیر دیش، مل دیش،بیرم دیش اور امیشن دیش جیسے نام پائے جاتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔