چترال کی ترقی کے سوا ان کا کوئی ایجنڈا نہیں۔سینیٹر طلحہ محمود کا پروگرام “مہراکہ”میں اظہار خیال

چترال (چترال ایکسپریس) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی قائد اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے1چترال کے امیدوار سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ اگر حکومت کے وسائل کو درست انداز اور دیانت دارانہ طور پر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر کے کرپشن اور بدانتظامی کا راستہ روک لیا جائے تو سڑکوں، پلوں، ابنوشی اور ابپاشی، صحت اور تعلیم کے سیکٹر ز میں کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا اوراب تک سرکاری خزانہ درست خرچ کیا جاتاتو آج پاکستان ترقی و خوشحالی کے میدان میں کہاں سے کہاں پہنچ چکاہوتا۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب کے پروگرام “مہراکہ”میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نےبحیثیت رکن پارلیمنٹ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے حکومت سے ایک پائی بھی تنخواہ اور دوسرے مراعات وصول نہیں کیا کیونکہ میرا مطمع نظر یہی رہا ہے کہ قومی خزانے کا ایک ایک پیسہ قوم کی فلاح وبہبود پر خرچ ہوجائے اور میرا سیاست میں آنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ سینیٹر طلحہ محمود نے واضح کیا کہ اگر چترال کے عوام نے الیکشن میں ان پر اعتمادکا اظہار کیاتو چترال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے یوتھ پر زور دیاکہ وہ ان کا دست وبازو بنے کیونکہ یوتھ ہی ان کا سرمایہ ہے اور چترال کو ترقی کے لحاظ سے پوری ملک کے لئے مثال بنانے میں ان کا معاون بنے اور جس چیلنج کو اس نے قبول کیا ہے، اسے پورا کرنے میں ان کی مدد ناگزیر ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ علاقے کی ترقی کے سوا ان کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ چترال کی ترقی میں سر آغا خان نے جو کام کیا ہے، وہ اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ بھی غربت اور پسماندگی کے خلاف جہاد کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے جس کے لئے وہ اپنا مقام پہچان لے نیکی وبدی میں واضح فرق کرنا سیکھ لے تاکہ تاکہ وہ ہمیشہ حق کا ساتھ دے اوریہی کامیابی کا راستہ ہے جوکہ آخرکارامت مسلمہ کی کامیابی وکامرانی کا ضامن ثابت ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ الیکشن میں سب کو لیول پلئینگ فیلڈ ملنا چاہئے تاکہ الیکشن کی کریڈیبیلیٹی پر حرف نہآئے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ چترال کے عوام کی طرف سے انہیں ملنے والی محبت کو سامنے رکھتے ہوئے وہ دو حلقوں سے کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں اسی حلقے کو ترجیح دیں گے۔ اس موقع پر جے یو آئی کے مقامی رہنما مولانا عبدالرحمن، حافظ انعام میمن اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 2کے امیدوار مولانا فیض محمد مقصود بھی موجود تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔