دادبیداد…پرو پیگینڈااور حقیقت…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

جنو بی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلا ف نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا ہے فلسطینی شہر عزہ پر اسرائیلی حملوں کو 100دن ہوگئے ہیں تین مہینوں سے زیادہ عرصہ تک جاری رہنے والی جنگ میں نیا موڑ آج آیا جب امریکی طیاروں نے یمن پر فضا ئی بمباری کر کے فلسطینیوں کے خلاف جنگ کا دائرہ دوسرے مسلمان ملکوں تک پھیلا دیا ذرائع ابلا غ میں آنے والے اعداد وشمار کے مطا بق اس جنگ کے دوران اسرائیلی اور امریکی فوج نے روزانہ 250مسلمانوں کو شہید کیا ہے ان میں 15ہزار بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں زحمی اور معذور ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 50ہزار ہے ہسپتالوں، سکولوں کا لجوں اور مسجدوں کی عماتوں کو گرانے کا کوئی حساب نہیں،غزہ کا ہنستا بستا شہر کھنڈر بن چکا ہے تازہ خبر یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں جنو بی افریقہ کی درخواست پر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی (Genocide) کا مقدمہ چلا یا جا ئے گا ہمیں معلوم ہے کہ اس مقدمے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ عالمی عدالت انصاف میں سب کچھ ہے انصاف نہیں پشاور کے شاعر خا طر غز نوی کا مشہور شعر ہے گو ذراسی بات پر برسوں کے یا رانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے غزہ میں 100دنوں کی جنگ میں نہتے مسلمانوں پر اسرائیلی اور امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے ہونے والی تباہی نے مغربی اقوام کے باربار دہرائے گئے پرو پیگنڈے کا پول کھول دیا ہے ہماری بے شمار غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا ہے ہم تیسری دنیا کے لوگ، جنوبی ایشیا کے باشندے اور خصوصی طور پر مسلمان عوام و خواص مغربی اقوام کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں کا شکار تھے ہم نے اس پروپگینڈے کو مان لیا تھا کہ مغربی اقوام میں انسان دوستی پائی جا تی ہے، جمہوریت کا بڑا چر چا ہے، انصاف کا بڑا نام ہے، مسا وات کی بڑی دھوم ہے غزہ کی 100روزہ جنگ نے ثا بت کر دیا کہ یہ تمام مفروضے غلط تھے یہ جھوٹا پرو پیگنڈا تھا جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے مغربی اقوام کا ہر پرو پیگنڈا ہاتھی کے دانت کی طرح دوغلے پن سے بھر پور ہے یعنی کھا نے کے اور دکھا نے کے اور، مثلاً جمہوریت کا جو ڈھنڈورا پیٹا جا تا ہے وہ سب فراڈہے اقوام متحدہ کی سلا متی کونسل میں جنگ بندی کی 5قرار دادوں کو امریکہ نے ویٹو کر دیا 14مما لک ہار گئے ایک ملک جیت گیا اور جمہوریت کا پر چم ہمیشہ کی طرح سرنگو ں ہوا واضح پیغام ایک بار پھر آگیا کہ امریکہ اور یورپی یونین والے جمہور یت پر یقین نہیں رکھتے جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ سب جھوٹ ہے انسان دوستی اور انسانی حقوق کے حوالے سے مغربی اقوام کے تمام دعوے غزہ کی جنگ میں زمین بوس ہوئے سوات میں ملا لہ یو سفزئی پر ہونے والی فائرنگ کو مسلمانوں کے خلا ف استعمال کر نے والی مغر بی میڈیا کو غزہ میں 15ہزار معصوم بچوں اور بچیوں کا قتل عام100دنوں میں نظر نہیں آیا پس معلوم ہوا کہ انسان دوستی اور انسا نی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ بھی جھوٹا ہے، یہ بھی فراڈ ہے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے اس جھوٹ کا پردہ جتنا غزہ میں چاک ہوا پہلے اس شدت سے چاک نہیں ہوا تھا اس طرح مغرب میں انصاف کی بات کی جا تی ہے جسٹس کہا جا تا ہے لیکن 100دنوں کی جنگ میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور یورپی یونین نے ایک دن بھی انصاف کا نا م نہیں لیا ثا بت یہ ہوا کہ انصاف کا نا م نہیں لیا ثا بت یہ ہوا کہ انصاف کا نا م لیکر جو پرو پیگنڈا کیا جا تا ہے وہ بھی سراسر جھوٹ ہے یہی حال مساوات کا ہے امریکہ اور یورپی یونین کے ذرائع ابلا غ مساوات کا نا م لیتے نہیں تھکتے مگر غزہ کی جنگ نے ثابت کیا کہ امریکہ نے اسرائیلی بلّی کو فلسطینی بچی پر سو بار فوقیت دی وہ ہزار فلسطینی بچوں اور بچیوں کو ایک اسرائیلی کے برابر نہیں سمجھتے مساوات کے تابوت میں یہ آخری کیل تھی جو غزہ میں ٹھو نکی گئی پھر بھی ما یوسی کفر ہے اب ہماری نظر عالمی عدالت انصاف پر ہے نسل کشی کا جرم ثابت ہونے کے بعدICJکیا کر تی ہے اب ہم اس پر کڑی نظر رکھینگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔