* عرب ریاستیں۔۔۔۔ اور شہر مکہ* (23)*تحریر۔۔ شہزادہ مبشرالملک*

*شاہ حییرہ* ۔

عراق اور اس کے نواح میں ۔۔۔( سارس اعظم۔ذالقرنین۔کوریش کبیر)557ء ق م۔۔سے اہل فارس کی حکمرانی چلی ارہی تھی۔۔۔سنکدر مقدونی ۔۔۔ دارا اول کو شکست دیا تو ایران ٹکݱوں میں بٹ گیا۔
قحطاءی قبایل ہجرت کرکے عراق آگئے۔
226ء میں۔۔۔ ارد شیر۔۔۔بادشاہ نے ایرانیوں کو متحد کیا۔اور سلطنت پھلا دیں۔پھر ۔۔۔قباد۔۔۔نوشیروان کی مدد سے حیرہ میں حکمران بنتے اور بدلتے رہے۔یہاں تک کہ شاہ ایران نے نعمان کو قید کرکے ایاس بن قبیصہ کو حیرہ کا حاکم مقرر کیا۔ مگر نعمان کے حمایتوں اور ایرانیوں کے مابین جنگ میں ایرانی شکست سے دوچار ہوئے پہلی بار ۔۔۔ عرب فتح ۔۔۔ سے ہمکنار ہوئے اور یہ واقعہ ۔۔۔۔حضور ؐ ۔۔۔ کی پیدایش کے چند دنوں بعد ہوئی۔ایاس کے بعد کسری نے منذر کو حیرہ کا حاکم بنایا ہی تھا کہ ۔۔۔۔حضرت خالد ؓ۔۔۔۔ کے ہاتھوں حیرہ فتح ہوا۔

*شاہ شام۔*

رومیوں نے آل غسان کو شام میں عربوں کا بادشاہ بنایا تھا۔۔۔دومتہ الجندل پایہ تخت بنا۔دور فاروقی میں اسلامی قلم رو کا حصہ بنے۔

*حجاز مقدس* ۔

مکہ کی آبادی حضرت اسماعیل علیہ سلام سے پھیلی آپ کے صاحبزداگان نابت اور قیدار  مکہ کے والی بنے۔ان کے بعد ان کے نا نا مضاض بن عمرو جرہمی یہاں کے والی وارث بنے۔اور بنی اسماعیل گوشہ گمنامی میں چلی گءی۔ وقت کے ساتھ بنو عدنان کا ستارہ چمکا۔ بخت نصر نے حملہ کیا تو بنو عدنان بھک کر یمن چلے گءے۔۔۔۔ بنو اسرایل کے نبی حضرت یرمیاہؑ نے عدنان کے بیٹے معد کو لیکر شام گءے ۔بخت نصر کا دور ختم ہوا تو تو ۔۔۔ معد۔۔۔ دوبارہ مکہ آئے اور بنو جرہم کے واحد شخص ۔۔۔ جرشم بن جلہمہ  کی بیٹی سے نکاح کی۔اس کے بطن سے  نزار۔پیدا ہوے۔ جرہم کی سرکشی اور کعبہ کی تقدس کی پامالی کی وجہ سےبنو عدنان۔ بنو خزاعہ۔۔۔۔ نے مل کر جرہم کو مکہ سے نکال دیا جاتے جاتے وہ ۔۔۔زم زم۔۔۔کا کنواں بھی نابود کر گئےحجر اسود بھی نکال کر کنواں میں دفنا گئے۔یوں جرہم کادو ہزار سالہ اقتدار ختم ہوا۔
بنوخزاعہ نے مکہ میں حکومت قائم کی اہم زمہ داری ۔۔۔بنو مضر ۔۔۔کو دیے۔ان میں حاجیوں کے معاملات۔ حرام مہینوں اگے پیچھے کرنے کی ذم داری شامل تھے۔
بنو خزاعہ۔۔۔ کی اقتدار تین سو سال رہی۔اسی زمانہ میں۔۔۔ عدنانی۔۔قبایل مکہ سے نکل کر عرب بھر میں پھیل گیے۔ مکہ میں صرف قریش کی چند شاخیں رہ گییں باقی خانہ بدوشی اختیار گیں۔
حضور اقدس نے فرمایا ۔۔۔حق تعالی نے حضرت ابراہیم ؑؑ کی اولاد میں حضرت اسمعیل ؑ کو برگزیدہ کیا پھر ان کی اولاد میں بنو کنانہ کو اور کنانہ سے قریش کو منتخب کیا اور قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم سے مجھے منتخب کیا۔

*معد بن عدنان* ۔۔

جو حضرت اسمعیل ؑ کی نسل سے تھے۔۔۔ عربوں کے مورث اعلی ہیں بنو اسمعیل کے خلاف میدانی جنگوں کے ہیرو رہے ہیں۔

*نزار۔۔۔*

اپنے دور میں حسن جمال۔دانش۔میں بے مثال شہرت حاصل کی۔

*مضر* ۔

یہ بھی عقل دانش اور خوش الحان تھے۔حدی خوانی کا اغا ز انہوں نے ہی کیا۔

*الیاس* ۔۔۔

کو قوم کا لقمان حکیم کہا جاتا تھا۔ان کے بہت سے اقوال مشہور ہوءے۔۔۔ جو شخص شر کا تخم بوے گا ۔۔ندامت کا پھل کاٹے گا۔۔۔جسے اقوال زرین شامل ہیں۔

*فہر* ۔

ان کا لقب قریش تھا۔ اس سے اوپر والے ۔۔۔ کنانی۔۔۔ کہلاتے ہیں۔بہت سخی ۔اور کریم نفس انسان تھے۔

*کعب* ۔

جمہ جو عرب کا قومی دن تھا لوگ اپ کے پاس جمع ہوجاتے اور اپ انہیں پندو نصاءح کرتے اور اخری بنی کا بتاتے کہ وہ میری اولاد میں سے ہوں گے۔اور تم ان کی اتباع کرنا۔

ّ *مرّہ* ۔۔

حضوراقدس۔ ابوبکر۔امام مالک شجرہ انہی ۔۔۔مرہ ۔۔۔میں جا ملتا ہے۔

*کلاب* ۔۔۔

نام حکیم۔لقب کلاب شکار اور شکاری کتے پالنا ان کا مشغلہ رہا اسی نے عربی مہینوں کے نام رکھے تھے۔حضور کی والدہ اور والد کا شجرہ انہی میں اکر ملتا ہے۔

*قصی بن کلاب* ۔۔۔

نے مکہ کے والی حلیل کی بیٹی سے شادی ۔جب حلیل کا انتقال ہوا تو بیت اللہ کی تولیت کے لیے بنو خزاعہ اور قریش کے درمیاں جنگ ہوی اور ۔۔۔ قضی۔۔ کا اقتدار قایم ہوا۔طویل جنگ و جدال اور مشکلات اور باہمی اختلافات کو احسن طریقے سے نبہانے کے بعد ۔۔۔ قصی۔۔۔ چند ایسے اقدامات کیے جو تاریخ میں تابندہ رہے۔

# *دارالندواہ کا قیام* ۔۔

اسے پارلمنٹ کی حیثیت حاصل تھی جہاں بڑے بڑے فیصلے مشاورت سے طے ہوتے۔

# *لوا* ۔

پرچم جنگ قصی کے ہاتھوں میں باندھا جاتا۔

# *حجابت* ۔

خانہ کعبہ کی چابیان قصی کے پاس ہوتے وہی ۔۔۔کلید بردار۔۔۔۔ کی حیثیت سے کعبہ کی پاسبانی کرتے۔

# *سقایہ* ۔

حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہداری زم زم میں کشمش اور کھجور ملا کر زایرین حرم کو پیش کیا جاتا۔ رمضان میں اب بھی عرب اس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

# *رفادہ* ۔

حاجیوں کی ضیافت کا انتظام ہوتا خصوصآآ ضرورت مند حجاج کی۔

قصی کے دو بیٹے ۔۔۔ عبدالدار۔۔۔۔ عبدالمناف۔ قصی کے بعد یہ سب اعزازات عبدالدار
کے پاس رہے۔ عبدالمناف کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں اور عبدالدار کے بیٹوں کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر لی اور لڑاءی کے بعد۔۔۔۔ سقایت اوراور رفادہ کے ادارے ۔۔۔ بنو مناف۔۔۔ کے حصے میں آءے۔باقیہ ادارے بنو عبدالدار کے پاس رہے۔ بنو مناف کی زمہ داریاں قرعے ڈالنے پر ان کے بیٹے۔۔۔۔ ہاشم ۔۔۔ کے حصے میں ایا تو وہی اس کے زمہ دار ٹھرے۔ہاشم کے بعد ان کے بھاءی مطلب۔۔۔جانشین بنے پھر ان کے فرزند عبدالمطالب نے یہ عہدہ سنبھال لیا۔ پھر ابو طالب دور اسلامی میں یہ منصب حضور اقدس نے حضرت عباس ؓ کو عنایت کی۔ مکہ کی اس چھوٹی سی حکومت میں کچھ اور بھی عہدے تھے جو ان لوگوں کے سپرد تھے

# *ایسار* ۔

فال گیری۔۔۔۔ بنو جمح کے پاس۔

# *مالیات* ۔

نزرانے۔۔ قربانیاں۔۔مقدمات۔۔۔۔ بنو سہم کے پاس تھے۔

# *شوری* ۔

یہ اعزاز بنو اسد کو حاصل تھا۔

# *اشناق* ۔

دیت جرمانے۔یہ منصب بنو تیم کے پاس تھے۔

# *عقاب* ۔۔۔

قومی پرچم کی علمداری بنو امیہ کے پاس تھی۔

# *قبہ* ۔۔۔۔

دفاع فوج۔شہسواروں کی قیادت بنو مخزوم کی ذمہداری تھی۔

# *سفارت* ۔۔۔

بنو عدی کا منصب تھا۔
شاہوں کے نزدیک بسنے والے قبایل اور ان کے سردار شاہ وں کے تابع تھے مگر آذاد خانہ بدوش سردار اپنے قبیلوں کے ۔۔۔۔ ڈکیٹٹر تصور کیے جاتے تھے ان کے ایک اشارے سے ہزاروں تلواریں بے نیام ہوجاتیں۔

بحوالہ۔ تاریخ اسلام ۔الرحیق المختوم ۔محمد رسول اللہ۔ بخاری شریف

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔