چترال کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے دشمنوں کی شکایت پر ہمارا دفتر سیل کر دیا گیا۔سینیٹر طلحہ محمود

آپرچترال (ذاکر محمد زخمی)جن لوگوں کو چترال کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی سے دشمنی ہے ۔ ان کی شکایت پر آج ہمارا دفتر سیل کر دیا گیا۔اپ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ لوگ کون ہیں۔سیٹیر طلحہ محمود نامزد امیدوار این اے 1 چترال اپر لوئیر کا بونی میں جلسے سے خطاب ۔
جمیعت علماء اسلام کے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی این اے ون منگل کے روز ایک بڑی ریلی کے ساتھ انتخابی مہم کے سلسلے میں اپر چترال داخل ہوا تو موڑکھؤ کے ہیڈ کوارٹر میں ان کے لئے ایک شاندار جلسہ منعقد کیاگیا۔ بعد میں ریلی کی صورت میں اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی پہنچ کرفیتہ کاٹ کرالیکشن آفس کا افتتاح کیا ۔اس موقع پر سابق ایم پی اے مولانا عبد الرحمن ،سابق ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن ،نامزد امیدوار جمیعت علماء اسلام پی کے 2 حاجی شکیل احمد ،جمیعت کے ضلعی زمہ دراں اور تمام حلقہ جات کے امراء کارکناں موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نامزد امیدوار برائے قومی اسمبلی این اے 1 چترال سینیٹر محمد طلحہ محمود نے  اپر چترال کے کارکناں اور عوام کی طرف سے بڑی تعداد میں ریلی کی صورت میں  ان کا استقبال کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا  شکر گزار ہوں انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام نے مجھے خوش امدید کہا اور بھر پور انداز میں موڑکھؤ اور بونی کے جلسے میں شرکت کرکے مجھ سے محت کا اظہار کیا۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ چترال کے حلقے سے الیکشن لڑنے کا مقصد علاقے کی تعمیر و ترقی،خوشحالی اور لوگوں کے زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔ظاہر ہے کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔اور اس میں روکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اج ہمارا دفتر بند کیا گیا اور کہا گیا کہ آپ لوگوں کی خدمت کیوں کرتے ہو۔ آپ کے خلاف شکایت کی گئی ہے۔شکایت میں کہا گیا کہ لوگوں کے زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے 200 سینٹر بنا رہے ہو جہاں دستکاری سنٹر اور ہنر سکھائے جائینگے۔ کہا گیا کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے نوجونوں کو کیٹس دیے جا رہے انہیں بند کیا جائے۔یہ تمام شکایتیں محمد طلحہ محمود فاونڈیشن کو بنیاد بنا کر کی گئی کہ طلحہ محمود فاونڈیشن خدمت کیوں کر رہا ہے۔

انہوں نے اس کی مزمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ میں نے جنرل الیکشن 2024 یعنی 8 فروری تک خود کو محمد طلحہ محمود فاونڈیشن سے علحیدہ کیا ہے ۔سنیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اس بات سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو نہیں چاہتے ہیں کہ چترال میں ترقی ہو،خوشحالی ہو ،غربت کا خاتمہ ہو۔شاہراہیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال 76 سال گزرنے کے باوجود پاکستان کے تمام ضلعوں سے پاسماندہ ہے۔یہ قصور عوام کا نہیں ان لوگوں کا ہے جو 76 سال ان کے ووٹ کے طاقت سے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ۔اور تعمیر و ترقی میں کردار ادا نہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ میں نے تہیہ کیا ہواہےکہ چترال کو ترقی دیکر مثالی ضلعوں کے فہرست میں شامل کروں۔طلحہ محمود نے کہا کہ چترال کے نسبت کوہستان سے الیکشن لڑنا ہر لحاظ سے میرے لیے آسان تھا۔لیکن چترال آکر جو محبت ،اخلاص اور وفادری کا مجھے اندازہ ہوا تو میں نے فیصلہ کیا کہ چترال سے انتخابات لڑ کر تعمیر و ترقی میں کردار ادا کروں۔ انہوں نے کہا چترال میرے لیے کوئی اجنبی علاقہ نہیں ۔ میں کویڈ کے دوران اور دوسرے موقعوں پر بھی چترال اچکا ہوں۔اس وقت آپ کی محبت کی وجہ سے چترال کو اپنا مسکن بنانے کافیصلہ کیا ہے اب چترال کے گاوں جغور میرا گھر ہوگا۔ اس کا دروازہ آپ تمام کے لیے کھلا رہیگا ۔اور جو لوگ یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ میں الیکشن کے بعد چترال سے بھاگ جاونگا ان کے لیے پیغام ہے کہ میں پوری ایمانداری، محبت اور اخلاص کے ساتھ چترال کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر وقت موجود ہونگا۔مخالفیں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مقابلہ کرنا جانتا ہوں میں نے اپنا ٹھکانہ چترال میں بنا لیا ہے اب آپ کاہر حربہ کامیاب ہونے والا نہیں۔ چترال کے سرزمین میں رہ کر ہی مسائل حل کرونگا۔انہوں جمیعت سیمت تمام پارٹی کے کارکنوں سے کہا کہ مجھے کامیاب کریں۔ تاکہ اسلام اباد سےآپ کے تمام حقوق چھین کے لاسکوں۔انہوں نے کہا کہ گندم کی سبسیڈی کا حل نکالا جائیگا۔ انہوں نے متنبہ کیاکہ اگر کسی نے الیکشن میں ہیرا پھری کی کوشش کی تو وہ بچ نہیں پائیگا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ 8 فروری کا سورج  جمعیت علماء اسلام کی کامیابی کے نوید کے ساتھ طلوع ہو گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔