داد بیداد۔۔۔ڈاکٹر وں کی کمی کا مسئلہ۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

محکمہ صحت خیبر پختو نخوا نے صوبے میں ڈاکٹر وں کی کمی کا مسئلہ حل کرنے ا ور ڈاکٹروں کی بڑی تعداد کو بیرون ملک بھیج کر زر مبا دلہ کما نے کے لئے صو بے کے میڈیکل کا لجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی سیٹوں میں اضا فہ کرنے کی منظوری دی ہے یہ ایک مثبت قدم ہے اس کے بہتر اور دور رس نتائج برآمد ہونگے لیکن مقطع میں سخن گسترانہ بات یوں آپڑی کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے اس تجویز سے اب تک اتفاق نہیں کیا محکمہ صحت نے اس سلسلے میں بڑی محنت سے ایک خا کہ پیش کر کے اپنی ضروریا ت کو پوری کرنے کا منصو بہ دیا ہے صو بائی حکومت کا موقف یہ ہے کہ دنیا میں ابادی کے تنا سب سے ڈاکٹر وں کی فراہمی کا ایک معیار ہے جس کی رو سے ہزار نفوس کی ابا دی کے لئے کم از کم ایک ڈاکٹر دستیاب ہونا چا ہئیے اس معیار کو عالمی ادارہ صحت (WHO) نے جا ری کیا ہے عالمی سطح پر ڈاکٹروں کی دستیا بی کے لحاظ سے کیو با سب سے آگے ہے جہاں ہزار کی ابادی کے لئے 3ڈاکٹر ہوتے ہیں اس کے بعد سویڈن ہے جہا ں ایک ہزار آبادی کو دو ڈاکٹر دستیاب ہوتے ہیں پا کستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے جاری کر دہ اعداد و شمار کے مطا بق ملک میں پی ایم ڈی سی کے ساتھ رجسٹرڈ ڈاکٹر وں کی تعداد دو لا کھ 75ہزار ہے گو یا 23کروڑ کی آبا دی میں 10ہزار نفوس کے لئے ایک ڈاکٹر ملتا ہے خیبر پختونخوا میں یہ شرح مذ ید کم ہے یہاں 16ہزار کی آبادی کے لئے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے صو بائی حکومت نے دیکھا کہ صوبے کے 12نجی اور 10سرکاری میڈیکل کا لجوں میں داخلے کے لئے سیٹوں کی کل تعداد 1275ہے جو صوبے کی ضروریات کے لئے نا کا فی ہے، اس وجہ سے صو بائی حکومت نے 5بڑے سرکاری میڈیکل کا لجوں میں 510سیٹوں کا اضا فہ کیا اور 12نجی میڈیکل کا لجوں کے لئے 545اضا فی سیٹوں کی منظوری دے دی اس طرح ہر سال 1055مزید طالب علم میڈیکل کا لجوں میں داخلہ لے سکینگے اور 5سال بعد ہمارے طبی تدریسی اداروں سے ہر سال ایک ہزار 55نو جوان ڈاکٹر بن کر آئینگے اس طرح ہر سال ان سیٹوں میں مزید اضا فہ ہو گا اور مزید نو جوانوں کو میڈیکل کی تعلیم میں داخلہ ملتا رہے گا یہاں تک کہ خیبر پختونخوا میں کم از کم 5ہزار نفوس کے لئے ایک ڈاکٹر میسر ہو گا صو بائی محکمہ صحت کا طویل المدتی منصو بہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی تعداد میں اضا فہ کے ساتھ اگلے 50سالوں میں صو بائی حکومت ایک ہزار نفوس کی ابادی کے لئے ڈاکٹر کی سہو لت فراہم کر سکیگی جو عالمی ادارہ صحت کی دی گئی رہنما ئی کے مطا بق ہو گی نیز ہم اپنی ابادی کی ضروریا ت پوری کرنے کے بعد کیو با کی طرح بیرونی ملکوں میں طبی خد مات کے لئے ڈاکٹر بھیج سکینگے میڈیکل کا لجوں میں نشستوں کی کمی کے باعث ہمارے نو جوان طبی تعلیم کے لئے یو رپی مما لک، آسٹریلیا، تر کی اور چین جا تے ہیں بیرون ملک سے تعلیم حا صل کر کے واپس آنے کے بعد ان نو جوانوں کی ڈگریوں پر پی ایم ڈی سی کے ساتھ الحاق اور ایکو یلنسی (مسا ویا نہ حیثیت) کا سوال اٹھا یا جا تا ہے، کئی سالوں تک ایسے ڈاکٹروں کو ذہنی کوفت،اذیت اور سما جی و ما لی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ہمارے اپنے میڈیکل کا لجوں میں نشستوں کا اضا فہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ایک مثبت کو شش ہے ریگو لیٹری اتھارٹی کی حیثیت سے پی ایم ڈی سی کو اس میں رکا وٹ نہیں ڈالنی چاہئیے صوبائی حکومت کے منصو بے میں ڈاکٹروں کو ہسپتالوں میں کھپا نے اور ان سے کا م لینے کا کوئی نیا منصو بہ نہیں ہے جس کی بڑی ضرورت تھی اس وقت میڈیکل کا لجوں سے نکلنے والے نو جوان ڈاکٹر ہر روز ہڑ تا ل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ہاوس جا ب کے دوران ان کے وظا ئف روک لئے جا تے ہیں اس طرح سپیشلا ئزیشن سے وابستہ ٹرینی میڈیکل افیسروں کے وظائف چھ، چھ مہینے تک ادا نہیں کئے جا تے کارڈیا لو جی، سر جری یا میڈیسن جیسے اہم شعبوں کے ینگ ڈاکٹروں کو ہر ہفتے کلر کوں کی منت سما جت کرنے پر مجبور کیا جا تا ہے اس لئے نو جوان ڈاکٹر یا تو سی ایس ایس کر کے سول سروس میں جا تے ہیں یا ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے بعد بیرون ملک چلے جا تے ہیں اور جو ہر قابل ہاتھ سے نکل جا تا ہے صو بائی حکومت کو نو جوان ڈاکٹروں کے لئے ساز گار فضا میں کام کرنے کے اچھے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئیے تب جا کر ڈاکٹروں کی کمی کا مسئلہ صحیح معنوں میں حل ہو سکیگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔