ایون کے جندولہ خان کی ضلعی انتظامیہ چترال اور این ایچ اے کی طرف سے ظلم و زیادتی پر شدید احتجاج

چترال ( محکم الدین ) ایون کے معروف سیاسی و سماجی شخصیت سابق ممبر یونین کونسل ایون جندولہ خان نے ضلعی انتظامیہ چترال اور این ایچ اے کی طرف سے خود پر ڈھائے جانے والے ظلم و زیادتی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے  کہ ان کی غیر حاضری کے دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے ان کے مکانات کو مسمار کرنے اور ان کے خاندان کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کا نوٹس لیا جائے ۔ اور ان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے کمرشل زمین اور رہائشی مکانات کا صحیح معنوں میں معاوضہ ادا کیا جائے ۔ ایون میں اپنی مسمار گھر کے کھنڈرات پر کھڑے ہوکر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے انتہائی افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ وہ ایون کے ایک باعزت بزرگ شہری ہیں ۔ اور انہوں نے ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر کے حوالے سے تحریک کی سرپرستی کی ۔ جس کے نتیجے میں سڑک کی تعمیر کا آغاز ہوا ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔کہ ایون کے زمینات بشمول ان کی زمین و مکانات کو کوڑیوں کے دام بزور خریدا گیا ۔ اور اس پر تو ظلم کی حد ہی کر دی گئی ۔ سڑک کے ساتھ ان کی کمرشل پراپرٹی کو بنجر زمین قرار دیا گیا اور علاج کیلئے پشاور میں ان کی موجودگی کےدوران رہائشی مکانات گرائے گئے ۔ جس سے ان کی پوری فیملی انتہائی تکلیف ، پریشانی اور خوف کا شکار ہوئی ۔ جندولہ خان نے کہا کہ میرے کمرشل زمین کو بنجر قرار دینا میرے ساتھ انتہائی زیادتی ہےاور مکانات کےعوض جو آدائیگی کی گئی ہے ۔ وہ رقم گھر کے ملبے کو دوسری جگہ منتقل کرنے کیلئے بھی ناکافی ہے ۔ دوسری جگہ متبادل نئے مکانات تعمیر کا تو سوچنا ہی محال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ان کے کمرشل زمین اور مکانات کا صحیح معاوضہ ادا کیا جائے ۔ بصورت دیگر وہ پیرانہ سالی میں بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ جبکہ انہوں نے اپنی جوانی کے زرین سال پاکستان کے سرحدوں کی حفاظت پر قربان کی ۔ اور1965 کی جنگ لڑی ۔ انہوں نے کہا کہ عمر کے اس حصے میں حکومت کی طرف سے یہ رویہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نےاس امید کا اظہار کیا کہ ڈپٹی کمشنر چترال ایک ہمدرد اور مخلص آفیسر ہیں ۔ آپ ضرور اس زیادتی کا نو ٹس لیں گے اور جو اذیت دی گئی ہے اس کا مداوا کریں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔