*جذبوں کا مرکز۔۔۔ دار ارقم* (24)…*تحریر ۔ شہزادہ مبشرالملک*

*دار ارقم* ۔۔۔ جو تین سالوں سےحضورﷺ کی خفیہ دعوت کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اہل ایمان چھپ چھپا کر یہاں پہنچتے اور حضور سے تجلیات نبوت حاصل کرتے۔۔۔ تعلیمات قرانی سیکھتے اور ہدایات حاصل کرتے۔۔۔ ابوبکر ؓ  اور دیگر اصحاب کی انتھک کوشیشوں سے کاروان حق کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم خفیہ عبادت اور تبلیغ کے کام کو جاری رکھے ہوے تھے جبکہ جوشیلے نوجوان اور ابوبکر کھل کر میدان میں آنے پر اصرار کرتے رہے۔ ایک دن حضور اقدس ﷺ کو مجبور کیا گیا کہ کعبہ میں جاکر عبادت کی جائے ان کےہم خیال اصحاب بھی اصرار کرنے لگے کہ کعبہ میں ایک گروہ کی شکل میں عبادت کے لیے جایا جاے ۔
حضور اقدس بھی ان کے ساتھ شامل ہوکے دار ارقم سے نکلے اور ۔۔۔ مسجد الحرام ۔۔ میں آئے۔ ابوبکر نے ولولہ انگیز تقریر کی اور اہل مکہ کو حضور پر ایمان لانے اور اطاعت اختیار کرنے کی تر غیب دی۔ اسلام کی ۔۔۔حمایت میں یہ پہلی اعلانیہ تقریرتھی جو مشرکین مکہ نے سن لی اور شدت غصے سے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور انہیں بری طرح مارا پیٹا۔ ۔۔۔حضرت ابوبکر ؓ کو پیروں تلے روندا گیا۔عتبہ بن ربیعہ نے آپ کے منہ پر جوتے مارے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ شناخت کے قابل نہ رہا۔ بنو تیم کے لوگوں نے آکر آپ کو اٹھا کر گھر لے گیے اور کعبہ میں آ کر اعلان کیاکہ اگر ابوبکر کو کچھ ہوا تو عتبہ کو قتل کر دیا جائےگا۔شام تک ابوبکر بے ہوش پڑے رہے اور خاندان والوں نے بہت کوشش کی کہ بات کر سکیں لیکن ناکام ہی رہے شام کو انہیں ہوش آیا تو پہلے الفاظ جو منہ سے نکلے وہ یہ تھے کہ۔۔۔ آنحضرت ﷺ ۔۔۔۔ کا کیا حال ہے؟
گھر والے ملامت کرتے رہے آپ بار بار حضور کا پوچھتے رہے اور ان کی والدہ نے قسم کھا کر حضور اقدس کے مطالق لا علمی کا اظہار کیا تو آپ نے ام جمیلؓ کو بلانے کی درخواست کی ۔ ام جمیل آئے تو دیکںھا کہ ابوبکر شدید کرب میں مبتلا ہیں اور اوندھے منہ پڑے تڑپ رہے ہیں۔آم جمیل نے اس بربریت پر غضبناک ہوکر کہا یہ فاسق فاجر لوگ ہیں جنہوں نے یہ ظلم ڈھایا ہے یقینا اہل خاندان اس ظلم کا حساب لیں گے۔ ابو بکر نے آ ہستہ آواز میں حضور کی خیریت دریافت کی اور اپنی والدہ کے بارے میں کہا آپ اطمینان سے بتایں یہ راز فاش نہیں کرے گی۔ام جمیل نے حضور کی سلامتی کی خوشخبری دی تو ابوبکر ؓ کا دل زخموں کی تکلیف بھول کردیدار رسول ؐکے شوق میں ٹھاٹیں مارنے لگا اور کہا جب تک ملاقات نہ کرلوں مجھے چین نہیں آے گا۔دونوں خواتین کے سہارےگھسیٹے ہوئے دار ارقم پہنچے تو حضور آپ پر گر گئے مبارک لبوں سے چومتے رہے اور روتے رہے دیگر اصحاب بھی یہ منظر دیکھ کر بے قابو ہوے۔ جناب ابو بکر ؓ نے کہا حضور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے اپنی کوئی فکر نہیں آپ سلامت ہیں تو میں بہت خوش ہوں ۔۔۔۔ میری والدہ کے حق میں دعا کیجئے کہ اللہ انہیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائے۔ حضور نے دعا دی اور ابوبکر ؓ کی والدہ کو اسلام کی دعوت دی جو اس نے قبول کی ۔ اور اس ناخوش گوار واقعے کے بعد اعلانیہ دعوت تک دار ارقم خفیہ دعوت کا مرکز بنا رہا۔

بحوالہ۔ دعوت اسلام ۔محمد رسول اللہ ۔الرحیق المختوم ۔ تجلیات بنوت ۔تاریخ اسلام

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔