پی کے 2کے اُمیدوار مولانا فیض محمد میر مقصودکا مختصر تعارف( کالم نگار:مبشر حسن)

کہا جاتا ہے کہ بہترین انسان اپنے کردار و عمل اور اخلاق سے پہچانا جاتا ہے ورنہ اچھی باتیں تو دیواروں پر بھی لکھی ہوتی ہیں۔آج میں آپ کے سامنےایک ایسے شخص کا تعارف پیش کرنے لگا ہوں جس سے ایک ملاقات کے بعد انسان اس کا گرویدہ بن جاتا ہے،ایک ایسا شخص جو تمام شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے ہاں قبولیت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے،ایک ایسا شخص جو بات کرے تو موتی بکھیرے،محفل میں براجماں ہوتو اس کو کشتِ زعفران بنائے،وہ محفل کے روح ِ رواں اور میر کارواں ہے،ایک ایسا شخص جس کا عمومی مزاج عاجزی وانکساری سے عبارت ہے،لیکن سختی وتکبری کرنے والوں کے سامنے فولادی جگر اور شیر کی دھاڑ بھی رکھتا ہے،ایک ایسا شخص جو بلاامتیاز خدمتِ خلق کو سب سے بڑی عبادت سمجھتا ہے۔ایک ایسا شخص جس کے چہرے سے مسکراہٹ چھلکتی ہے،جس نے اپنے کردار کی خوشبواور گفتار کی متانت سے  معاشرے میں اپنا مقام پیدا کیا ہے۔

پشاور میں موجود اس کا مدرسہ اہلِ چترال کے لئے اجتماعی گھر کا درجہ رکھتا ہے،جو بھی چترال سے علاج معالجےکےلئے یاکسی دوسرے کام کے سلسلے میں پشاور جاتا ہےوہ اپنے مدرسے میں قائم خصوصی  مہمان خانہ میں اس کی مہمان نوازی کو اپنے لئے باعثِ سعادت سمجھتا ہے،چترال سے آنے والے مریضوں کا پشاور میں بہترین علاج کروانے کے لئے بھاگ دوڑ کرنا،اگر کسی کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجہیز وتکفین کرنا، پشاور میں رہنے والے اہلِ چترال کے جملہ مسائل مثلاً تھانہ،کچہری اور دفاتر سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی وجاہت اور اثرورسوخ کو استعمال کرنا،یہ سب اس کی شب وروز کی زندگی کا حصہ ہے۔

سوشل میڈیا اور شہرت ونام ونمود کے اس دور میں وہ یہ ساری خدمات بغیر کسی لالچ کے کرتے آئے ہیں،صلہ وعوض کجا فیس بک پر ایک پوسٹ لگانا مناسب نہیں سمجھتا۔جی ہاں یہ ایسا شخص ہے جس کے فضائل اور خوبیوں پر پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔جی ہاں !جی ہاں!یہ شخصیت مولانا فیض محمد میر مقصود صاحب امیدوار برائے پی کے2لوئر چترال ہیں،آپ  جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر کتاب کے نشان سے الیکشن لڑرہے ہیں۔

مولانا فیض محمد صاحب کا تعلق چترال ٹاون سے ہے،آپ سین اور سین لشٹ کے رہائشی ہیں،آپ چترال کے ایک معروف ومعزز خاندان میر مقصود کے چشم وچراغ ہیں،آپ کے والد گرامی الحاج امیر محمد مقصود رحمہ اللہ کسی تعارف کے محتاج نہیں،وہ ایک بلند پایہ اخلاق سماجی وکاروباری شخصیت تھے،اہلِ چترال کے لئے ان کا قلبی درد،ان کی محبت اورر ان کی خدمات کا ہر ایک شاہد ہے۔

مولانا فیض محمد صاحب نے 1979ء کو اس جہان رنگ وبو میں قدم رکھا،کہا جاتا ہے کہ بچپن کی عادتیں پتھر پر لیکر ہوتی ہیں،جنہیں بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے،آپ سے ملنے والا ہرکوئی آپ کے حسنِ اخلاق کی گواہی دیتا ہے،یقیناً اس میں سب سے بڑا عمل دخل بچپن کی تربیت کا ہے،آپ کے والدین نے آپ کو بچپن سے ہی یہ سکھایا ہوگا کہ انسانیت سے محبت اورانسانیت کی خدمت اس دنیا میں سب سے قیمتی متاع ہے،بلاشبہ انہوں نےشیخ سعدیؒ کے اس قول پر من وعن عمل کیا ہے:”اگر تم چاہتے ہوکہ تمہارانام باقی رہے تواپنی اولاد کو اچھے اخلاق سکھاؤ”۔

آپ نے1993ء میں کراچی کے مشہورومعروف مدرسہ، مدرسہ امام محمدسےحفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی۔2005ء میں جامعہ محمدیہ اسلام آباد سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔پھر اسی سال پشاور میں جامعہ خدیجۃ الکبریٰ کی بنیاد رکھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے قائم کردہ اس مدرسے کو ایسی مقبولیت عطافرمائی کہ آج اس میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی تعداد ایک ہزار کو پہنچ چکی ہے،جن میں سے تقریباً 800 غیرمقیم اور 200مقیم طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔یہ مدرسہ اہلِ چترال بلکہ پورے کے پی کے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ونعمت بن چکاہے،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس مدرسے کے حوالے سے مولانا فیض محمد صاحب کو ملک کے نامور علماء کرام اور بزرگانِ دین کی سرپرستی حاصل ہے۔ جن میں شیخ الحدیث ڈاکٹرشیرعلی شاہ صاحبؒ،ڈاکٹر عبدالررزاق سکندر صاحبؒ،ڈاکٹر منظور مینگل صاحب دامت برکاتہم العالیہ،مولانا عزیزالرحمن صاحبؒ،مولانا حسن جان شہید صاحبؒ،مولانا حسن صاحب  دامت برکاتہم العالیہ( لاہور والے) وغیرہ حضرات علماء واولیاء شامل ہیں۔

بلاشبہ یہ درست ہے کہ مؤثر کن قیادت پُراثر شخصیت سے بنتی ہے،انسان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلواس کی سوچ ہے، سوچ اگر مثبت ہوتو شخصیت بھی مثبت ہوتی ہے،سوچ اگر منفی ہوتو شخصیت بھی منفی ہوتی ہے،عہدے،مرتبے اورپیشے زندگی کا نظام چلانے کے لئے بنائے گئے ہیں،انسان کی اصل پہچان عہدے سے نہیں بلکہ ذاتی کرداراور لوگوں کے ساتھ اس کے رویّے اور برتاؤ سے کی جاتی ہے۔مثبت سوچ،پُراثر شخصیت،بے داغ ماضی وبے داغ حال ،اچھے اخلاق اور خدمت ِ خلق کے جذبے سے سرشار انسان اس الیکشن میں ہماری طرف دیکھ رہا ہے،اور وہ ہیں مولانا فیض محمد میر مقصود صاحب۔

مولانا فیض محمد صاحب کو اگر خدمت کا موقع دیا جائے تو ان کے اب تک کے کردار اہلِ چترال کے لئے ان کی خدمات کے پیشِ نظر وثوق  کے ساتھ کہاجا سکتا ہے کہ وہ چترال اوراہلِ چترال کی ترقی کے لئے کسی بھی دوسرے امیدوار کے مقابلے میں بہترین کردار ادا کریں گے۔نیز مقابلے میں آئے ہوئے زیادہ تر امیدوار آزمائے ہوئے ہیں،ایک بار آزمائے ہوئے دوبارہ آزمانا عقل وخرد کے صریح خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین.

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔