*چترال کا سیاسی معرکہ*…*تحریر۔۔ مبشر الملک*

*ادارے کا مراسلہ نگار کےساتھ متفق ہونا ضروری نہیں *

دوست اصرار کر رہے ہیں کہ سیاسی تجزیہ پیش ہو تو معذرت کے ساتھ پیش خدمت ہے بے لاک تبصرہ ۔۔۔ جناب اقبال الدین سحر کے بعقول ۔۔۔ خفا نو بیک۔۔
چاہنے والوں نے بہت چاہا کہ قاید اعظم کے آئینی اور جمہوری ملک میں کسی بھی صورت الیکشن نہ ہو پإئیں اور ایک ناہنجار مقبول لیڈر سے نفرت اور بغض میں کیا کیا حربے اور طاقت ورگوروںکے گر تھے جو استعمال نہ لائےگئئ۔۔اب میدان۔گنجے کے سر کی طرح خالی کرنے کے بع سلکیشن کا ڈرامہ ہونے والا ہے ۔ جسے پاکستانی عوام بالعموم اور نوجوانان پاکستان جو اس ملک کے 60فصد ہیں نکل کر الیکشن  میں بدل سکتے ہیں ۔یہ کمبلوں کے نیچے گھس کے فیس بک پر بمباری سے الیکشن  جیتنے کے خواب دیکھنا بس خواب ہی ہوسکتا ہے حقیقت نہیں۔
بحرحال مشکل حالات لوگوں اور اقوام پر آتے رہتے ہیں اور پاکستان میں یہالٹ پھیر اور آفٹر شاک بیچارہ پاکستان کے ساتھ روز اول سے ہوتے آئے ہیں لہذا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے چاہے ۔گود لینے والے خان صاحب کودودھ چھڑھانے کے بعد  نواز شریف صاحب کو لے چکے ہیں۔
ملک کے دیگر اضلاع کی طرح چترال میں بھی سیاسی سرگرمیان زور پکڑ چکی ہیں اور تمام پارٹیوں میں اچھی شہرت کے نمائندے سرگرم عمل ہیں ۔ پی ڈی ایم کا مقابلہ کاغذ پہ بے نام نشان اور دلوں میں نقش تحریک انصاف اور میری جماعت اسلامی سے جاری ہے ۔اگرچہ پی ڈی ایم والے الگ الگ ہیں لیکن ان سب کی منزل مقصود  وہی لاڈلے پلس نواز شریف ہیں جسے اس ملک کی اقتدار کے بدحال گھوڑے پر سوار کیا جارہا ہے۔ تو عقل مندی اور چترال کے مسائل ایسے ہیں کہ لاڈلے کے نمائندے کو کامیاب کیا جائےتاکہ ہمارے مسائل حل ہوپإئیں باقی دو اسٹپنی بردار پارٹیاں بھی اسی سروس اسٹیشن میں سروس کی امید رکھتے ہیں جو حالات اور ضرورت پہ انحصار رکھتا ہے ۔کہ پی ڈی ایم دوبارہ ظہور پزیز ہونے کے بعد ان کی ضرورت رہتی بھی ہے کہ نہیں۔
چترال کے نمائندوں میں جو چترالی ہیں وہی ہمارے نمائندے ہیں ۔پرویز مشرف چترال سے الیکشن لڑ رہے تھے تو اس وقت بھی ثنل کی تکمیل کے باوجود بھی اس فقیر نے چترال سے اس کی بھر پور مخالفت کی تھی کہ وہ چترال کا نمائندہ نہیں ہوسکتا چترال کا نمائندہ چترالی ہونا چاہیے۔ اب باری باری اپنے نمائندوں  کے متعلق خوبی اور کمزوری کا علاقے میں جو تاثر ہے وہ پیش خدمت ہے۔

*مولانا چترالی*۔۔۔۔

ایک دبنگ لیڈر ہیں ۔چترال کی بالعموم اور ریاست پاکستان اور اسلامی اقدار کی بھر پور نمائندگی اس نے کی ہے۔ کمزوری یہ ہے کہ چترال سے باہر زیادہ وقت دیتے ہیں جماعت کے اندر بھی ان کی مخالفت موجود ہے ۔ان پرحکومت سے فایدہ علاقے کو نہ پہچانے کے الزمات ہیں۔۔اگرچہ اس ملک کا حل صرف جماعت اسلامی ہے مگر پارٹی بےحال ہے۔جدید سروے میرے سامنے ہیں اس کے مطابق دوفیصد لوگ جماعت کو چاہتے ہیں ملک بھر میں البتہ چترال میں یہ پوزیشن مختلف ہے ۔

*حاجی مغفرت شاہ صاحب*۔۔۔

بھی ایک متحرک ، پسندیدہ شخصیت اور امیدوار ہیں دو مرتبہ ناظم رہ چکے ہیں تجربہ کار ہیں اور سیاست کے گر جانتے ہیں ۔ کمزوری یہ ہے جذبات میں آکے دو ووٹر بڑھانے کی کوشش میں چار گوا دیتے ہیں ۔علاقے کی چراگاہوں ۔جنگل ۔شاملات کو سرکاری بنانے میں پیش پیش رہے اور گندم کی سبسڈی کو بیانیہ بنا کر ووٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔جو بہت ہی پست لیول کی سوچ ہے ۔قوموں کی اثھان ۔۔سبسڈی ۔پیکیچ۔ خیرات۔ اور لائنوں میں کھڑا ہونے سے بہتر نہیں ہوتے۔ ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھا کر اور سیاحت کو فروغ دے کر خوشحالی کے دروزے کھولے جاسکتے ہیں ۔شندور فسٹول ،بوروغل، کیلاش کاغ لشٹ ،مدک لشٹ ایونٹ اس کے آسان زرائع ہیں جن کے موصوف وقت آنے پر مخالفت کرتے ہیں ۔اسیے سوچ کے حامل لوگ معیشت کو بہتر نہیں بناسکتے بلکہ بیگاڑ ضرور سکتے ہیں۔

*جمعیت۔۔۔***

پانچ فیصد کی مقبولیت رکھتی ہے۔جناب شکیل اور مولانا فیض صاحب** کو صوبإئی کے لیے نیے چہرے کے طور پر سامنے لایے ہیں دونوں ہمارے دوست اور اچھی شہرت کے نوجوان ہیں مگر ان کی پارثی کو ان سے زیادہ ۔۔۔ محمودی کی فکر لاحق ہے اور ان کے لیے نیک خواشات بھی ہمارے پاس ہیں۔اس ملک میں سب سے زیادہ اقتدار کے مزے لوٹنے والے جمعیت ہے جو 88ٕ ٕسے ہر حکومت کے ساتھی رہے ہیں یہاں تک کے پرویز مشرف کے بھی ۔۔۔ یہ دستخط آپ کے ہیں تک۔ سواے عمران کی حکومت کے ۔لہذا ۔ مسجد ۔مدرسے کے وضو اور غسل خانوں سے زیادہ نظام اسلامی کی توقع اور علاقے کی تعمیر و ترقی کےلیے یہی عرض ہے۔
نہ تیر أٹھے گی نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمایے ہوے ہیں۔

*انجینر فصل ربی* ۔۔۔

ہمارے دوست اور فعال بندے اور ایک اچھے وژن کے مالک شخصیت ہیں ۔نیے چہرٕے ہیں اور اچھی شہرت اور وسائل سے مزین ہیں جو دور حاضر کے لوازمات ہیں ۔۔۔۔ دوپھوس توڑی سایست ۔۔۔ مسائل کا حل اس دور میں ممکن نہیں ۔
پیپلز پارٹی کی خدمات اور وڑن منشور کی حد تک ن لیگ سے بہتر ہے ۔لیکن یہ پارٹی سندھ تک محدود ہے ۔اس کی حکومت میں آنا ممکن نہیں 13فیصد کی مقبولیت ہے ۔یوسف رضا گیلانی کے ذریعے یہی اشارہ دے رہے ہیں ہمارے بغیر نواز شریف حکومت نہیں بناسکتی ۔ اگر پی ٹی آئی کے اراکین پر گدھوں کی نظر ہے وہ ہاتھ لگے اور بڑے ابو ۔۔۔ مولانا کی زریعہ معاش کی طرح غیبی مدد کی تو اور بات ۔ انجینئر صاحب کے لیے دعإئیں اور نیک خواہشات پیش ہیں۔

*شہزادہ پرویز* ۔۔۔۔

بھی حاجی صاحب کی ٹکر کے کھلاڑی ہیں دونوں ایک ہی مکتب کے طالب علم اور دوست ہیں ۔سردی کے اس موسم میں جناب پرویز خٹک کے ساتھ خٹاکیےکھانے کی امید رکھتے ہیں اور اس کے ناتوان قاید کے دو اینچ کے کندھوں پہ صوبے کا بوجھ ڈالنے کی کوشش قومی مفاد میں ڈانکے کی چوٹ پر جاری ہے۔ لوگوں کے گلے شکوے یہی ہیں کہ ایک پارٹی میں جم کے نہیں بیٹھتے اور فون دوستوں کے اثھاتے ہیں۔

*مہتر چترال*

ایک نیے اور بھر پور وژن کے مالک شخصیت ہیں اعلی تعلیم یافتہ اور اثرو رسوخ کے مالک ہیں۔ایک مقبول اور۔۔غیچہ دوش پارٹی کے نمائندے ہیں ۔صوبے میں ان کی پارٹی جیتنے اور جمنے کی صورت میں منیسٹر بننے کے قوی امکانات رکھتے ہیں ۔قومی جذبے سے سر شار ہیں ۔کھمبے کو جیتوانے والے میرے اس شریف النفس میتار کے ساتھ کیا کرتے ہیں جوچال وال کی دنیا سے بہت دور سادہ کم گو انسان ہیں۔ کمزوری یہ ہے کہ میتاری جو چترال کی شناخت اور تاریخ کی علامت تھی بعض ہمدردوں کا کہنا ہے کہ میتار کو ایم پی اے کی بے وقعت سیٹ کے لیے میدان میں نہیں آنا چاہیے تھا ۔جبکہ سینٹ کے لیے کوشش کرتا تو بہتر ہوتا۔

*جناب لطیف*۔۔۔۔

بھی ایک مقبول پارٹی کے با اثر نمائندے ہیں گزشتہ الیکشن میں بھی بھاری ووٹ لینے کا اعزاز رکھتے ہیں اس مرتبہ بھی سرپرایز دے سکتے ہیں ان کی مقبولیت میں 60 فیصد اور قبولیت میں صفر ہیں ۔اگرچہ مشکلات بہت حائل ہیں ۔کھبی کبھار یہ بھی ٹرسیر فائر کرکے ہمدردوں کو بھاگا دیتے ہیں لیکن اس سال ایسا کوٕئی واقعہ سننے میں نہیں آیا۔

*شہزادہ افتخار* ۔۔۔۔

لاڈلوں کا لاڈلہ اور چترال کا مخلص اور متحرک نمائندے ہیں چترال کا درد دل سے رکھتے ہیں اور بڑے وژن کے مالک ہیں ۔ جنرل مشرف مرحوم کی پارٹی میں ہوتے ہوئے نواز شریف سے چترال کے لیے زبردست کام کروا کر گھر گھر میں نام رکھتے ہیں اور کامیابی کی صورت میں ایک کا میاب وزیر بننے اور چترال کے لیے بڑے کام کروانے کا موقع رکھتے ہیں۔ کمزوری یہ ہے کہ لوکل چھوٹے مسائل ذاتی ضرورت کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں اور بر ملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔جلدی غصے میں آتے ہیں اور فون اٹھانے کا نام نہیں لیتے۔

*مہمان اداکار*۔۔۔۔

کے ساتھ میری کوئی ہمدردی نہیں اسے ووٹ دینا چترال کی شاخت ۔تہزیب اور خودی کی موت ہے علماکرام نے سادگی میں وہ کام کیا جو دونوں حوالوں سے بدنامی کا باعث ہے۔ ہارگیا تو یہ طعنہ دیا جائے گا کہ چترالی خودغرض اور دھوکا باز ہیں جیت گیا تو ۔۔۔ ثماٹر کی طرح میں نے چترالیوں کو خریدا کا بیانیہ بنائے گا۔ اس سے بھی زیادہ بدنامی علماچترال کا ہوا ۔جو قوموں کے لیے بربادی کا باعث ہے۔ ایک مولوی صاحب نے ایک محفل میں فرمایا۔اگر موسی علیہ اسلام کے زمانے میں یہ علما ہوتے تو دولت اور رفاعی کاموں کا بہانہ بنا کر حضرت موسی علیہ اسلام کو چھوڑ کر قارون سے جا ملتے ۔ اس عہدے کے لیے *حضرت جمال ناصر۔* بہترین متحرک شخصیت تھے علما اور چترال کی عزت بھی رہتی۔ اب اس مہمان اداکار کا فایدہ یہی ہوگا کہ عرب ممالک اور ملک کے ساتھ جمار داری کے رشتے بہت ہونگے اور کثیر سرمایہ چترال آئے گا۔
کمی کوتاہی کے لیے معزرت یہ میری رائے ہے الیکشن کے متعلق جو غلط بھی ہوسکتی ہے اور تمام نمائندے میرے دوست اور میرے لیے محترم ہیں کیونکہ وہ چترالی ہیں ۔کیونکہ سب سے پہلے چترال لہذا جو بھی جیتے چترالی جیتے اللہ الیکشن کو پاکستان کی ترقی اور عوام کی امنگوں کی تکمیل اور اسلامی نظام کی تکمیل اور استحکام کا زریعہ بنائیں ۔آمین یا رب لاعالمین
*********

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔