: گلگت و بالائی چترال کے تاریخی روابط…تحریر:شاہ حسین گہتوی

علاقہ چترال کی روایت کے مطابق علاقہ کھو اور علاقہ مستوج کا قدیم ہیڈکوارگلگت تھا۔ قدیم روایت کے مطابق بالائی چترال کے لوگوں کے تنازعات کا فیصلہ بھی گلگت میں ہوا کرتا تھا۔ زوندرے قبیلہ کی روایت کے مطابق زون کا بیٹا گلگت کے ہایوم (Heium) کے مقام تک حکمران بتایا جاتا ہے۔
غلام عمر نے اپنی کتاب ”چترال کی لوک کہانیاں“ میں لکھا ہے۔ ” بارہویں صدی عیسوی میں چترال کے بالائی حصے میں ”سومالک“ نامی خاندان حکومت کرتا تھاجسکی حکمرانی گلگت کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ (109)
فاضل مصنف مزید لکھتے ہیں کہ گلگت اور نواح کے قلعوں کی حفاظت اور اندرونی خلفشار روکنے کے لیے ہر سال چترال کے نوجوان منتخب کرکے بھیجے جاتے تھے جو اپنی مدت پوری کرکے لوٹ آتے۔ انتخاب ہر قوم اور ہر قبیلے کے نوجوان سے کیا جاتا اور باری باری اس کے لیے ہر شخص کو جانا پڑتا تھا۔
پیڑپارکس مشہور انگریز تحقیق کار اپنے مقالہ “Early rulers: Sirang, Sumalik and Sangali میں لکھا ہے۔
” The great ruler in those days was Sirang, living in Wirshigum (yasin). Pages 338
قدیم حالات و واقعات کا کھوج لگا نے کے لیے زبانی روایات کے ساتھ تحریری ریکارڈ اور آثارِ قدیمہ کا سہارا ضروری ہے۔ شعبۂ آثار قدیمہ پشاور یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر معیث الدین نے”ضلع غذر کی تاریخ اور آثارِ قدیمہ“ کے عنوان سے اپنی تحقیق مکمل کی ہے۔ ضلع غذر اپنی محل وقوع کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ضلع چار تحصیلوں پر مشتمل ہے یعنی تحصیل پونیال، تحصیل اشکومن، تحصیل گوپس اور تحصیل یسین۔
ڈاکٹر معیث الدین نے اپنے مقالہ میں لکھا ہے۔
” Near the villages of Damas and Heium, across the Yasin river is Hatun. This village rich in archaeology, can be approached from its two sides: First a wooden bridge on the Yasin River near village Heium, leads in to this village from its south western side; Second, a bridge of same kind, but not in a good condition now, let us reach from the north-eastern side of the village. (2015: P.11)
موضع ہاتون کے سنگی کتبے کے متعلق عبدالحمید خاور اپنی کتاب ”تاریخ اقوامِ دردستان و بلورستان“ میں لکھتا ہے۔ ”موضع ہاتون کے سنگی کتبے کے مطالعہ سے جو پونیال میں واقع ہے، واضح ہوتا ہے کہ مہاراجہ پٹالو دیواشاہی کے عہد میں دریائے اشکومن پر ایک بند باندھا گیا تھااور اس بند سے ایک نہر نکال کر ایک نیا قصبہ مکرا پورہ (Makara Pora) بسایا گیا تھا۔ جہاں پہلے ایک جنگل تھا۔ اب نہ تو اُس قدیم گاؤں کے کچھ نشانات باقی ہیں اور نہ ہی اُس نہر کی بنیادیں ملتی ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قدیم گاؤں موضع ہاتون کے جنوب مشرق میں جو نئی آبادی سلیپی اور گولیوداس کے نام سے موجود ہیں۔
وہی پرانا گاؤں مکرا پورہ (Makara Pora) ہوسکتا ہے اور دریائے اشکومن ہانی سارا ضلع کو سیراب و آباد کرتا تھا۔ لفظ ہاتون ہانی سارا اور گلگت اس سنگی کتبے میں مرقوم ہے۔ بعض مابعد مؤرخوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ گلگت کا لفظ قدیم نہیں بلکہ ڈوگروں نے لفظ گلیت کو گلگت بنا دیا ہے لیکن اس کتبے سے یہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی ہے۔ یہ سنگی کتبہ آٹھویں صدی عیسوی یا کچھ پہلے کا ہوسکتا ہے۔ (2009:285)
عبدالحمید خاور نے ہاتون کے سنگی کتبے کا اردو ترجمہ بھی اپنی کتاب کے صفحہ 287 پر درج کیا ہے۔
ہاتون کے سنگی کتبے کا اردو ترجمہ
اقبال بلند ہو! پرامابھترا کا مھارا دھرا جا پرامس ورا پتولا دیوا شاہی کے پُر آسودہ دور حکومت کے سینتالیسویں (47) سال کے تیرویں (13) جُزوی چمکدار پوشہ کے دن، پُرنور ناوا سرندرا دیتا نندی دیوا، بھگادا نامکارا سِمھا کی نسل میں پیدا ہوئے، جوکہ ہاتھیوں کے عظیم آقا (مھاگا جاپاٹی)، وزیر آعظم (مھامتیا)، جاگیرداروں کے عظیم بادشاہ (مھاسا منتادھپاٹی) اور سپہ سالار گلگتیہ (گلگت سرمگا) ہیں، جن کا تعلق کچودی قبیلے سے اور جو ہمہ وقت عظیم شاہی آقاکے قدموں میں وقف ہیں۔ جنہوں نے دوانسو مالا چاٹ شکمکا پر ایک بند باندھا (لمبائی میں جوکہ) ایک ہزار کیوبٹس (ہستاس) اور پھیلاؤ میں گاؤں ہاتونہ، ضلع (وشایا) ھنی سارا (شہر جو مائل بہ ترقی؟) کی فصیل تک ہے، بتیس (32) ہزار ہستاس (؟)
(تا ازل قائم رہے) جب تک چاند، سورج اور زمین (قائم) ہیں۔ یہ والد، والدہ، اہلیہ اور تمام مخلوقات کی فلاح و بہبود کے لیے کیا گیا ہے۔ (2009: 287)
وزیر محمد اشرف خان اپنی کتاب ”دی ہنٹر لینڈ آف آیشیا“ جس کا اردو ترجمہ بھائی بشیر اللہ رونو نے ایشیا کے دور افتادہ سرزمین گلگت بلتستان کے نام سے کیا ہے، میں لکھا ہے۔ ”وہ تاریخی کاغذات جو 1938 ء میں نپورہ کے مقام پر دریافت ہوئے ہیں ان سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ 778 ء میں گلگت کا بدھ متی بادشاہ سوہن ساہی نیوا سوروندرو کراما دتہ نندی دیوا (Sohen Sahi Nava Surondro Vikrama Dita nandi Deva) اور اس کی ملکہ کا نام اننگ دیوی (Anong Devi) تھا۔ گیارہویں صدی عیسوی تک مہادر وارا (Mahadirvara) دربار گلگت کے چیف آفیسر کا سرکاری عہدہ تھا(جو شاید جدید دور کے وزیر کے عہدے کے برابر تھا)۔
گلگت کے اس بدھ متی حکمران کے دو نام تھے۔ ایک سنسکرت اور دوسرا تبتی، یعنی نندی دیوا (Nandi Deva) اور سوہن ساہی (Sohan Sahi) کے خطاب کے ساتھ پٹول تھا۔ (2015: 101)
ہاتون تحصیل پونیال ضلع غذر میں قائم پٹولہ شاہی خاندان جسکی شاخیں بالائی چترال سے لیکر گلگت اور ہنزہ و نگر تک پھیلی ہوئی تھیں، کے متعلق ڈاکٹر معیث الدین نے اپنی تحقیقی مقالہ کے آخر میں لکھا ہے۔
“Probably, the story and scene presents the battle of Arjuna and Sri Bagadatta, in a different way. It is most probable that in oral narrationthe Arjun is Pronounced at Azur and Sri Bagadatta as Sri Badat in the long period of more than thirteen centuries, when this traditions was first time brought in writing.
The Inscription of Hatun is clearly mentioning the name of Sri Bagadatta. From whom the Patolas were descerndents. The subjects of Gilgit, Hunza and Nagir, never accepted any one as their King until and unless he is not the direct descendent of Sri Badat. In Gilgit region, the blood line of the rulers of Nagir, the Mogholote is considered pure and directly descendent from Sri Badat. In past, several times, when there was no male heir to hold the throne of Gilgit. At such several occations the people of Gilgit approached Nagir and brought a prince from their in marriage with their own female descendents of late Kings, in order to Keep the bloodline pure. From both sources of informations oral and epigraphic, we can infer that the Kings of Gilgit were the descendents of Patolas. On such grounds, it would be safe to say that there would not be any break of family between the tarakhans and Patolas. (2015: 102)
پٹولا شاہی خاندان کے سلسلے کی حکومت بالائی چترال تک پھیلی ہوئی تھی۔ کرنل بڈالف مذکورہ خاندان کے متعلق لکھتا ہے۔
” After a few years Bahman, by renouncing his allegiance, invoked a second invasion, which also Terminated in his submission, but on his rebelling yet again he was put to death. Later, the country was ruled by a succession of Princess styled Reis, the name which is also given to Gilgit rulers of Shiri Budat’s line.
پٹولہ شاہی خاندان کے راجہ شری بدت کے بعد گلگت کی اقتدار پر قابض خاندان کی حکومت چترال کے علاقوں میں بھی پھیلی ہوئی تھی۔
چترال کی روایت کے مطابق بھی اس خاندان کا ہیڈ کوارٹر ہایوم یا ہاتون تھا جو پونیال تحصیل میں واقع ہیں۔
پی ایچ ڈی سکالر معیث الدین نے اپنی تحقیقی مقالے میں پونیال کے علاقے میں رونو قبیلے کے قلعوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔

” The tradition relates this settlement with Kuture clan, who were in enmity with the inhabitants of lower two more forts, located below the site in an area around the road in Gich, now there is nothing which marks these settlement of sites. The settlements were known as Mayuri Kot and Um Kot.
The people of Kuture clan were of Rono Tribe and assumign themselves superior over all clans and used to abuse the two remaining two. One day the people of lower two settlements jointly invaded over, while they were busy in amusements with drinks and dances, and put no mercy. (2015: 71)
ڈاکٹر معیث الدین نے پونیال کے علاقہ گِیچ میں چند قلعوں کا تذکرہ آثارِ قدیمہ کے آئینے میں کیا ہے یعنی کوٹورے کوٹ، اُم کوٹ اور میوری کوٹ۔
مذکورہ قلعوں میں آباد قبائل کے تاریخی پس منظر کی وضاحت یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب مذکورہ قلعوں کے مکینوں کے متعلق شاید درست معلومات حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کیا ہو۔ لہٰذا مذکورہ قبایل کے متعلق راقم الحروف یہاں مختصراً اپنی معلومات دینے کی کوشش کروں گا۔
۱۔ کوتورے کوٹ:۔ کوتورے نامی یہ قبیلہ گلگت کا بہت پرانا قبیلہ ہے۔ اس قبیلہ کو رونو قبیلہ سے قدیم بتایا جاتا ہے۔چترال کے علاقہ دروش میں ایک جگہ کا نام کُتر دام ہے۔ اس کا مطلب کُتر یا کٹور کی بستی ہے۔ وزیر محمد اشرف خان نے اپنی کتاب ”دی ہنٹر لینڈ آف ایشیا“ میں کٹور قبیلہ کے متعلق لکھا ہے۔
”کٹولو کے لڑکے نے، جن کا تعلق چترال کے یشکن قبیلے سے تھا، بیکٹریا اور گندھارا کو فتح کرنے کے بعد پشاور میں اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ علاوہ ازیں غزنوی دور سے قبل افغانستان کا آخری بادشاہ، کٹور قبیلے کا فرد کنک (Kanak) تھا جو جدید چترال میں کٹور کے یوچی قبیلے کا سردار تھا۔ (135: 2015)
یوچی قبیلہ کے متعلق غلام رسول مہر اور ٹی خوشحال سنگھ اپنی مشترکہ تصنیف ”تاریخِ ہندوستان“ میں لکھتے ہیں۔
”یوہچی نسلاً منگول تھے۔ ابتداء میں چین کے جنوبی و مغربی حصے میں آباد تھے لیکن ان کو چین کے ایک شہنشاہ نے شکست دے کر ملک بدر ہوجانے پر مجبور کردیا۔ وہ 125 قبل از مسیح میں وسط ایشیا میں آباد ہوگئے۔ 124 میں انہوں نے باختریہ پر قبضہ کرلیا اور کل علاقہ کو اننتظام کی غرض سے پانچ صوبوں میں تقسیم کردیا۔ آہستہ آہستہ یوہچی بہت طاقتور ہوگئے۔ ان کے ایک صوبہ کے کشن سردار نے باقی صوبوں اور بعض دوسرے علاقوں اور ملکوں پر قبضہ جما لیا۔ اس وقت سے یوہچی کشن کہلانے لگے۔ (1909 بمبئی صفحہ 159)
مذکورہ اقتباسات بتاتے ہیں کہ چترال و گلگت کا قدیم کٹور قبیلہ نسلاً منگول تھے جو وسط ایشیا سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔
اُم کوٹ:۔ اس قلعہ کے مکینوں کے متعلق گلگت و چترال کی تاریخوں میں کوئی جانکاری نہ مل سکا۔
میوری کوٹ:۔ میور یا مریو ایک رونو حکمران تھا گلگت کا۔ اس حکمران کے متعلق غلام محمد چیف کلرک گلگت اپنی مشہور زمانہ کتاب ”آن دی فیسٹیول اینڈ خاک لور آف گلگت“ میں ایک شینا لوک گیت کا انگریزی ترجمہ پیش کیا ہے۔
شینا لوک گیت ”رسم تاؤ“ کے موقع پر نظم کی گئی ہے۔ اس نظم میں کشمیر، گلگت، ہنزہ، نگر اور یاسین کے حکمرانوں کا تذکرہ ”عہد“ کے حساب سے کی گئی ہے جو حکمران زیادہ پرانا ہے۔ اس کا تذکرہ پہلے بند میں کی گئی ہے۔ اس کے بعد آنے والا حکمران دوسرے بند میں اور اسی طرح اس گیت یا نظم کے تما م بند میں بالترتیب حکمرانوں کا تذکرہ ملتا ہے۔
اس گیت کا انگریزی ترجمہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔
1) The pan belongs to BAir Gul
I will never let any one place
This pan on the hearth,
I will place it there myself.
2) The pan belongs to Malik, the
Chief of Gilgit.
I will never let any other place this
pan on the hearth,
I will place it there myself.
3) The pan is worthly of
belonging to KIns, e.t.c
4) The pan is worth being kept
by a family, e.t.c
5) The pan belongs to Shah Mir,
The chief of Kashmir, e.t.c
6) The pan belongs to Maqpun,
the Chief of Skardu, e.t.c
7) The pan belongs to Moghlot,
the chief of Nagir, e.t.c
8) The pan belongs to Khana,
The Raja of Yasin e.t.c
9) The pan belongs to Righteous Gikis
The ruler of Hunza: 10)

The pan belongs to Maryo, the son of
Machat (a celebrated person of the Rono family) e.t.c
مذکورہ گیت میں گلگت، کشمیر، ہنزہ و نگر کے مندرجہ ذیل حکمرانوں اور سرداروں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
۱۔ بُر گال یا بری گال:
پونیال کے ایک بستی کا نام برگال ہے۔ اس نام کی ایک بستی بش گال موجودہ نورستان کے علاقہ میں موجود ہے۔ اس بستی کا تذکرہ رابرٹ سن اپنی کتاب دی کافرز آف دی ہندوکُش میں کیا ہے۔
شیر باز علی خان برچہ کی کتاب ”مفید انٹرویو“ کے صفحہ 69 کے مطابق نصیر الدین نصیر ہنزائی کے مورث صفر ہرائی کے بیٹے کا نام بھی بُر گل تھا۔ تمام دستیاب شہادتوں کا تجزیہ کرنے سے لگتا ہے کہ بُرگال بادشاہ گلگت کے اولین حکمرانوں میں سے بہت نامور شخص ہو گزرا ہے۔
۲۔ مذکورہ گیت کے دوسرے بند میں ”مالک“ کا تذکرہ موجود ہے۔ مولوی حشمت اللہ خان لکھنوی کے تاریخِ جموں و کشمیر کے مطابق ”مالک“ گلگت کے قدیم حکمران آذر کا پوتا اور سومالک ثانی ابن تراخان کا پڑدادا تھا جو بہت ہی شہرت یافتہ شخصیت کا حامل تھا۔
۳۔ بن نمبر ۵ میں شاہ میر حکمران کشمیر کا تذکرہ موجود ہے جو کشمیر کا مشہور مسلمان راجہ تھا۔
۴۔ چھٹے بند میں اسکردو کے حکمران مقپون کا تذکرہ موجود ہے۔
۵۔ ساتویں بند میں نگر کے حکمران مغلوٹ کا تذکرہ کی گئی ہے۔
۶۔ آٹھویں بند میں یاسین کے مغل یا تراخانی حکمران خان کا تذکرہ موجود ہے۔
۷۔ نویں بند میں گرکس کا تذکرہ کی گئی ہے جو تراخان کی بیٹی اور سومالک ثانی گلگت کی بہن کے بیٹے تھے۔ گرکس اور مغلوٹ سگے بھائی تھے جو قدیم حکمران میور خان یا میورتھم کے بیٹے تھے۔ تراخان نے اپنے دونوں نواسوں کو ہنزہ اور نگرمیں جاگیردار بنادیا تھا۔ گرکس کو ہنزہ کی حکومت ملی تھی اور مغلوٹ کو نگر کی۔
۸۔ دسویں بند میں مایور کا تذکرہ موجود ہے جو ماچاٹ نامی ایک رونو سردار کا بیٹا تھا۔
تحصیل پونیال علاقہ گِیچ کا مہشور قلعہ ”میوری کوٹ یا مایوری کوٹ“ اسی رونو سردار کا قلعہ تھا۔
راقم الحروف 19 جولائی 1996 میں پونیال شیر قلعہ کے ایک سربرآوردہ شخص رانا سیف علی خان سے انٹرویو کیا تھا۔ رانا صاحب کے مطابق شیر قلعہ پونیال کے رونو برادری راجہ شاہ رحیم خان حکمران نگر کی نسل سے بتایا جاتا ہے جو راجہ میور خان ابن میور تھم کی نسل سے بتایا جاتا ہے۔
زبانی روایات اور تاریخی شہادتوں کا تجزیہ کرنے سے لگتا ہے کہ تحصیل پونیال کے قدیم رونو جو قلعۂ میوری کوٹ گیچ میں آباد تھے وہ میور یا مایور ابن ماچاٹ کی نسل سے تھے۔

کتابیات /حوالہ جات
۱۔ چترال کی لوک کہانیاں مصنف غلام محمد
۲۔ Early rulers: Sirang, Sumalik and Sangali مصنف پیٹر پارکس
۳۔ History adn Antiquities of District Ghizer مصنف معیث الدین
۴۔ تاریخِ اقوام دردستان و بلورستان مصنف عبدالحمید خاور
۵۔ The Hinterland of Aisia مصنف وزیر محمد اشرف خان
۶۔ تاریخِ ہندوستان مصنف غلام رسول مہر اور ٹی خوشحال سنگھ
۷۔ On the festival and Folklore of Gilgit مصنف غلام محمد
۸۔ مفید انٹرویو علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی مصنف شیر باز علی خان برچہ
۹۔ تاریخِ جموں و کشمیر مصنف حشمت اللہ خان لکھنوی
۰۱۔ بروشال سے نگر تک کا سفر مصنف محمد اسماعیل تحسین
۱۱۔ قبائل ہندوکُش مصنف کرنل جان بِڈالف
۲۱۔ دی کافرز آف دی ہندوکُش مصنف رابرٹ سن
۳۱۔ تاریخِ اقوام کشمیر مصنف محمد دین فوق

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔