سادہ لوح اور غریب چترالیوں کو سعودی عرب میں ملازمت کا جھانسہ دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔سیلف ہیلپنگ تنظیم کی پریس کانفرنس

انہوں نے ایف آئی اے اور نیب حکام سے بھی مطالبہ کیاکہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے متاثریں کو ان کا رقم واپس دلایا جائے۔

چترال (چترال ایکسپریس) سعودی عرب میں کام کرنے والے چترالی باشندوں کی تنظیم اورسیز چترال کمیونٹی (سیلف ہیلپنگ) کے صدر حیدر نواز اورممبر کور کمیٹی قاضی ذاکراللہ نے حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ سادہ لوح اور غریب چترالیوں کو سعودی عرب میں ملازمت کا جھانسہ دے کر انہیں مزید مالی مشکلات اور ذہنی پریشانی میں مبتلا کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائےاور اب تک کے متاثرین کو فوری طور پر ریلیف دی جائے جوکہ سعودی عرب میں پھس کر رہ گئے ہیں۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں متاثرین رحمت سلیم، تنویر احمد، شاہ احمد نورانی، مختار الدین، افسر خان اور دوسروں کی معیت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال سے تعلق رکھنے والے مبینہ ایجنٹ مافیا امان اللہ (ہون)، رحیم جان (ایون)، عبدالقادر (زنگ لشٹ)، محمد اسلام (کوشٹ)، شیر محمد (ایون)اکبر (برنس) اور ناصر زمان (دروش)ایسی کاروائیوں میں مصروف ہیں جن کے خلاف انہوں نے ڈی سی لویر چترال کو بھی درخواست دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سینکڑوں کے تعداد میں غریب چترالی بہتر مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجا کر ان کے ہاتھوں لٹ گئے اور سعودی عرب جانے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ انہیں وزٹ ویز ا پر وہاں پربھیجا گیا تھا جنہیں دو ماہ بعد واپس پاکستان بھیج دیا گیا جبکہ بعض افراد ٹکٹ کے پیسے پاس نہ ہونے اور قانونی کاغذات کے نہ ہونے کی وجہ سے واپس آنے سے بھی قاصر ہیں اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کی منسٹری سے اپیل کی ہے کہ انسانی ہمدری کی بنیاد پر سعودی عرب میں پھسے ہوئے چترالیوں کی باعزت واپسی اور ان سے لوٹی گئی رقم انہیں واپس دلانے کا بندوبست کیا جائے۔ انہوں نے ایف آئی اے اور نیب حکام سے بھی مطالبہ کیاکہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے متاثریں کو ان کا رقم واپس دلایا جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔