ڈسٹرکٹ جنڈر ایکولٹی الائنس چترال لویر کے زیر اہتمام ایک روزہ اورینٹیشن ورکشاپ

چترال(چترال ایکسپریس)ڈسٹرکٹ جنڈر ایکولٹی الائنس(DGEA) چترال لویر کے زیر اہتمام ایک روزہ اورینٹیشن ورکشاپ مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ ورکشاب میں ڈسٹرکٹ جنڈرالاینس کے ممبران اور مختلف ڈپارٹمنٹس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے اعراض اور مقاصد بیان کرتے DGEA کے چیرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے کہا اس فورم کے تحت چترال میں صنفی امتیاز اور تفریق کو ختم کرنے کیلے محتلف اداروں اور سوشل ورکرز کے باہمی اشتراک سے کوشش کی جاینگی۔ انہوں نے کہا خواتین کو بہت سے صنفی مسائل درپیش ہیں جن کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

مس فریدہ سلطانہ نے پریزنٹیشن دیتے ہوے جنڈر فورم کے ایکشن پلان کے بارے تفصیلی بریفنگ دی۔

مختلف ادورں کے ساتھ اشتراک عمل کیلے محمد افضل کو فوکل پرسن , میڈیا سیل اور آگاہی کیلے مس فریدہ سلطانہ ,بچوں اور خواتین کیلے اسد اللہ اور قومی کمیشن فار وومن اسٹس اور ہیومن رایٹس کمیشن آف پاکستان جسے اداروں کے ساتھ ممبر سازی کیلے اسہ بی بی کو فوکل پرسنز مقرر کے گئے۔ورکشاپ میں 2023 کے دوران خواتین کے خلاف کیےگئے جرائم اور صنفی تشدد اور خودکشی کے اعدادوشمار پیش کیے گئے اور آیندہ اس قسم کے واقعات کے خاتمے کیلے تجاویز دیے گئے۔ اور تقسیم کار کےلیے فوکل پرسن مقرر کیے گئے۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے سنیر سپرٹنڈنٹ ظاہر شاہ نے خواتین کےلے سکیل 1سے سکیل 15 تک کے ملازمت کوٹہ پر عملدرآمد پر زور دیا اور اس حوالے سے شعیب سڈل کمیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور مختلف محکمہ جات اس پر عملدر کے پابند ہے ۔اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی دوسرے ادارے پر اس پر عملدرآمد کرنگے۔

ڈی ایس پی لیگل محسن الملک نے صنفی امتیازات کے خاتمہ کیلے ریفرل میکنزم کی تشکیل پر زور دیا۔ لیگل اویرنس پروگرام چترال کے منیجر عرفان قاضی نے صنفی تشدد اور ان کے خاتمے پر روشنی ڈالی۔اسماعیلی ریجنل کونسل کے سابق صدر محمد افضل نے فورم کی تشکیل کو اچھا اقدام قرار دیا اور اپنے تعاون کا یقین دلایا ۔چایلڈ پروٹیکشن یونٹ کےسربراہ اسد اللہ نے خواتین اور بچوں کے حقوق پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ میں پاپولیشن ویلفر افسر مس حاجیہ خواتین کی ہراسمنٹ میں سوشل میڈیا منفی کردار پر روشنی ڈالی۔

انچارچ دارالامان مس آسیہ بی ی نے دارلامان میں خواتین کو درپیش مسائل کا زکر کیا۔ وائس چیئرپرسن ڈسٹرکٹ جنڈرالاینس (DGEA ) مس نازیہ بی بی نے خواتین کے معاشی طور پر بااختیار بنانے پر زور دیا۔ ورکشاپ میں محکمہ تعلیم زنانہ کی نمایندہ نے بھی شرکت کی ۔ آخر میں اے کے آر ایس پی کے مس شائستہ جبین منیجر سول سوسائٹی ارگنیزشن نے کہا ان کا ادارہ اس قسم کے فلاحی کاموں کیلے قایم سول سوسائٹز کی ہر قسم کی تکنیکی مدد کرے گی۔ اور فورم کو پائیدار بنانے پر زور دیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔