دادبیداد..عوام کامقدمہ..ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

چند مسائل کئی سالوں سے حل طلب ہیں کئی حکومتیں آئیں مگر کسی حکومت نے ان مسائل کو حل نہیں کیا ایک مسئلہ بڑا گھمبیر تھا اس مسئلے کو 1984میں سپریم کورٹ نے ایک حکم کے ذریعے حل کر دیا مسئلہ یہ تھا کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ کے یونین تھے جو کمرہ جماعت میں سبق پرھنے نہیں دیتے تھے، امتحانی ہال میں امتحان لینے نہیں دیتے تھے ہر سال کئی مہینوں کے لئے تعلیمی اداروں کوبندکروایاجاتاتھا، سپریم کورٹ نے طلبہ یونین پر پابندی لگائی توتعلیمی اداروں میں امن قائم ہوا پابندی کے بعد اکا دکاواقعات نسلپرست اورفرقہ ورانہ تنظیموں کی طرف سے کبھی کبھا رہوتی ہیں تعلیمی اداروں کے امن کو مستقل خطرہ نہیں رہتا دیگر مسائل کو بھی عدالتی احکامات کے ذریعے حل کیاگیا تو وطن عزیز پاکستان امن، خوشحالی اورترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ایسے مسائل میں پہلا مسئلہ خسارے میں چلنے والے سرکاری تجارتی اداروں کی نجکاری ہے یہ نجکاری کئی بار عدالتی مداخلت اور حکم امتناعی کی وجہ سے روک دی گئی اور قوم کو سال بہ سال اربوں روپے کانقصان ہوتارہا اس وقت ملک میں منتخب حکومت نہیں ہے سیا سی مجبوریاں اور مصلحتیں بھی نہیں ہیں، سپریم کورٹ نے بعض بڑے فیصلے بھی دیے ہیں جو دور رس نتائج کے حامل ہیں ملک کے اندر مفادعامہ کے لئے رضاکارانہ مقدمہ لڑ نے والے تجربہ کار وکلاء کا گروپ (Pro bono lawyers) بھی بہت فعال ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وکلا برادری کو سول سوسائٹی میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت حاصل ہے اس تناظر میں عوامی مفاد کا مقدمہ کے لئے خودکو رضاکارانہ طور پر پیش کرنے والے تجربہ کار وکلاء کا فرض ہے کہ عدالت میں بنیادی نوعیت کے تین مقدمات لا کر ان کی اچھی پیروی کریں پہلا مقدمہ نجکاری کا عدالتی حکم حاصل کرنے کے لئے لائیں پا کستان انٹر نیشنل ائیر لائنز (PIA) پا کستان سٹیل ملز (Pak steel) اور 18دیگر سرکاری اداروں کی فوری نجکاری ملک اور قوم کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ادارے تجارتی بنیاد پر کام کرنے کے لئے بنائے گئے تھے مگر تجارت میں فائدہ دینے کے بجائے ہر سال 800ارب روپے کا خسارہ دکھا رہے ہیں حکومت اپنے خزانے سے ہر سال اربوں روپے کا خصوصی فنڈ جاری کرکے ان کے ملازمین کی تنخوائیں ادا کر واتی ہے، عدالت ان اداروں کی فوری نجکاری کا حکم جاری کرے تاکہ ملک اور قوم کو مزید خسارے سے بچایا جاسکے اس طرح ایک اور مقدمہ ہے جو پہلے مقدمے سے بھی اہم ہے حکومت مقروض ہے قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے اس کے باو جود حکومت نے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبروں کے لئے سالانہ 8کروڑ روپے سے لیکر 20کروڑ تک فی ممبر اداکرتی ہے اس کانام ترقیاتی فنڈ ہے کاغذات میں ترقیاتی فنڈہی لکھا جاتا ہے مگر اس کی پائی پائی ضائع ہوجاتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کاممبراس کو 5لا کھ، 10لا کھ اور 12لا کھ کی چھوٹی چھوٹی سکیموں کے بہانے پارٹی کارکنوں میں تقسیم کرتا ہے، انگریز ی میں اس کو ”ڈاون دی ڈرین“ کہا جاتا ہے سا لانہ ڈھائی ارب روپے اس مدمیں ضائع جاتے ہیں، عدالت میں اگر مقدمہ لایا جائے اور مقدمے کی درست پیروی کی جائے تو یہ رقم پبلک سیکٹر ڈیو لپمنٹ پرو گرام میں شامل ہو جائیگی اور میگا پراجیکٹس پر خرچ ہو جائیگی جس کا ملک اور قوم کو بڑافائدہ ہو گا، ایساہی ایک مقدمہ اراکین اسمبلی کی گاڑیوں کاہے جس گاڑی پر پارلیمنٹ کے ممبر کی تختی لگی ہو اس کی چیکنگ ہو جائے تو استحقاق مجروح ہونے کا شور مچایا جاتا ہے جبکہ تختی لگی گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر سمگلنگ ہوتی ہے اسی طرح اراکین پارلیمنٹ کو درجہ چہارم ملازمین کی بھرتی کا کوٹہ دیا گیا ہے یہ کوٹہ ٹاوٹوں کے ذریعے فروخت کیا جا تا ہے، عدالت اگر قوم اور ملک کے مفاد میں مقدمے کونمٹاتے ہوئے حکم صادر کر ے تو اراکین پارلیمنٹ کا کردار صرف قانون سازی رہ جائے گا غیر متعلقہ کاموں میں ان کی مداخلت ختم ہوجائیگی اراکین پارلیمنٹ کو وہی مراعات ملینگی جو 1985ء سے پہلے ملتی تھیں اُس وقت اراکین اسمبلی کی اتنی عزت اور قدر تھی کہ سرکاری حکام ان کے گھر آکر ملتے تھے اراکین اسمبلی دفتروں کے چکر نہیں لگا تے تھے جب اراکین اسمبلی قانون سازی تک محدود ہونگے تو ان کی وہی عزت لوٹ آئیگی کیونکہ وہ سرکاری حکام کے محتاج نہیں ہو نگے حکام ان کے محتاج ہونگے یہ کام پاکستان کی عدلیہ کر سکتی ہے بشر طیکہ عوامی مفادکا مقدمہ رضاکار وکلا کی طرف سے عدالت میں آجائے جس طرح عدلیہ نے طلبہ یونین کی ہلڑ بازی سے ملک کو بچایا اس طرح اراکین پارلیمنٹ کی من مانی سے بھی قوم کو بچائیگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔