پس و پیش۔۔۔ڈسٹ پلوشن۔۔۔اے۔ایم۔خان

چترال،  جہاں سردیوں، بہار اور پھر سرما کے موسم میں  جو بارش ہوتی ہے جوکہ ایک سال کے دوران ایک سو سے دو سو ملی میڑ ہے ، جوکہ اونچائی اور پہاڑی پر  چار سو  سے ایک ہزار اور  بعض مقامات پر اس سے زیادہ  ہو جاتی ہے ۔  نومبر کے بعد گزشتہ شام کو چترال کے اکثر مقامات میں پہلی بارش اور برف باری باران رحمت سے کم نہ تھی جو خشکی اور ہوامیں آلودگی کو ختم کردی۔

چترال میں موسم سال کے دوران اکثر خشک رہتی ہے۔ عالمی حدت اور موسمیاتی تغیر کی وجہ سے  ہم پہلے سے زیادہ گرمی ، بارش میں کمی ، پہلے سے چلنے والے لہر اور ہوا  کی سمت اور دباو میں خاطر خواہ تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ اس تبدیلی کا ثمر تو بظاہر دیکھنے میں نہیں آرہا لیکن  چترال  میں فصل اور میوہ جات  مثلاً: سیب، انگور، خوبانی اور ناشپاتی وغیرہ کی فصل متاثر،  بعض مقامات میں  خراب ،  پیداوار میں کمی اور میوہ جات کے معیار پر خاطر خواہ اثر نظر آرہا ہے۔

 ایک طرف خشک  موسم اور بارش میں کمی تو دوسری طرف  چترال سے مستوج اور دوسرے علاقوں کے روڈ سے جو ڈسٹ اُٹھ رہی ہے جو روز بروز زیادہ ہو رہی ہے جس سے ہمارا پورا ایکوسسٹم متاثر ہو چُکا ہے۔

ڈسٹ پلوشن سے چترال میں ہر عام و خاص جو روڈ پہ سفر کرتا ہے  متاثر ہے۔ خشکی اور ڈسٹ کی وجہ سے اکثر وبیشتر الرجی سے متاثر ہیں۔ روڈ کے قریب رہائش پذیر لوگوں کی زندگی کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے اور وہ کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ اُن کی حالت کچھ یوں ہے کہ وہ نہ گھر چھوڑ کر جاسکتے ہیں اور نہ وہاں رہ سکتے ہیں۔ انسان، چرند و پرند ، بناتات اور روئیدگی  ایک طرف موسمی تغیر اور خشک سالی کی وجہ سے متاثر ہیں  تو دوسری طرف روزانہ اس کچے روڈ سے  جو ڈسٹ اُٹھ رہا ہے اس سے حالت مزید ناگفتہ بہ ہو چکی ہے۔

  دُنیا کی طرح ہوا کی معیار کا جائزہ اکثر پاکستان کے شہروں میں ہوجاتا ہے۔ اس سال کا رپورٹ غور طلب ہے ۔ چترال میں ائیر کوالٹی کو دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس میں ڈسٹ کی مقدار کا اندازہ ہوسکے۔صرف چترال لوئیر سے اپر چترال کے بونی تک روازانہ کے حساب سے روڈ پر ڈسٹ پلوشن کا اندازہ لیا جائے تو یہ تشویش  کی حد سے بڑھ کرہے۔ حالات کا  نظارہ ہر کوئی کر سکتا ہے اور کوئی اسے چند منٹ دیکھ لے گا تو اندازہ کرسکتا ہے کہ کتنا ڈسٹ ہمارے آب وہوا کو آلودہ کر دیتی ہے ۔ صبح و شام جو ٹریفک چلتی ہے اس سے روڈ  سائیڈ اور گردونواح میں گرد ہی گرد کا سما ہے۔

موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسلہ ہے جوکہ چترال جیسے دورافتادہ اور پہاڑی علاقے میں اور سنگین ہو سکتا ہے جب یہاں مزید گلیشیرز پھٹتے ہیں  اور اس سے بننے والا سیلاب لوگوں کے بودوباش ، زمین، مال مویشی، جنگلات، روڈ، بجلی، واٹر سپلائی اور  دوسرے سہولیات کو  تباہ کر دیتی ہے۔ایک طرف گلیشیرز پگھلنے  سے آبی وسائل میں روزبروز کمی کا اندیشہ درپیش ہے  تو دوسری طرف ڈسٹ پرٹیکلز جو ہزاروں کلومیڑ سفر کرتی ہیں ،کی مقدار گلیشیرز پر زیادہ ہو جاتی ہے، تو یہ پگھلاو کے عمل کو مزید تیز کردیتی ہیں۔ ڈسٹ پلوشن نہ صرف انسان کی صحت، پرندے، نباتات اور روئیدگی کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ گلیشیرز کے پگھلاو کے عمل کو تیز کر دیتی ہے جس سے ہمارے پانی کے وسائل جلدی ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔   

چترال  کے مسائل میں سے  ڈسٹ پلوشن ایک اہم مسلہ بن چُکا ہے اور یہ ہمارا پورا ایکوسسٹم متاثر کررہا ہے۔ اس آلودگی سے نجات اور فطرت کو بچانے کے لئے چترال کے روڈز پر ہنگامی حالت میں کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی زندگی آلودگی سے پاک، سہل، وقت کی بچت، خرچہ کم ، اور ایکوسسٹم مزید متاثر ہونے سے بچ سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔