آزاد امیدوار پی کے ون نوید سلطان نے اپنا انتخابی منشور پیش کردیا

چترال(چترال ایکسپریس)

۔نام ….نوید سلطان گاوں تورکہو اجنو
تعلیم ۔۔پی ایچ ڈی گول میڈل،چارٹر اکاونٹنٹ،ایل ایل ایم

ایل ایل بی ایڈووکیٹ ھاٸی کورٹس اینڈ فیڈرل شریعت کورٹ

نوید سلطان نے چند باتیں اپنے منشور کا حصہ بناکر الیکشن مہم میں مصروف ہے بھول کر بھی کسی امیدوار کے خلاف غلیظ الفاظ کا استعمال کرنا دور کی بات بلکہ تعریفں بھی کرتے ہیں ۔۔
آزادامیدوار پی کے ون  نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ میں عملی طور پر ہر ایک پارٹی کا امیدوار ہوں اگرعوام مجھ پر اعتماد کرکے مجھے منتخب کرینگے تو صوبے میں جسکی بھی حکومت آجائے میں اس میں شامل ہو جاونگا جبکہ پارٹی والے پابند ہیں اگر وہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی اور پارٹی میں جائینگے تو نا نااہل ہو نگے ابھی تک کوٸی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ صوبے میں کسی کی حکومت ہوگی جبکہ میں تیار حسب اقتدار کا ممبر ہوں ۔۔
اگر عوام مجھے منتخب کرینگے تو میں وزارت طلب نہیں کرونگا بلکہ بدلے میں چترال کے لیے ترقیاتی فنڈ طلب کرونگا اور وزارت کے مقابلے میں چترال کی ترقی کو ترجیح دونگا ۔۔
اگر آپ مجھے منتخب کرئینگے تو میں آپ کو اسمبلی میں شرمندہ نہیں کرونگا کیونکہ میں نرسری سے ایف ایس سی تک پشاور سے پڑھا ہوں مجھے پشتو زبان پرعبور حاصل ہے جبکہ ایف ایس سی کے بعد 20 سالوں سے کراچی میں اردو اسپیکر کے ساتھ پڑھا اور پلا ہوں اس لیے مجھے بہترین اردو آتی ہے میں نرسری سے لیکر پی ایچ ڈی تک انگلش میڈیم میں پڑھا ہوں اس لیے مجھے انگلش زبان بھی آتی ہے میں گزشتہ دس سالوں سے کارپوریٹ سیکٹر میں سندھ ہاٸی کورٹ ،پنجاب ہاٸی کورٹ اسلام آباد ہاٸی کورٹ میں بحثیت وکیل پریکٹس کر رہا ہوں اس لیے مجھے اسمبلی کے رول اف بزنس کا پتہ ہے مجھے point of order motion personal explanation قراداد وغیرھ کا علم ہے ان کو میں سمجھ سکتا ہوں اس لیے آپ کو اسمبلی میں شرمندہ نہیں کرونگا ۔۔
میں نے اپنے تمام اثاثہ جات کاغذات نامزدگی میں ظاہر کی ہے اگر کوٸی دیکھنا چاہے تو میں دیکھانے کے لیے تیار ہوں ۔۔اس کے علاوہ اگر آپ مجھے منتخب کرئینگے تو اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے دس دن پہلے پریس کانفرنس کے زریعے اپنے تمام اثاثہ جات چترالی عوام کے سامنے پیش کرونگا ۔۔
میری پیداٸش اجنو میں ہوٸی ہے اجنو کے علاوہ میرا کوٸی گھر نہیں میں سال میں زیادہ وقت اجنو تورکہو میں گزارتا ہوں مجھے تورکہو کے مساٸل کا پتہ ہے جبکہ موڑکہو اور تورکہو ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہے اس لیے مجھے موڑکہو کے مساٸل بھی معلوم ہے جبکہ تحصیل مستوج میرا ننھال ہے مجھے تحصیل مستوج کے مساٸل کا بھی بخوبی اندازہ ہے ۔
اگر آپ مجھے اہل سمجھتے ہیں تو میری انتخابی نشان میز کرسی ہے ۔8فروری کو میرے حق میں ووٹ کا استعمال کرکے علاقے کی ترقی کے لئےمیرا ساتھ دیں۔۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔۔
شکریہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔