داد بیداد…قومی محاصل کا ہدف…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہر سال قومی محاصل کا ہدف مقرر کرتا ہے اس ہدف کوحاصل کرنے میں معاون بننے والے اداروں اور تا جروں کو تعریفی اسنا د بھی دیتا ہے قومی محا صل کے اہداف کو حا صل کرنے میں خیبر پختونخوا کا بڑا حصہ ہے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ خیبر پختونخوا کے تین راستوں سے اور بلو چستان کے ایک راستے سے گذرکر جاتی ہے ان راستوں پر سمگلنگ کی روک تھا م کرکے قانونی تجا رت کو فروغ دینے سے قومی محا صل میں اضا فہ ہوتا ہے لیکن یہ بولنے اور لکھنے میں جتنا آسان ہے عمل درآمد کر کے دکھانے میں اتنا آسان نہیں اس راہ میں گھمبیر مسا ئل اور بڑی پیچیدگیاں ہیں ایف بی آر کے چیئر مین ملک امجد زبیر ٹوانہ کا حالیہ دورہ پشاور ایسے وقت پر ہوا جب طور خم کا پا ک افغان بارڈر 10روز بند رہنے کے بعد بڑی مشکل سے کھلوایا گیا تھا یہ راستہ سال میں کئی بار بند ہو جا تا ہے اس طرح انگوراڈہ اور خر لا چی کے پھا ٹک ایک مہینہ کھلتے ہیں تو چار مہینوں کے لئے بند ہو تے ہیں، تین سرحدی راستے بن شاہی، اراندو اور شا سلیم اب تک دوطرفہ تجا رت کے لئے نہیں کھو لے گئے نائن الیون کے بعد اتحا دی افواج نے افغانستان میں دہشت گر دی کے خلاف جنگ کے لئے اپنا سازو سامان خیبر پختونخوا کے راستے افغانستان پہنچایا اس سہو لت کا نا م کو لیشن سپورٹ تھا اس سہو لت کے لئے فنڈ بھی قائم کیا گیا تھا کراچی کی بندرگاہ سے طورخم تک ہماری بڑی شاہراہ پرکولیشن سپورٹ کے دیو ہیکل کنٹینروں کی وجہ سے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا تا ہم پشاور کی تا جر برادری اور خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اس حوالے سے مثبت کر دار ادا کیا، اتحا دی افواج کے انخلا ء کے بعد پا کستان اور افغانستان کی باہمی تجارت کو نئے مسائل کا سامنا ہواان مسائل کے حل کے لئے وفود کے تبادلے ہوئے طویل مذاکرات کے نتیجے میں مسائل پر قابو پایا گیا ایسے مسائل سے نبرد آزما ہونے میں حکومت کی مدد کرنے کے لئے پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے کوارڈینیٹر ضیا ءالحق سرحدی نے جوخد مات انجا م دیے ان خد مات کے اعتراف میں انہیں با بائے کسٹمزکے خطاب کے ساتھ تعریفی سند دی گئی ہے یہ سند ایف بی آر کے چیئر مین ملک امجد زبیر ٹوا نہ کے ہا تھوں خیبر پختونخوا کسٹمز کے چیف کلکٹر سعید اکرم کی طرف سے پیش کی گئی ضیا ء الحق سر حدی کا شمار پشاور کی نما یاں شخصیات میں ہوتا ہے انہوں نے پشاور کی تاجر برادری کے ساتھ ساتھ صحا فتی، ادبی اور علمی حلقوں میں بھی اپنا مقام بنا یا ہے ان کی چار کتا بیں شائع ہو چکی ہیں، ان کے دلچسپ سفر نا مے رسائل و جر ائد کے ذریعے قارئین سے دا دو تحسین سمیٹ چکے ہیں گندھا را ہند کو بورڈ کے ایگزیکٹیو ممبر ہیں وہ خیبرلٹریری کلب اور ابا سین کا لم رائٹر ز ایسو سی ایشن کے عہدیدار ہیں، انہوں نے اپنے کیر ئیر کا آغا ز 1965میں پا کستان کسٹمز میں ملا زمت سے کیا چند سال بعد ملا زمت کو چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کیا در آمد، برآمد کے کاروبار سے منسلک ہو نے کے علا وہ کسٹمز، کلیرنگ، فارورڈ نگ اینڈ شپنگ ایجنٹس کے شعبہ سے بھی منسلک ہوئے اس شعبے میں گذشتہ 55سالوں سے خد مات انجا م دے رہے ہیں افغا نستان اور پا کستان کی با ہمی تجارت میں جب بھی کوئی خلل آتا ہے سب لو گ ضیاء الحق سرحدی کی طرف دیکھتے ہیں آپ متعلقہ لوگوں کا وفد لیکر دونوں اطرف کے حکام سے ملتے ہیں اور کا میاب سفارت کاری کے ذریعے رکا وٹوں کو دور کر کے تجا رتی روابط بحال کرتے ہیں اس طرح بابائے کسٹمز کا خطاب آپ کے نا م کے ساتھ بجاطور پر جچتا ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔