دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔۔۔”الیکشن ڈیوٹی اور قوم کا معمار“۔۔۔محمد جاوید حیات۔۔۔

قوم کا معمار ایک بوڑھابڈھا استاذ ہے پنشن پہ جانے کے لئےصرف دو سال کی دیر ہے ۔سروس میں آنے کے دن اس نے ملک و قوم کی خدمت کی قسم کھاٸی تھی عجیب قسم تھی ۔۔۔”نیشنل کاز ، قومی فریضہ“ اگر کبھی درپیش ہو تو وہ جان دے گا ۔۔اس بڈھے مستنڈے نے اس سے پہلے سات باراس قومی کاز (الیکشن )کا سامناکیا تھا ۔۔۔نیشنل کاز نبھاتے ہوئے جو زلالت اس نے اٹھاٸی تھی وہ تلخابہ حیات ہے جب کبھی بھی اس کو لفظ ”الیکشن “ سننے کو ملتا وہ لرزہ براندام ہوتا ۔۔اس بار پھر اعلان ہوا تھا کہ ملک میں ” صاف اور شفاف“ الیکشن 8 فروری کو ہونگے ۔۔۔8 فروری 2024 ۔۔۔پھر نشینل کاز کا سامنا تھا ۔۔۔” اس الیکشن پہ 52 ارب روپے خرچ ہونگے “ ۔۔اس کو پتہ تھا کہ 52 ارب روپے کہاں سےخرچ ہونگے۔۔الیکشن کی گہماگہمی میں اچانک محکمے کی طرف سے مسیچ آتا ہے کہ پریزاٸڈنگ آفیسرز کے لیے دو دن کی ٹرینگ ہے ۔۔بوڑھا استاذ بیگ اٹھاتا ہے اور اس نیشنل کاز کے لیے گھر سے نکلتا ہے اس ٹھٹھرتی سردی میں دو گھنٹے صبح پانچ بجے راستے پہ کھڑا رہتا ہے خدا خدا کرکے ٹیکسی آتی ہے قوم کا معمار ڈرائیور کا ناز اٹھاتے اٹھاتے ٹیکسی میں جا گھستا ہے ۔۔گورنمنٹ ہاٸی سکول بونی کا لان ہے ایک طرف کرسیاں جماۓ نادرا کی ٹیم بیٹھی ہے دوسری طرف محکمہ تعلیم کے آٸی ٹی کا گروپ بیٹھا ہے کلاس روم میں ہارون اے ڈی او اور الحاج اے ڈی او سینے پہ ہاتھ دھرے کھڑےہیں یہ معماران قوم کو اس نیشنل کاز کے لیے ٹرینگ دے کر تیار کریں گے ۔۔یہ دونوں اعلی تعلیم یافتہ اور خود استاذ ہیں ۔۔ٹرینگ وہی گھیسی پٹی ہدایات ہیں جن کو دہرایا جارہا ہے ۔۔آٸ ٹی کی ٹیم میں عطاء اللہ چہرے پہ مسکراہٹ سجاۓ بیٹھے ہیں ۔۔بوڑھا استاذ سمارٹ فون ہاتھ میں لیے ان کے پاس جاتے ہیں کہ اس میں وہ ایپ ڈاون لوڈ فرماٸیں تاکہ الیکشن کے دن نتاٸج ہوا ہوا (آن لاٸین ) پہنچاٸی جاٸیں سخت تاکید ہے ۔۔ساتھ بیٹھے نادرا کی ٹیم کاایک نوجوان فون بوڑھے استاذ کے ہاتھ سے بڑی رعونت سے لیتے ہیں اور مذکورہ ایپ ڈاون لوڈ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس دن لاگ ان کریں ۔۔بوڑھا معمار قوم بڑے فخر سے واپس آتا ہے گویا کہ وہ ہندوستان کے شہر بنگلور میں ہے جو دنیا کا سب سے بڑا آٸی ٹی سنٹر ہے ۔۔ٹرینگ کا دوسرا دن ہے نادرا کی ٹیم کا حکم نامہ آتا ہے کہ دوپہر کے کھانے کے بعد سارے زیر تربیت ہال میں جمع ہوجاٸیں وہ اپنی ” ایپ“ پہ ضروری لیکچر دئینگے ۔۔۔شرکاء ہال میں جمع ہوتے ہیں ۔۔نادرا کا ڈائریکٹر لکچر دے رہے ہیں بوڑھے معمار قوم پر ایپ کی لاگ ان سوار ہے ۔۔گھر آکر لمحہ بہ لمحہ بے سکونی ہے گروپ میں دسکشن ہیں ہدایات ہیں ۔۔ایک دن مقرر ہوتا ہے کہ آج ” موک پول “ ہوگا ۔۔ایپ لاگ ان ہوگا ۔۔بوڑھا معمارے قوم سارا دن بے چین ہے شام پانج بجے سے مسلسل ایپ لاگ ان کرنے کوشش کر رہا ۔۔رات 2 بجے تھک ہار کے سو جاتا ہے ۔۔اطلاع آتی ہے کہ الیکشن کے سامان لےکے جاٸیں ۔۔ہاٸی سکول بونی پہچتے ہیں ایک اور ایپ پر لیکچر ہے ایپ ڈاون لوڈ کیا جاتا ہے ۔۔الیکشن عملے کے معاوضے ان کے ہاتھ میں دئیے جاتے ہیں جو کہ 52 ارب میں سے ساڑھے چار ہزاراے پی اوز اور چھ ہزار پی او کے لیےہیں چوکیدار کے لیےدوہزار ہیں ۔۔وہ بونی کالج پہنچتے ہیں اے اراو امتیاز ، شاہد ڈپٹی ڈی ای او ، قاضی اور دوسرے عملے مستعد ہیں ۔۔اے سی صاحب بوڑھے معمار قوم کی طرح ایسے منہ بناکے دیکھتا ہے کہ گویا اس قومی کاز کا سامنا کرنا اس بڈھے کے بس کی بات نہیں ۔۔گاڑیوں کا مسلہ ۔۔۔معماران قوم دھکے کھا رہے ہیں ۔۔اللہ اللہ خیر صلا سامان اٹھاتے ہیں سٹیشن پہنچاتے ہیں ۔۔۔صبح اس زندہ قوم کا ” صاف اور شفاف “ الیکشن ہے ۔۔اس رات بوڑھا معمار قوم سوتا نہیں ۔۔کل نیشنل کاز کا سامنا ہے ۔۔صبح سٹیشن پہ ایک عالم دین سے ملک و قوم کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کراتا ہے ۔اور رائے شماری شروع ہوتی ہے ۔۔اس زندہ قوم کے ہر فرد کی کوشش ہے کہ وہ کرپشن کرے دو چار ووٹ ڈالے ۔۔۔سارا دن ایک مچھلی بازار ہے دھکم پیل ہے ۔۔انٹر نیٹ بند ہے وہ اپز اکارت اور فضول ہیں وہ ساری ٹرینگ گدھلے پانی میں بہہ جاتی ہے ۔بڈھا معمار قوم نتاٸج بنا رہا ہے ۔۔رات 12بجے نتاٸج تیار ہیں ان کو ہاتھ میں اٹھا کے سامان گاڑی میں ڈال کے فورا بونی پہنچنا ہے کہیں نتاٸج پہنچانے میں دیر نہ ہو جاۓ ۔۔گاڑی چار بجے بونی پہچتی ہے ۔۔معمار قوم نتاٸج ہاتھ میں اٹھاۓ قطار میں کھڑا ہے کب اس کی باری آۓ ۔۔عطا اللہ اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے ہیں خدا جانے اس میں کیا ہورہا ہے باہر ڈیش بورڈ پر نتاٸج نہیں آرہے ۔پانچ بجے بوڑھے معمار قوم کی باری آتی ہے شاہد ،امتیاز اور قاضی ان سے نتاٸج لیتے ہیں ۔۔”درست “ کہتے ہیں بوڑھے معمار قوم کو اب بھی یقین نہیں کہ یہ نشنل کاز پورا ہوا کہ نہیں ۔۔۔۔عطا اللہ ، شاہد ، قاضی اور امتیاز اور ان کے دوسرے ساتھی نیند اور تھکن سے بوجھل ہیں ۔۔ان کے دل نہیں چاہتے کہ اس طرح ان معماران قوم کو قطار میں کھڑا کرکے ان کی بے ادبی کی جاۓ مگر وہ بھی قومی کاز کے ہاتھوں مجبور ہیں ۔۔بوڑھا معمار قوم جب سامان حوالہ کرکے باہر نکلتا ہے تو ہاتھ اپنی جیب کے اوپرمضبوطی سے رکھا ہوا ہے کہ اس میں اس ”قومی کاز “ کے معاوضے ہیں ۔۔۔پورےچھ ہزار روپے ۔۔۔۔۔۔آر او فدا الکریم،اے ڈی او رحمت ولی،امتیاز،نادرہ کے ڈائریکٹر سکندر اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش اور مبارک باد،ان کی انتھک محنت قابل داد ہے۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔