دادبیداد…پہلاچیلنج…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

وفاق سمیت صو بوں میں بھی منتخب حکومتیں جلد حلف اٹھائینگی سیاست دانوں اور ان کی حکومتوں کو ہرآن، ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ للکار رہا ہوتا ہے اس مسلسل للکار کے لئے انگریزی کا لفظ چیلنج اتنا زیا دہ استعمال ہوا ہے کہ اب یہ لفظ اردو کے للکار سے زیا دہ ما نوس اور شناسا لگتا ہے ہم لوگ سکول میں پڑھتے تھے تو چیلنج لکھنے کا بڑا رواج تھا ہر روز کسی نہ کسی جما عت کی فٹ بال، والی بال یا ہاکی ٹیم کو چیلنج دیتے تھے کہ ہماری ٹیم آپ کے ساتھ دوستانہ یا شرطیہ میچ کھیلنا چاہتی ہے اُدھر سے جواب آتاتھا تو میچ کی تیاری شروع ہو جاتی تھی آج کل ذرائع ابلا غ میں سیاسی لیڈروں اور حکمرانوں کی طرف سے جو بیانات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں ان میں بار بار یہ بات دہرائی جا تی ہے کہ ہمیں فلاں چیز کا چیلنج درپیش ہے اور یہ چیلنج بھیس بدل کر آتا ہے کبھی اُن کو کر پشن کا چیلنج درپیش ہو تا ہے، کبھی توانائی کا چیلنج سامنے آتا ہے، کبھی صاف شفاف انتخابات کا چیلنج ان کو گھیر لیتا ہے تو کبھی قانون کی حکمرانی کا چیلنج آڑے آتا ہے 8فروری 2024کے انتخابات کے بعد نئی حکومت کے سامنے ایک سو ایک چیلنج پڑے ہوئے ہیں ان میں پہلا چیلنج قرض داری کا ہے، ہمارا ملک 1958ء میں قرض دار نہیں تھا پھر آہستہ آہستہ قرض دار ہونا شروع ہو انئی حکومت کے آنے سے پہلے بینک دولت پا کستان یعنی سٹیٹ بینک نے جو اعداد و شمار جاری کئے ان میں بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2022ء میں ملک جتنا مقروض تھا ایک سال 2ماہ گذرنے کے بعد اس میں 27فیصد اضافہ ہو کر اب پا کستان پر قرضوں کا بو جھ 65کھرب روپے کی حد کو عبور کر گیا ہے، نیا مالی سال جون 2023ء میں شروع ہواتھا گذشتہ جون سے مو جو دہ فروری تک قرضوں میں 14فیصد مزید اضا فہ ہواہے گویا ہم صبح و شام قرض لینے کے سوا کوئی اور کام ہی نہیں کر تے کسی شاعر کا شعر سنا تھا ؎
میں کچھ بھی نہیں کرتا وہ ارام کر تے ہیں
میں اپنا کام کرتا ہوں وہ اپنا کام کر تے ہیں
مو جودہ حالات میں پا کستان نے جن 18ذرائع سے قرض لیاہے ان میں سب سے مشکل مسئلہ انٹر نیشنل مانیٹیری فنڈ (IMF) کا ہے، اگلے مہینے آئی ایم ایف ہم سے پچھلی قسط کا تقاضا کرےگا، قسط ادا کرنے کی صورت میں نیا قرض منظور کرے گا، فی الحال یہ خبر گردش کررہی ہے کہ آئی ایم ایف نے گردشی قرضوں کے بارے میں پا کستان کی منصو بہ بندی کو ناقص قرار دیاہے اور عوامی خد مات بجلی، گیس، تیل وغیرہ کے نرخوں میں مزید اضافہ کی تجویز دی ہے اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آئی ایم ایف کی تجویز کو حکم کا درجہ حاصل ہوا کر تاہے نئی حکومت کے سامنے نئی اسمبلیوں کے اخراجات اور ہر سطح کی کا بینہ کے اخراجات کا تخمینہ بھی رکھا جا ئے گا جو 50ارب روپے ماہانہ کے برابر ہوا کرتا ہے وفاق میں 92وزراء اور ہرصوبے میں کم از کم 55وزرا کی فوج ظفر مو ج بھر تی ہوا کر تی ہے تجر بے اور مشا ہدے کی بات یہ ہے کہ ہر وزیر، مشیر اور معا ون خصو صی اپنے دفتر کے لئے نئے فر نیچر، نئے پر دے، نئے قالین اور نئی گاڑی کا مطا لبہ کرتا ہے اگر قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشت کے مقابلے میں نئے اخرا جات کے تخمینے کو دیکھتے ہیں تو سر چکر اتا ہے کہ اس ملک کا کیا بنے گا اب مسئلہ یہ نہیں کہ قرض کس نے لیا؟بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ قرض کیسے اتارا جائے! پلاننگ کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمارکے مطا بق دسمبر 2008ء میں پا کستان 29کھر ب روپے کا مقروض تھا، گذشتہ 15سالوں میں قرض کا حجم ڈبل سے بھی زیادہ ہوگیا حا لانکہ 2008ء میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اگلے 10سالوں میں سارے قرضے ادا کئے جائینگے اور یہ بات عین ممکن تھی اب چیلنج یہ نہیں کہ عوام کی خد مت کیسے کی جائے! بلکہ چیلنج یہ ہے کہ پا کستان کاقرضہ اتار کر اگلے 5سالوں میں ملک کو افغا نستان کے برابر کس طرح لایا جائے، جی ہاں افغانستان پر ایک آنہ پائی کا قرض نہیں، افغانستان کو آئی ایم ایف کی ناراضگی کا کوئی غم نہیں قصہ مختصر نئی حکومت کے لئے قرضوں سے چھٹکاراپہلا چیلنج ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔