این اے۔ ون چترال کی انتخابی نتائج پر نظر..ظہیر الدین

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے ون چترال میں انتخابی معرکہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی دلچسپی کا حامل رہا جہاں چھ مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار شہزادہ افتخارالدین(پاکستان مسلم لیگ-ن)، فضل ربی (پی پی پی)، عبداللطیف (پی ٹی آئی)، مولانا عبدالاکبر چترالی (جماعت اسلامی)، حاجی محمد طلحہ محمود (جے یوآئی) اور خدیجہ بی بی (عوامی نیشنل پارٹی) کے علاوہ دو آزاد امیدوا ر مختار نبی المعروف پیر مختار اور سیدہ میمونہ شاہ میدان میں اتر گئے تھے۔ اس حلقے میں 3 لاکھ 13ہزار 550ووٹروں کے لئے 312پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے جن میں 140اپر چترال اور 172لویر چترال میں تھے۔ 8فروری کے پولنگ میں ایک لاکھ 66ہزار 808 ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا (ٹرن آوٹ 53 فیصد) جن میں سے65722 اپر چترال میں اور 101,086 لویر چترال سے پول ہوئے۔ 580پوسٹل بیلٹ پیپرز شامل کرنے کے بعد عبداللطیف نے 61944، محمد طلحہ محمود 43127، فضل ربی 23766، شہزادہ افتخار 20100، مولانا عبدالاکبرچترالی 9298،خدیجہ بی بی 2427، پیر مختار 617سیدہ میمونہ شاہ نے 533ووٹ حاصل کی۔
الیکشن کے اعلان کے وقت سیاسی صورت حال، نواز شریف کی واپسی اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ان کے بہتر تعلقات استوار ہونے کو سامنے رکھتے ہوئے اور 2013ء سے 2018ء تک نواز حکومت میں چترال میں دو میگاپراجیکٹوں لواری ٹنل اور گولین گول ہائیڈل کی 80فیصد کام کی تکمیل،2016ء کے زلزلے میں دو ارب روپے متاثریں میں تقسیم کرنے، چترال، ایون اور دروش میں گیس پلانٹ کی تنصیب کی منصوبے عملی کام اور گرم چشمہ، شندور اور کالاش ویلیز روڈ کے منصوبہ جات پرابتدائی فائل ورک پر پیش رفت اور مسلم لیگ (ن) کا مرکز میں ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کے واضح امکان اور پی ٹی آئی کو انتخابی نشان کے نہ ملنے اور ضلعی انتظامیہ کا اس کے امیدواروں پر اضافی پابندیاں لگانے کے عمل کو سامنے رکھ کر شہزادہ افتخار کی جیت تمام سیاسی حلقوں کو یقینی نظر آرہی تھی۔ اس حلقے کی انتخابی میدان میں طلحہ محمود کے آنے کے بعدسیاست کا بساط الٹ گیا۔سخاوت اور فیاضی کے لئے ضرب المثل کی حیثیت رکھنے والے چھٹی صدی عیسوی کے عرب بادشاہ حاتم طائی کے طرز پر روپے پیسوں کی بارش برساتے ہوئے اور فوڈ پیکج تقسیم کرتے ہوئے جب طلحہ محمود ارندو سے وادی یارخون تک دورہ کیا تو گاؤں گاؤں قریہ قریہ میں ان کی فیاضی اور دریا دلی کا چرچا ہوچکا تھا۔ مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق طلحہ محمود نے سب سے یادہ نقصان شہزادہ افتخار کو پہنچادیا ورنہ اپر چترال سے بڑی تعدادمیں ووٹ پڑنے والا تھا جہاں انہوں نے بجلی کا مسئلہ گزشتہ سال حل کرکے مقبول عام ہوگئے تھے۔ طلحہ محمود شہزادہ افتخار کے ہوم پولنگ اسٹیشن کالی کٹک میں بھی ان سے سبقت لے گئے اور دروش، شیشی کوہ اور دمیڑ ارندو کے علاقوں میں بھی ان کے اکثریتی پولنگ اسٹیشنز میں انہیں تیسری اور چوتھی پوزیشن میں دھکیل دیا اور رہی سہی کسر پی ٹی آئی نے نکال دی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو میدان سے کک آوٹ کرنے کے بعد طلحہ محمود نے پی ٹی آئی کے عبداللطیف کو للکارا اورکئی علاقوں میں انہیں ٹف ٹائم دے دیا اور پولنگ سے چند دن پہلے وہ وقت بھی آیا جب وہ خود اپنی کامیابی کی سوفیصد امید رکھتے تھے جس کا اندازہ اس بات پر لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مختلف جلسوں اور محافل میں جاکر اس بات پر زور دیتے تھے کہ ان کو پارٹی (جے یو آئی) سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز اگرکامیاب کرکے دے دئیے جائیں تو تب ہی وہ پوری طرح ترقیاتی کام کرسکیں گے کیونکہ دوسری جماعتوں کے ایم پی اے ان کے لئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ 8فروری کی شام جب چترال ٹاؤن اور مضافاتی پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آنا شروع ہوگئے تو وہ (طلحہ محمود) سبقت لے جارہے تھے تاآنکہ نصف شب کے بعد اپر چترال اور لوٹ کوہ کے نتائج نے لطیف کو ان سے آگے لے گئے۔ لوٹ کوہ کا علاقہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا جہاں 40پولنگ اسٹیشنوں میں پڑنے والے 19548ووٹوں میں سے لطیف نے 10587اور طلحہ نے صرف 1729ووٹ اسکور کیا اور لوٹکوہ کی ووٹوں پر بھروسہ اور انحصار کرنے والی جماعت پی پی پی کو 2383ووٹ ملے۔
چترال ٹاؤن میں طلحہ نے لطیف کو ایک ہزار ووٹوں سے ہرادیاتھا جس نے ٹاؤن (سین لشٹ سے لے کر بکرآباد تک) میں پول ہونے والے19120 میں سے5814 ووٹ حاصل کی جبکہ لطیف کو 5478 ووٹ ملے۔اسی طرح اپنے آپ کو فزند چترال ٹاؤن کہہ کر ووٹوں کی امیدرکھنے والے پی پی پی کے امیدوار فضل ربی نے 2245ووٹ حاصل کی۔لویر چترال میں ڈالے گئے 101,086ووٹوں میں سے عبداللطیف کو 35111اور طلحہ کو 26395ووٹ ملے۔ دروش تحصیل میں مداک لشٹ سے لے کر ارندو تک قائم 57پولنگ اسٹیشنوں میں سے 32میں طلحہ محمود، 30میں لطیف اور صرف 2میں شہزادہ افتخار دوسروں پر سبقت لے گئے۔
اپر چترال میں پول شدہ 65722 ووٹوں میں سے لطیف نے طلحہ کے 16592 کے مقابلے میں 26723ووٹ حاصل کیا۔ اپر چترال کے تین قدیم سب تحصیلوں (sub tehsil)مستوج، موڑکھو اور تورکھو میں سے موڑکھو تحصیل میں طلحہ نے لطیف پر سبقت لے لی جبکہ باقی دو سب تحصیلوں میں لطیف آگے رہا اور مستوج کے سب تحصیل میں انہیں بے بس کرکے رکھ دی۔ موڑکھو کے 51پولنگ اسٹیشنوں میں ڈالے گئے 23716ووٹوں میں سے طلحہ نے 8214 اور لطیف نے 7701، تورکھو کے 22پولنگ اسٹیشنوں کے 12767ووٹوں میں سے لطیف نے 5170 اور طلحہ نے3474 جبکہ مستوج کے 67پولنگ اسٹیشنوں کے 29239ووٹوں میں سے لطیف نے 13816اور طلحہ نے 4884ووٹ لے لی۔
قومی اسمبلی کے اس حلقے میں جماعت اسلامی کے 14ہزار ووٹرز غائب ہوگئے جنہوں نے صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں میں اس پارٹی کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ اپر چترال میں مولانا جاوید حسین نے 10ہزار اور لویر چترال میں مغفرت شاہ نے 13ہزار ووٹ لیا تھا جن کا مجموعہ 23000بنتا ہے لیکن مولانا چترالی کو صرف 9000ووٹ ملے۔ غائب ہونے والے ان ووٹوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ ان کی اکثریت طلحہ محمود کو گئے ہیں۔ اس بارے میں مولانا چترالی نے خود بھی پولنگ کے اگلے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کی قیادت پر الزام عائد کیا تھا کہ ان کے ووٹروں کو خصوصی ٹارگٹ بنایا اور ان کی شکست کی راہ ہموار کی جس میں روپے پیسے کا بھی بے دریغ خرچ کیا اور اس مقصد کے لئے باہر سے ایک ارب پتی شخص کو یہاں میدان میں اتاردیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔