نفسانی خواہشات تحریر: اقبال حیات اف برغذی

انتخابی معرکہ آرائی اخر کار اختتام پزیر ہوئی۔اس دوران جہاں ایک دوسرے کونیچا دکھانے اور برتری حاصل کرنے کے لئے   مختلف حربے اور ہتھکنڈے اپنائے گئے ۔ وہاں سرزمین چترال کے باسیوں کی خودداری اورعزت نفس کی ممتاز حیثیت کے پرخچے اڑنے کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے_ ایک امیدوار کی طرف سے بلا تخصیص  لوگوں پر نوٹوں کی بوچھاڑ جہاں حیران کن حیثیت کا حامل تھاوہاں جھولی پھیلائے ان کے در پر پہنچنے والے اور والیوں کی شرم وحیا کی نیلامی بھی ناقابل فراموش تھی اورحرص وہوس اور لالچ کی بو سے متقض فضاء میں علامہ اقبال کی یہ تنبیہہ یاد ارہی تھی ۔
ائے طائر لاہوتی اس رزق سےموت اچھی
جس     رزق   سے    آتی  ہو   پرواز میں  کوتاہی
معاشی طور پر انتہائی نامساعداور مخدوش حالات سے دوچار ہونے اور تان جوین کو ترسنے کے باوجود قدیم چترال کے مکین کبھی بھی کسی کے سامنےہاتھ پھیلانے کی ذلت کو اپنے قریب پٹھکنے نہ دئے یہاں تک کہ بھوک کی شدت کے باوجود حرص ولالچ  کی نظر سے دوسروں کی طرف دیکھنے کو ابھی اپنی تذلیل سمجھتے تھے۔ لیکن اس دور کے مکینوں کے زیر زمین جانے کے بعد ان کی قابل فخر روایات بھی فنا سے دو چار ہوئے۔ مادہ پرستی نے انسانی اقدار کی دھجیان اڑا کر رکھ دی اور ایسے کردار سے ہمارا واسطہ پڑا جس کی وجہ سے ہم دختر فروشی جیسے قبیح نام سے منسوب ہوئے اور اس الیکشن کے دوران ہماری کیفیت ضمیر فروشی کے زمرے میں آنے کے مترادف تھی ۔یہ ایک مسلمہ حقیت ہے کہ نفساتی خواہشات کی طرف رغبت سے انسانی اقدار متاثرہونگے۔ پیٹ پھول جائیگا مگر ذلت اور رسوائی کے احساس کے بوجھ تلے سر اٹھنے کی سکت سے محروم ہوجائے گا۔ اس لئے خواہشات نفس پر قدم رکھ کر جینے میں عزت اور زندگی کی لذت سے بہرور ہونے سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔
حضر ت جنید بغدادی بغداد کے بازار میں جارہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک دوکان کے اندر انڈوں پر پڑی ۔ دل میں کھانے کی خواہش پیداہوئی ۔مگر جیب خالی ہونے کی وجہ سے یہ حسرت دل میں ہی رہی۔ تھوڑی دور جانے کے بعد ایک دیوانے پرآوازین کسنے پر وہ لوگوں کی طرف پتھر پھینک رہا تھا۔ا چانک ایک پتھر جنید بغدادی صاحب کو لگا۔ اور وہ شدید درد کی وجہ سے زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ لوگ دوڑ کر ان کے پاس آتے ہیں اور اپنی طرف سے محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک شخص انہیں اپنے گھر میں تھوڑی دیر  آرام کرنے اور چائے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور وہ دعوت کو قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ جاتے ہیں ۔صاحب خانہ کچھ دیر کے بعد چائے کے ساتھ انڈے پکا کر آپ کے سامنے رکھنے پر بغدادی بے ساختہ مسکراتے ہیں۔ میزبان کی طرف سے مسکرانے کی وجہ پوچھنے پر آپ فرماتے ہیں کہ دراصل مجھے دیوانے نے نہیں مارا بلکہ دوکان میں انڈوں پر نظر پڑتے ہی میرے دل میں پیدا شدہ لالچ کا خمیازہ تھا جو بھگتنے کے بعد خواہش نفس کی برآوری ہوئی۔
بحرحال شیطان کے اس بھائی سے خود کو دور رکھنے میں دونوں جہانوں کی عزت وتوقیر پوشیدہ ہونے میں دورائے نہیں ہوسکتی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔