وادی چترال کے انقلابی شاعر حسین نادر جان اف ریشن..تحریر سمیع اللہ آف ریشن حال اسلام آباد۔

شاعر ایک معنویتی اور اجتماعی حقیقت کا جامع ہوتا ہے۔ وہ ایک آواز ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں کو چھوتا ہے اور ان کی خاموشیوں کو توڑتا ہے۔ شاعری کی اہمیت ایک معاشرتی حقیقت ہے جو ہماری زندگیوں کو رنگین بناتی ہے۔

شاعری کا اہم ترین کردار یہ ہے کہ وہ احساسات کو لفظوں کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے جذبات کو سامنے لانے کا موقع دیتی ہے اور ہمیں دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کا احساس دلاتی ہے۔ شاعری کے ذریعے، ہم اپنی خوشیوں، غموں، عشق، اندوہ اور تمناؤں کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔

شاعری ایک تحریری فن ہے جو ہماری تصورات کو وسعت دیتی ہے۔
شعروادب کی سماجی جڑیں بہت گہری ہیں ۔ شاعری کتنی بھی تجریدی اورتخیلاتی ہوجائے اس کاسماجی سروکار برقرار رہتا ہے ، ساتھ ہی شاعری کا ایک رخ سماج اوراس کے معاملات سے براہ راست مخاطبے کا بھی ہوتا ہے اوریہیں سے شاعری انقلاب کے راستے کی ایک توانا آواز بن کرابھرتی ہے ۔ سماجی تاریخ کے تمام بڑے انقلابوں اورتبدیلیوں میں تخلیق کاروں نے بنیادی رول ادا کیا ہے ۔ ان کے تخلیق کئے ہوئے فن پاروں نے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ایک داخلی بیداری کو پیدا کیا ۔ چترال گوکہ ترقی و جدت کے لحاظ سے پسماندہ ضرور ہے مگر ادب و شاعری کے لحاظ سے کافی زرخیز ہے۔ اور یہ زرخیزی ہرطبقے کو مستفید کرتی آرہی ہے۔ اگرچہ علاقائی طور پر شعر و شاعری کے کئی نامور نام موجود ہیں، مگر ایک نام جس نے نا صرف مقامی زبان بلکہ قومی زبان میں بھی اپنے لئے ایک الگ مقام پیدا کر رکھا ہے۔
اپر چترال ریشن سے تعلق رکھنے والے حسین نادر جان ایک انقلابی شاعر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ملکی سیاسی حالات ہوں یا معاشرتی محرومیاں ، آپ نےآپنی لازوال شاعری سے ہر پہلو کی بہتریں انداز میں عکاسی کی ہیں۔ جس طرح ادب صرف شعر و شاعری یا داستان گوئی و افسانہ سازی نہیں بلکہ تنقید حیات کا بھی نام ہے بلکل اسی طرح آپ نے بھی اپنی اک منفرد راہ اختیار کر رکھی ہے۔ آپکی شاعری کے ہر لفظ سے انقلابی روح کے بیداری کی آوازیں آرہی ہیں۔ حالیہ ملکی سیاسی حالات میں آپکی کھوار اور اردو زبان میں شاعری اور نظمیں نا صرف مشہور ہوئیں بلکہ جس گلوکار نے بھی گایا خوب نام کمایا۔حال ہی میں آپکے لکھے ہوئے کھواراور اردو زبان میں سیاسی ترانے (چھترارو ووٹ چھتراریو) اور (ووٹ میرے کپتان کا)سیاسی اکھاڑے میں نا صرف مشہور ہوئیں بلکہ سوشل میڈیا میں بھی ویورزشپ کے تمام ریکارڈذ توڑ دئیے۔آپ نے اپنی شاعری سےہمیشہ حوصلہ اور امید دلانے کی کوشش کی ہیں۔ آپ نا صرف چترال کی شاعری کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں بلکہ اردو زبان میں بھی آپکے اشعار کافی وزن رکھتے ہیں۔اللہ رب کریم کے حضور ہماری یہی دعا ہے کہ آپکی شاعری صدا مہکتی رہے اور رب ذولجلال آپکو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب کرے۔ آمین

حسین کے اشغار میں سے چند شعر

اب اپنی خدائی پہ ہی کر لیجئے کچھ غور
میں سر نہیں کر سکتا ہوں خم اور زیادہ

منصفِ شہر تو بس نام کا منصف تھا حسین
جس کو سمجھا تھا عدالت وہ عدالت ہی نہ تھی

شہرِ نفرت ہے یہاں پیار پہ بات آئے گی
ہر محبت کے پرستار پہ بات آئے گی

مجھ کو پھر بھی نہیں چاہت سے گریزاں ہونا
جانتا ہوں دلِ بیمار پہ بات آئے گی

چپ رہوں گا تو پھر آئے گی مرے دیس پہ آنچ
منہ سے کچھ نکلا تو سالار پہ بات آئے گی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔