دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔۔”چناٶ“….محمد جاوید حیات

چناٶ ،انتخاب یہ ایسی اصطلاحات ہیں جن کا زندہ قوموں میں بڑا احترام و مقام ہے ۔کسی کام کے لیے کسی کو کسی اہلیت کی بناد پر منتخب کیا جاتا ہے ۔بہت باریک بینی سے ہر پہلو پر عرق ریزی سے سوچا جاتا ہے اگر منتخب انتخاب پر پورا اترے تو کمال ہے ۔دنیا کے جمہوری ملکوں میں انتخاب کی بڑی اہمیت ہے ہمارے ہاں ہم یعنی عوام کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ووٹ امانت ہے ۔۔ووٹ ضمیر کی آواز ہے ۔۔۔ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کریں ہم بہت سہم جاتے ہیں کہ سوچ سمجھ کر استعمال کرنے میں بھی کوٸی غلطی نہ ہوجاۓ قوم کی خوشحالی اور ملک کی ترقی کا انحصار اس ایک ووٹ پر ہے۔۔کسی ہوشیار نے ہمارے لیے شاید نہیں کہا تھا کہ جمہوریت قوم کی قوم کے زریعے قوم پر حکومت ۔۔۔۔ان کو کیا پتہ تھا کہ اس جمہوریت کو مداری کا کھیل بنایا جاۓ گا اور گڈے گڈی کے اس کھیل میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔بظاہر ہمارے پاس چناٶ کا حق ہے ۔۔۔چناٶکا حق استعمال کرنے کے لیے ہے۔۔۔ہمیں اس لیے انتخابی مرکزوں کی طرف کھینچا جاتا ہے ۔۔گھر گھر لولی پاپ دیا جاتا ہے ۔چناٶ کے اس ناٹک میں عوام بڑا سنجیدہ ہے۔۔ملک میں جمہوری نظام ۔۔۔۔۔عوام کا منتخب حکومت ۔۔۔۔چنے ہوئے نماٸندے ۔۔۔کیا کیا نہ دل زار نے ڈھونڈے ہیں پناہیں ۔۔۔نتیجہ آتا ہے ۔۔عوام قبول کرتے ہیں لیکن اس کے بعد مداری کا کھیل شروع ہوتا ہے ۔۔دھاندلی ۔۔۔یعنی چوری ۔۔قوم کا وہ فرد جس نے ووٹ کو امانت سمجھ کر بڑی آرزو کے ساتھ شوق سے انکھوں میں مستقبل کے خواب سجاۓ پولنگ اسٹیشن گیا تھا حیران ہے۔۔۔یا اللہ ! یہ دھاندلی ۔۔۔۔یہ کیا معمہ ہے یہ کس نے کی ۔۔۔میں نے تو کوٸی دھاندلی نہیں کی ۔۔میں نے چناٶ کے لیے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر ووٹ دیا تھا ۔میں نے امانت میں خیانت نہیں کی تھی ۔لیکن یہ کیا ہو رہا ہے یہ دیکھو بڑے بڑے لیڈر میدان میں آگۓ ہیں کہہ رہے ہیں دھاندلی ہوٸی ۔چوری ہوٸی ۔۔اب عوام حیران ہیں کہ چور کون چوری کس نے کی ۔۔چیف جسٹس کا بیان آرہا ہے ۔۔کمشنر اپنےآپ کو پھانسی دینے کی دھاٸی دے رہا ہے ۔جس بے چارے استاذ نے اپنا خون جگر پی کر دن رات تڑپ کر الیکشن کرایا تھا بسم اللہ پڑھ کے نہایت احتیاط سے فارم 45 بھرا تھا ۔یہ ساری محنت بڑے کہتے ہیں کہ ”وڑ“ گٸی ہے ۔۔۔52ارب روپے کا وہ پراجکٹ ۔۔۔قوم کی وہ ساری مشینری ۔۔نماٸیندوں کی دوڑ دھوپ ۔۔۔سب کچھ ”وڑ“ گیا کیا ؟۔۔۔عوام حیران۔۔۔۔ چناٶ ہوا کہ نہیں ۔۔۔چناٶ کا وہ شور و غوغا ۔۔۔۔وہ دھکم پیل ۔۔۔اب پریس کانفرنسیں ۔۔۔وہ دھرنے جلوس ۔۔۔وہ کھینچا تانی ۔۔۔وہ بے سکونی ۔۔۔۔چناٶ ہوا کیا ۔۔۔ہم نے کس کو چنا کیسا چنا۔۔۔۔اگر ہم سب کو پتہ ہوتا کہ یہ مداری کا کھیل ہے ہم کھیل میں رل جاٸیں گے تو ہم گھر سے شاید نہ نکلتے ۔۔۔ہمیں پتہ ہوتا کہ یہ کھیواڑ ہے تو ہم کبھی دعا نہ دیتے ۔۔۔اگر یہ سب کچھ اتنی بے وقعت ہونے کا یقین ہوتا تو ہم چناٶ کی نہ حمایت کرتے نہ آرزو کرتے ۔ہمارے بڑے ایک دوسرے کو قبول کیوں نہیں کرتے یہ قبولیت ان کی ذات سے وابستہ نہیں یہ ملک و قوم کی خاطر ہے یہ قربانی ان کی ذاتی نہیں ہوتی یہ قوم و ملک کی وسیع مفاد میں ہوتی ہے ۔۔ہمارے بڑے اس صلاحیت سے عاری ہیں ۔پھر چناٶ کا مطلب کیا ہوگا ۔پھر اس مداری کے کھیل کا مقصد کیا ہے چناٶ ایک سنجیدہ عمل ہے سنجیدہ قوم کے بس کی بات ہے ۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم چناٶ کے معیار پہ پورا اترتے ہیں ۔اگر ہمیں اس طرح ہانکا جائےگا تو قوم میں بیداری پیدا نہیں ہوگی۔۔اسی طرح کھوکھلے نعرے اور بے تعبیر خواب ہمارے حصے میں آٸیں گے جس کا ذمہ دار ہمارے بڑے ہونگے ۔۔۔چناٶ کی اپنی شان ہوتی ہے ۔۔جس کو چنا جاتا ہے وہ بھی مطمٸن ہوتا ہے چننے والا بھی مطمٸن ہوتا ہے پھر آگے منزل کا تعین ہوتا ہے ۔۔ہمارے بڑے عوام کی بے چینیوں کو اہمیت کیوں نہیں دیتے اگر ایسا نہیں تو پھر کیا بڑا کہلانے کا حق رکھتے ہیں؟۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔