لواری ٹنل دیرسائیڈ پراین ایچ اے ٹھیکہدار کی کارکردگی ناقص ہے،انتظامیہ نوٹس لیں۔قاری جمال عبدالناصر

چترال(چترال ایکسپریس)مذہبی سماجی وسیاسی شخصیت قاری جمال۔عبدالناصر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ لواری ٹنل دیر سائیڈ پر این ایچ اے ٹھیکہ دار کی کارکردگی ناقص ہےبرف باری کے اس موسم میں ٹھیکہ دار کے پاس مشینری کی کمی ہے جس کے باعث  گزشتہ دنوں اہالیان چترال کو 36گھنٹوں تک مشینری نہ ہونے اور برف باری کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑا جو این ایچ اے زمہ داران کی سنگین غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ اس غفلت میں اپر دیر انتظامیہ برابر شریک رہی جو بغیر سڑک کا جائزہ لئے خطرناک موسم میں مسافروں کو موت کے کنوں کے پاس پہنچاکر خود آرام سے سوتے رہے جس کی بدولت سینکڑوں مسافروں کو جن میں بیمار بوڑھے بچے شامل تھے سخت ازیت سے دوچار رہے۔انہوں نے  ڈپٹی کمشنر چترال لوئیر کا شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈی سی کی بروقت کوشیشوں اور بذات خود نگرانی سے جن میں چترال سکاوٹس، چترال پولیس، چترال لیوی کے افیسرز اور جوانوں کی بروقت جدوجہد شامل تھی مسافروں کے جان بچانے کی کوشیشیں کامیاب ہوئی جس پر ڈی سی چترال محمد عمران خراج تحسین کے مستحق ہے قاری جمال نے اہالیان چترال کی طرف سے اہالیان اپر دیر قولنڈی مینہ خوڑ وغیرہ کے باشندوں کی مہمان نوازی اور انسانی ہمدردی پر اُن کو سلام پیش کیا جنہوں نے مشکلات سے دوچار اپنے چترالی ماوں بہنوں اور بچوں کی بھر پور دیکھ بال کیں گزشتہ دنوں چترال سایئڈ کے ٹھیکہ دارکی مشینری دیر سائیڈ لے جاکر راستہ صاف کرکے گاڑیوں کو سفر کے قابل بنایا گیا ورنہ کئ دنوں تک زمہ داروں اور دیر سائیڈ ٹھیکہ دار کی غفلت اور لا پرواہی سے راستہ صاف ہونے کا کوئ امکان نہیں تھا جبکہ ایم ڈی ایم اے کی واضح ہدایات کے باوجود دیر انتظامیہ اور این ایچ اے حکام کی چشم پوشی قابل مزمت ہے انہوں نے صوبائی و مرکزی حکومت اس نااہلی پر زمہ داران سے فوری باز پرس کرنے اور ٹھیکہ داروں کو فوری پابند کرکے ٹنل اپروچ روڈ کے دونوں سایڈوں پر ضرورت کے مطابق بھاری اور مناسب مشینری کی موجودگی کو یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیاتاکہ متواتر سڑک کو برف باری کے موقع پر سفر کے قابل اور محفوظ بنانے میں آسانی ہو بصورت دیگر کسی بھی نا خوشگوار حالات کی تمام تر زمہ داری این ایچ اے حکام اور دیر انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔