چترال،عوامی حلقوں کاڈی اہچ کیو ہسپتال میں تعمیر شدہ برن یونٹ چالو کرنےکامطالبہ

چترال (چترال ایکسپریس) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں ایک بین الاقوامی این جی اوکے فنڈز سے تعمیر کردہ برن یونٹ اپنے تعمیر کے چار سال بعد بھی چالوہونے کا نام نہیں لے رہا جبکہ اس این جی او نے اس یونٹ کے لئے تمام ضروری سازوسامان بھی فراہم کردیا تھا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمارت کی تعمیر کے بعد پہلے تو اسے اپریشن تھیٹر کے طور پر استعمال میں لایاجاتارہااور ہسپتال کے مستقل بنیادوں پر اپریشن تھیٹر کی تعمیر کے بعد اسے ای این ٹی یونٹ کے طور پر استعمال کیاجارہا ہے۔ چترال جیسے دورافتادہ علاقے میں برن یونٹ کی افادیت بہت ہی ذیادہ ہے جہاں جلنے والے زخمیوں کو پشاور منتقل کرتے ہوئے بہت سا وقت ضائع ہوتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے پر کئی افرادموت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق ہسپتال کے حکام اس یونٹ کو چالو کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ورنہ اسے اب تک چالو ہونا چاہئے تھا۔ اس یونٹ کی افادیت کااندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہیں آتشزدگی اور حادثات سے جلنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں جس طرح گزشتہ ماہ چترال ٹاؤن کے گولدور میں قائم ایک مدرسہ میں سیلنڈر کے پھٹ جانے کی وجہ سے ہوا تھا۔ چترال کے عوامی حلقے چترال کے منتخب نمائندگان کو اس غفلت میں برابرشریک قراردے رہے ہیں جوکہ عوام کے لئے 4کروڑ روپے کی کثیر رقم سے تعمیر ہونے والی جدید ترین عمارت کو اس کے مقصد کے لئے استعمال میں لانے میں ناکام رہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔