دادبیداد…اعلیٰ تعلیم کے بجائے…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اگر پاکستان کی حکومت اعلیٰ تعلیم کے بجائے فنی تر بیت ٹیکنیکل ایجو کیشن اور ووکیشنل ٹریننگ پر تو جہ دے تو پاکستان کے اندر کار خا نے لگا نے میں ملکی اورغیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت ہوگی، نیز پا کستان کا ریگروں کو بیرون ملک جا کر بہتر روز گار اور بہتر ذریعہ معاش کے حصول میں بھارتی اور بنگلہ دیشی نو جوانوں کا مقا بلہ کرنے میں آسانی ہو گی یہ بات ایک کا لم نگار یا قلم کار نہیں لکھ رہا بلکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ایک بڑے گروپ نے ان خیا لات پر مبنی رپورٹ جا ری کی ہے گروپ کا کہنا یہ ہے کہ پا کستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں غلط قوانین، ناروا پا بند یاں اور بد عنوان حکام بھی رکاوٹ ہیں تاہم بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی انڈسٹری کے لئے افرادی قوت دستیاب نہیں بھارت اور بنگلہ دیش سے افرادی قوت کو پا کستان لانا ممکن نہیں، سری لنکا، تھائی لینڈ اور فلپائن یا نیپال سے کاریگر بلانے کا آپشن بھی موجود نہیں مجبوراً ہم پاکستان سے ہاتھ کھینج لیتے ہیں اور انڈسٹری وہاں لگاتے ہیں جہاں افرادی قوت دستیاب ہو اور باقاعدہ ہنر مند افرادی قوت ہو، مختلف شعبوں کے ما ہر کاریگر ہاتھ آجائیں تو انڈسٹری لگانے کے لئے دیگر تمام رکا وٹیں دور کی جاسکتی ہیں یہ باتیں تجربہ کار سرمایہ کاروں کی ہیں ہم جیسے عام لوگ یعنی انگریز ی تر کیب کی رو سے لے میں (Lay man) بھی اپنے ارد گرد مشاہدہ کرکے اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں ایک متوسط گھرا نے میں 2بیٹیاں اور 3بیٹے پڑھ رہے تھے سب نے 16سال لگا کر بی ایس کرلیا، بی ایس کرنے کے بعد بے روز گار بیٹھے ہیں، ماں باپ نے اپنا پیٹ کاٹ کر ان کی اعلیٰ تعلیم پرجو سرمایہ لگایا وہ سرما یہ ضائع گیا کیونکہ ان میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ ماں باپ کی زند گی میں ان کو دو وقت کی روٹی کماکے دے سکے یا اپنے پاوں پر کھڑے ہو کر اپنی روزی روٹی کما سکے اولاد میں سے جس کو بھی بی ایس کے چار سا لہ کورس میں داخلہ ملا تو ماں باپ خو شی سے پھو لے نہیں سما رہے تھے 8سمسٹر پورے ہوئے تو پتہ لگا کہ اولاد کو غلط راستے پر ڈال دیا گیا تھا اس ڈگری کی کوئی منزل نہیں تھی اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں تھا مجبوری یہ تھی کہ ماں باپ اپنی اولاد کو پڑھا نا چاہتے تھے حکومت نے نو نہا لوں کو تعلیم دینے کے لئے کوئی بہتر اور با مقصد سسٹم نہیں دیا پہلے بارہ جما عتیں پا س کر اؤ پھر چار سال لگا کر 16جما عتیں پا س کراؤ پھر ان کو سڑک نا پنے پر لگاؤ یہ ایسا تعلیمی نظام ہے جو اپنے آپ کو فریب دینے کے مترادف ہے جاپان، کوریا اور چین سمیت ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہوتا وہاں 16سالہ ڈگری پروگرام صرف 5فیصد طالب علموں کے لئے ہے 95فیصد کو کاریگر بنایا جاتا ہے صرف ہنر سکھایا جاتا ہے، وہ لوگ ساتویں جماعت کے بعد 80فیصد نو نہالوں کے لئے ٹیکنیکل ایجوکیشن کا اہتمام کرتے ہیں بقیہ 20فیصد میں سے 15فیصد کو انٹر میڈیٹ لیول کے بعد پیشہ ورانہ تعلیم کے راستے پر ڈال دیتے ہیں یہ وہی کھیپ ہے جو ڈاکٹر، انجینئر اور اعلیٰ ترین کار کردگی کے حامل افیسروں کی صورت میں آگے جا کر قوم کی خدمت کرتی ہے، جو 15فیصد 16سالہ ڈگری پروگرام میں جاتی ہے اس کھیپ سے محقق، پرو فیسر اور دوسرے مفید لوگ مل جاتے ہیں جو ملک اور قوم کے کام آتے ہیں پکی بات یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا مطلب صرف بے روز گار پیداکرنا نہیں ہوتا بلکہ ملک کے لئے کارآمد شہری پیدا کرنا ہوتاہے اور کارآمد شہری اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ملک کے اندر 80فیصد نو جوانوں کو ٹیکنکل اور ووکیشنل ٹریننگ دینے کا موثر، جامع اور مربوط سسٹم موجود ہو ہم سی پیک کا بڑا ذکرسنتے اور پڑھتے ہیں لیکن ہمیں سی پیک کا فائدہ صرف اُس صورت میں ہو سکتا ہے جب ہمارے پاس مختلف شعبوں کے لئے کم از کم 10لا کھ تر بیت یا فتہ کا ریگروں کی ٹیم اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے تیار ہو اب بھی وقت ہے ہم اس مر حلے پر بھی کام کا آغاز کر کے اگلے 5سالوں میں 10لا کھ نو جوانوں کو فنی تر بیت دے سکتے ہیں یہ حقیقی اعلیٰ تعلیم ہوگی پھر سرمایہ کار آئینگے اور کارخانے لگا ئینگے اسطرح ملکی معیشت آگے بڑھے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔