تلخ و شیرین… “ایک درویش انسان کی ریٹائرمنٹ”..نثار احمد

محترم جناب احسان الحق صاحب بھی بارِ ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ آپ نے لگ بھگ سینتیس سال تک محکمہ ء تعلیم میں مختلف زمہ داریوں کو بطریقِ احسن نبھایا۔ اس پورے سینتیس سالہ دورانیے میں شعبے کی مان رکھتے ہوئے آپ نے ایسا پھونک پھونک کر قدم رکھا کہ ہر دیکھنے ، جانچنے اور پرکھنے والا داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ آپ کے الوداعی دن کی مناسبت سے گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول کے سبزہ زار میں مختصر تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمود غزنوی تھے جب کہ دیگر مہمانوں میں ایس ڈی پی او ایون جناب احسان اللہ ، سکول کے سابق اساتذہ قاضی محمد عابد، چرویلو وقار احمد، غلام سرور ، محمد سید اور ویلج چئیرمینز وجیہہ الدین، محمد رحمن اور عبد الصمد و دیگر شامل تھے۔
مقررین نے حاضرین و سامعین سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل صاحب کی پیشہ ورانہ خدمات کو قابل ِ رشک بھی قرار دیا اور قابل ِ تقلید بھی۔ ڈی ای او محمود غزنوی نے کہا
” آپ کی پیشہ ورانہ زندگی آفتاب کی مانند روشن ہے”
مفتی میر حسام الدین کا کہنا تھا
” ایسے بھرپور کیرئر کے بعد اجلے اور بے داغ دامن کے ساتھ رخصت ہونا قسمت والوں کے حصے میں آتا ہے”۔
سبجیکٹ اسپشلسٹ محمد الیاس نے کہا۔
” کرسی آپ کا کھلا ڈلا مزاج نہیں بدل سکی ”
آج جب تقریب میں مختلف مقررین آپ کی شخصیت سے جڑی مختلف قابل ستائش صفات کو بیان کر کے آپ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے تو آپ کے پہلو پر بیٹھ کر میں یہی سوچ رہا تھا کہ آج سچ میں کوئی بھی مبالغے سے کام نہیں لے رہا۔ بس حقیقت بیانی ہو رہی ہے اور حقائق کو ہی بس طشت ازبام کیا جا رہا ہے۔
ماضی میں علم و فیض کا مرکز رہنے والی وادیء ایون میں تولد پانے اور پلنے بڑھنے والے محترم احسان الحق نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا غاز محکمہء تعلیم میں بطور سرٹیفایئڈ ٹیچر سنہ 1987 کو لٹکوہ کے ایک سکول سے کیا تھا۔ ابھی بطور “سی ٹی” سال بھی نہیں گزرا تھا کہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے سینئر انگلش ٹیچر بن گئے ۔ بطور ایس ای ٹی آپ کی پہلی تقرری ارندو میں ہوئی تھی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب دور دراز کے سکولوں میں نویں دسویں جماعت کو پڑھانے والے اساتذہ خال خال ہی ہوتے تھے۔ ضلع بھر میں چند سکول ہی ایسے ہوتے تھے جہاں سینئر انگلش ٹیچرز اور سائنس ٹیچرز کی دستیابی ہوتی تھی۔ جب کبھی پرنسپل صاحب کے سامنے کسی استاد کی طرف سے پیریڈز کے زیادہ ہونے ذکر ہوتا تو آپ ارندو کی یادیں زندہ کرتے ہوئے بتاتے ۔۔۔
“ہم وہاں آٹھ آٹھ پریڈز پڑھاتے تھے ۔ مارننگ اسمبلی کے بعد درسگاہ میں داخل ہوتے اور نکلتے تب تھے جب چھٹی کی گھنٹی بجتی تھی۔”
دو ڈھائی سال ارندو میں درس و تدریس سے منسلک رہنے کے بعد سنہ 1989 کو آپ گورنمنٹ ہائی سکول ایون ٹرانسفر ہو گئے۔ سالوں تک بطور “ایس ای ٹی” جی ایچ ایس ایون میں تشنگان علم کی پیاس بجھانے کے بعد اگلی پوسٹ کے لیے نہ صرف قسمت آزمائی کی بلکہ اس میں سرخرو بھی ٹھہرے۔ پبلک سروس کمیشن کی ریکمنڈیشن پر اب کی بار ہیڈ ماسٹر کا آرڈر ہاتھ میں لیے گورنمنٹ ہائی سکول بروز پہنچ گئے۔ آگے بڑھنے اور ترقی کے زینے چڑھنے کا سفر رکا نہیں ، بلکہ برابر جاری رہا یہاں تک کہ چار سال ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ، ڈھائی سال ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور چھ سال پرنسپل رہ کر آپ نے اپنی صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا۔
اس پورے عرصے میں جس نے بھی آپ کے ساتھ کام کیا اس نے آپ کی وسعت ظرفی ، فراخ دلی، معاملہ فہمی، منکسر المزاجی، خودداری، سادگی، ملنساری، انسان دوستی اور درویشی کی گواہی دی۔ بطور قائد آپ نے ہمیشہ زیرِ کمان کام کرنے والوں کا بھرپور خیال رکھا۔ آپ مسند تک رسائی رکھتے ہوئے خاک نشین رہے۔ ٹھاٹھ باٹھ اور نخوت و رعونت کے مواقع پاتے ہوئے پیکرِ تواضع رہے۔ مالی فوائد پر دامن کی ستھرائی کو ترجیع دی۔ خودداری آپ کے مزاج کا گویا جزو لاینفک ہے۔ کام سے جی چرانے، سستی کا مظاہرہ کرنے اور بدعنوانی سے آپ کو اللہ واسطے کا بیر تھا۔ کرسی پر ہوتے ہوئے مالی معاملات کے اندر اللہ کے ولیوں جیسا صاف رہے۔ الغرض آپ نے اس انداز میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے بیڑے کو کنارے لگایا کہ آج لوگوں کے لیے ایک نظیر بن گئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔