نمائندگان و ممبران چترال ہوشیار باش۔۔۔تحرٕیر۔ شہزادہ مبشرالملک

یہ چترال کے لیے بہت ہی فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ اس الیکشن میں چترال کو بھر پور نمائندگی ملی تقریبا تمام پارٹیوں کے ممبران کسی نہ کسی صورت میں قومی اسمبیلی ،سینیٹ اور صوبإئی اسمبیلی میں موجود ہیں۔
جس طرح ملکی معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے تمام پارٹیوں اور ریاستی اداروں کی کوشش ہے کہ کسی طرح ملک کو اس معاشی افت سے نکلا جائے۔چاہیے پارٹیوں اور لیڈران کے درمیان کتناہی اختلاف کیوں نہ ہو لیکن ۔۔ سب سے پہلے پاکستان ۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ چترال کے تمام ممبران بھی چترال کی مشکل صوتحال کا ادراک کرتے ہوے باہم مل کر ایک وفد کی صورت آرمی چیف،وزیر اعظم ،صدر پاکستان کورکمانڈر کے پی ،ڈی جی إٓئی ایس إئی۔ ڈی جی ایف ائی اے ،ڈی جی آئی بی ۔اور ایم آئی سے چترال کی بہبود اور ترقی کے لیے بار بار ملاقات کی کوشیش کریں تاکہ ہمارے علاقے کے مسائل فوری حل ہوسکیں علاقہے اور لوگوں کی حالت میں بہتری آسکے ۔کرنے کے کام جو اس ابتدائی پارلیمانی سال میں ہوتے نظر آنے چاہیے ان میں سرفہرست یہ کام ہیں۔

1 ۔ چترال شندور روڈ این ایچ اے پراجیکٹ کی تکمیل اور کوالٹی پر زور۔
اس کے لیے شہزادہ افتخار ،شہزادہ سراج ،ایڈوکیٹ وقاص۔،صحافی فاروقی سے بریفنگ بہت ضروری ہے۔

2۔ چترال ۔گوبور بارڈر،ارندو،بورغل بارڈر ۔
جن کو کھولنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ تجارت اور روزگار کے مواقع حاصل ہوسکے اس کے لیے کسٹم کے اہل کار بھی تشریف لاچکے تھے مگر سکورٹی وجوہات کو بہانہ بنا کر یہ ملتوی ہوے ۔ جناب مہتر فاتح علی ناصر نے غالبا اس کے لیے ملاقتیں کیں ہیں جو سراہنے کے قابل ہیں لیکن اگر تمام ممبران مل کے ملاقتیں کریں گے تو یہ مسلہ دنوں میں حل ہوجایے گا ۔اس کے لیے بھی پہلے تیاری اور معلومات لینے کی ضرورت ہے ۔سنی اتحاد سے اتحاد کی طرح ۔۔۔ ڈونگو ۔۔۔ معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔

3۔ وزیر اعلی کے پی نے معدانیات کے حوالے سے جو پالیسی تر تیب دی ہے وہ چترال کے لیے نفع بخش ہے اگر اسے مزید بہتر کر کے چترال کے لوگوں کو اس میں شامل کیا تو اور بھی فایدہ ہوگا ۔اس سلسلے میں ماینز اونرز اور ان کے تنظیمات خصوصا شیزادہ مدثر سے بریفنگ بہت ضروری ہے۔

4۔ چترال مں سیاحت کے فروغ کے لیے ۔بروغل ۔شندور ۔کاغ لشٹ ۔زنی آن ۔اویر آن ۔کیلاش ۔گوبور ۔مدک لشٹ فیسٹولز کو ترقی دینا بہت ضروری ہے۔
اس میں مشکلات دور کرنے اور بہتری لانے کے لیے ۔شہزادہ مسعود ۔شہزادہ سیراج ۔جناب حریر شاہ صاحب شہزادہ ہشام اور دیگر دوستوں سے مشاورت کرنا ملاقاتوں سے پہلے بہت ضروری ہے ۔

5.گندم کی سبسڈی۔
کے لیے کام بھی بہت اہمیت کا حامل ہے اور لوگوں کی ضرورت بھی۔ اس کے لیے جماعت اسلامی خصوصا حاجی مغفرت شاہ صاحب اور ان کی ٹیم کی کوشیش قابل ستائش ہیں لیکں یہ مسلہ حل طالب ہے ۔

6۔ چترال میں بجلی کے مسایل۔
کا حل کروانا خصوصا اپر چترال میں ۔مستقبل میں گولین کے علاوہ ۔۔۔ ڑاوری شیشی کوہ پاور ہاوس اور دیگر سرکاری بجلی گھروں سے سستی ریٹ پر بجلی لینا بہت ضروری ہے ۔پاکستان بھر کے بجلی گھروں کے رخسارے لاین رنیٹ کے خسارے چترالیوں سے ڈیزل یعنی فیول چارجیز کے وصول کا خاتمہ بہت ہی ضروری ہے جو سراسر زیادتی ہے ۔اس کے علاوہ رایلٹی کی وصولی کا مطالبہ قومی اسمبیلی میں ہونا بہت ہی ضروری ہے۔

7.۔ سرکاری اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتی اور اس کے لیے چترالی افراد کا انتخاب۔
اور وقت سے پہلے اس کے لیے تیاری قابلیت کی نشانی ہے ۔ایسا نہ ہو دیگر اضلاع کے افراد سابق دور کی طرح ہمارے حق پہ قابض ہوں۔

8۔ این جی اوز کے سربراہاں سے نشنل اور انٹرنشنل روابط ان کے دفاتر کے تھرو بھی ہونا چاہیے تاکہ علاقے میں کچھ تبدیلی محسوس ہو یہ مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوگا۔

9۔ سرکاری اداروں سے مقامی لوگوں کو فایدہ پہنچانے کے لیے ۔چترال میں ایگرکلچر ریسرچ اسٹشن کو فعال کرانا ۔نئی زرعی تحقیق سے زمینداروں کو فایدہ پہنچانا تاکہ معاشی سرگرمی میں اضافہ ہو۔ہمارے فروٹ کے لیے مقامی صنعت کو فروغ دینا جہاں ڈرإی فروٹ ۔اسکواشیش۔ جام ۔مربے شامل ہیں اور چترال میں اس پہ اے کے ار ایس پی نے بہت تھے اسے مزید آگے بڑھانا تاکہ چترال میں سرمایہ آسکے۔

10. چترال میں گیس پلانٹ کے ادھورے منصوبے ۔گیریت انڈسٹریل زون ۔گرم چشمہ ۔تریچ ۔یرخوں روڈ کے کام کے لیے جدوجہد بھی آپ سب کی مشترکہ کام ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اور منصوبے ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے
. .
۔ 11. انجمن ترقی کھوار۔ چترال بھر میں کھوار ثقافت ۔ادب کے حوالے سے بہت ہی پرانا ادارہ ہے جو ۔دھایوں سے ممبران ۔سرکاری ذمہ داروں کے وعدوں کے باوجود ۔۔۔ چھت سے محروم ہے ۔اردو اکیڈمی ۔پشتو اکیڈمی ۔ھند کو اکیڈمی کے طرز پر کھوار اکیڈمی کی ضرورت وقت کا تقاضہ ہے۔اس کام کے لیے انجمن ترقی چترال کے لیے سرکاری سطح پر دفاتر ۔ہال اور چند کمروں کی عمارت کی بہت ہی ضرورت ہے اس کے لیے سرکاری زمین ۔کالونی دنین میں یا کوی تیار سرکاری عمارت بھی مستقل بنیادوں پر الرٹ کی جاسکتی ہے ۔اس کے لیے سفارشات انجمن کے زمہ داران سے مل کر مرتب کی جاسکتی ہے۔ اگر پروفیسر اسرار صاحب ۔پروفیسر ڈاکٹر عنایت فیضی صاحب ۔استاد محترم امین الرحمان چغتإی صاحب ۔جناب محمد عرفان صاحب ۔ جناب چیرمیں شوکت علی صاحب۔ جناب اقبال الدیں سحر۔جناب پروفیسر نقیب اللہ رازی صاحب ۔جناب پروفیسر ممتاز صاحب اور ان جیسے اکابریں کی زندگی میں یہ معمولی توجہ سے ہونے والا کام بھی جو ہم سب کی قومی زبان کی تحفظ کی ضامن ہے نہ کراسکے تو آپ ممبران چترال سب کو لوٹ کے چترال نہیں آنا چاہیے۔
12۔ یہ بے نظیری کے نام پہ خواری یہ یوٹیلیٹی کی لاینن انسانی وقار کے منافی اقدمات ہیں لوگوں کو شاستگی اور راز داری سے ان کے اکاونٹ میں پیسے اور کارڈ مہیا کر کے اسٹورز سے بھی ۔۔۔ طلحہ محمودی ۔۔۔ بے توقیری کا خاتمہ اسمبیلی میں قراداد لاکر کیا جاسکتا ہے جو آپ کی ذمہ داری ہے۔

13. نوٹ۔
.تمام ممبران اعلی تعلیم یافتہ اور اچھے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ۔شاستگی ۔بردباری اور انتھک محنت سے یہ یہ سارے کام ہوسکتے ہیں شرط یہ ہے کہ اخلاص نیت سے مل کے کام کیے جإیں نمبر گیم ۔ذاتی سستی شہرت۔ تعصب اور پارٹی ٹانگ اڑإی قومی تشخص کو بھی برباد کرکے رکھ دے گی ۔تمام ممبران چترال کے اہل دانش سے مشورے لے کر آگے بڑھیں تو منزل اور بھی قریب إٓے گی ۔البتہ اسمبلیوں میں جاتے وقت ۔چمچوں کی یلغار اور ہمیشہ چیپک جانے والے دوست نما ۔۔۔ دم دار ستاروں ۔۔۔ سے گریز ہی آپ سب کی مشکلات میں کمی اور وقار میں اضافہ لاسکتی ہے اب آپ کسی پارٹی کی نہیں ۔۔۔۔ چترال۔۔۔ کے نمائندے ہیں۔ باقی کمزوری کی صورت میں چترال کی مزید بربادی ہمیں قبول نہیں ۔کیوں کہ ہمارا بے رحم قلم ۔۔۔۔ اقبال الدین سحر کے قلم کی طرح لکھنے سے انکار نہیں کرتا نہ ٹریسر فایرسے دریغ کرتا ہے ۔اب سب حکومتوں میں شامل ہیں پی ٹی آی کے مظلومیت کے دور بھی گزر چکے ہیں اور ہمدردیوں میں ہم نے کھویا بہت ہے کچھ ہے پایا تو دیگر جماعتوں کے ۔۔۔ صرف ۔۔۔ یوتھیہ ۔۔۔ کے طعنے ہیں۔
لہذا اللہ آپ سب کا حامی ناصر ہو ۔دوستوں سے گزارش ہے کہ فقیر کے گزارشات اپنے نمائندوں تک پہنچانے میں ہماری مدد فرمإیں۔ شکریہ نوازش

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔