دھڑکنوں کی زبان۔۔”ہم سبق کیوں نہیں سیکھتے؟“۔۔محمد جاوید حیات

ہمارے سامنے دنیا کی تاریخ عیان پڑی ہے ۔۔تجربات ہیں ۔۔حکایات ہیں۔عروج و زوال کی داستانیں ہیں ۔۔۔ان کی وجوہات ہیں ۔۔۔عروج کیسے، کب ،کس طرح آتا ہے ۔۔۔زوال کیوں، کیسے، کس طرح آتا ہے ۔۔دنیا میں قوموں کی تاریح کی روشن مثالیں ہیں ۔۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے قوموں پر جو عتاب آۓ وہ اخلاقی گراوٹ معاملات کی بگاڑ فحاشی عریانی اور ظلم کی وجہ سے آیا ہے ۔۔ناپ تول میں کمی بظاہر معمولی لگتا ہے مگر ایک قوم اس وجہ سے اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی ۔۔فحاشی ایک حیوانیت ہے بظاہر انفرادی فعل لگتا ہے مگر ایک قوم اس گناہ کی وجہ سے زمین سے اٹھا کر پھر زمین پہ پٹخ دی گئی۔۔نافرمانی اور جہالت یہودیت کے ساتھ لازم و ملزوم ٹھری تو ان کو بار بار قہر خداوندی کا شکار ہونا پڑا مگر باز نہ آۓ ۔۔تکبر غرور نے ایک قوم کو دریابرد کیا ۔۔قران کی رو سے زمین میں فساد لوگوں کے کرتادھرتا ہیں ۔۔ہم سب کچھ جانتے ہوۓ بھی انہی گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور مطمین ہیں کہ ہم کسی عتاب کا شکار نہیں ہونگے۔ہمارے سامنے ظلم ہورہا ہے ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوۓ ہیں ۔وہ فعل جو ہمارے ہاں سے ظلم کے خلاف سرزد ہوجاۓ تو دہشت گردی ہے اور کسی دوسرے کی طرف سے ہوجاۓ تو انصاف ہے ۔۔افغانستان، عراق ،شام، فلسطین اور کشمیر میں اغیار کی بربریت جاٸز ہے ہماری طرف سے مزاحمت دہشت ہے یہ اس لیے کہ ہم نے اپناوہ سب کچھ کھو دیا ہے جس کی بنا ہمارا وجود برقرار اور مقام قاٸم تھا ۔ہمارا تاجر، ہمارا کارخانہ دار ،ہمارا ڈرائیور، ہمارا انجینئر ،ہمارا استاد، ہمارا سی ایس ایس آفیسر بدعنوانی کو حق سمجھتے ہیں ۔کارخانہ دار دو نمبر کامال مارکیٹ میں لاۓ گا پوچھنے والا کوٸی نہیں ہوگا ۔۔ڈاکٹر گھی کو مضر صحت کہے گا مگر بازار سے وہی گھی خریدے گا ۔پولیس ڈرائیور کو زیادہ کرایہ لینے پہ ملامت کرےگا لیکن اس کے سامنے وہی ڈرائیور اپنی مرضی سے کرایہ لےگا ۔عدالت میں جھوٹی گواہی ہوگی ۔۔یہ گوہی ایک تکڑا وکیل موکل کو سیکھاۓ گا کیس جیتے گا انصاف کا جنازہ نکل جاۓ گا کوٸی پوچھنے والا نہیں ہوگا ۔دفتروں میں بیٹھے بڑے بڑے آفیسرز کواپنی من مانیوں اور عیاشیوں سے فرصت نہیں ہوگی ملک کا نظام درہم برہم ہوجاۓ پوچھنے والا کوٸی نہ ہوگا ۔۔قرضے پہ قرضے چھڑیں گے ۔۔اشرافیہ کی عیاشیوں میں کمی نہیں آۓ گی کوٸی سوچنے والا نہ ہوگا ۔۔کیا یہ سب کوتاہیاں ان قوموں سے سرزد نہیں ہوٸیں جو تباہ ہوۓ ۔۔برصغیر میں مسلم حکمرانوں کو زوال کیوں آیا؟ ۔۔سپین کی سات سو سالہ عظیم سلطنت کو کیوں زوال آیا؟ ۔فلسطین دو دفعہ ہاتھ سے کیوں گیا؟ ۔سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کیوں ہوئے؟ ۔۔عباسی اور اموی سلطنتوں کے نام نشان کیوں مٹ گۓ آخر کوٸی وجہ تو تھی ۔اگر کوٸی فکرمند دل یہ سوچے کہ ہماری موجودہ حالت کس نہج پہ ہے تو کڑھ جاۓ گا ۔لرزہ براندام ہو جاۓ گا۔۔جہاں ہم کھڑے ہیں یہ زوال کی دہلیز ہے ۔ہمارے کارتوت ہمارے منہ پہ طمانچے ہیں ۔ہمارے عدلیہ کے معیار پر غور کریں ۔۔ہماراالیکشن دیکھیں ہماری لیڈرشپ کا معیار دیکھیں ہمارے پارلیمنٹ کے اندر ہمارا اخلاق دیکھیں ۔کیا ایسی قوم آگے بڑھنے کے لاٸق ہے ۔کیا یہ قوم ملک مضبوط کر سکتی ہے ۔کیا یہ عروج کے قابل ہے ۔ہمیں سبق سیکھنا چاہیۓ ۔۔ہمیں تاریخ پڑھنا چاہیۓ ہمیں اپنے کارتوتوں پر غور کرنا چاہیۓ اگر ہم سبق سیکھنے کے قابل ہو جاٸیں تب کہیں جاکے اپنے آپ کو سنبھالنے کی فکر کر سکیں گے ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔