اپر چترال ،برف باری سے متاثرہ خاندانوں میں امدادی چیک تقسیم

اپرچترال (ذاکر محمد زخمی)وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر این ڈی ایم اے کی طرف سے اپر چترال انتظامیہ نےمتاثرین میں امدادی چیک تقسیم کی جو کلی یعنی مکمل نقصانات کے ازالے کے طور پر 10 متاثرین کو7/ 7سات لاکھ روپے اور جزوی نقصانات کے عوض350000 روپے فی جزوی متاثر کے حساب سے تقسیم کیے گئے۔چیک تقسیم کرنے کی تقریب اسسٹنٹ کمشنر مستوج شاہ عدنان کی موجودگی میں ان کی زیرِ نگرانی ان کے دفتر میں منعقد ہوئی اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ نون کے ضلعی صدر سابق ایم پی اے سید احمد خان ،جنرل سکرٹری پرنس سلطان الملک،سینئر نائب صدر پرویز لال، تحصیل صدر موڑکھو محمد اعظم خان ،تحصیل صدر مستوج جاوید لال،سنیئر اراکین عارف اللہ،ظفر حسین،محمد ایوب,صادق اللہ ،افسر علیم،سلطان نگاہ ،سیف اللہ،مبارک حسین اور دیگر پارٹی سینئر قیادت موجود تھے ۔اس موقع پر متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد شفیع نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کی مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ قلیل مدت میں شفافیت کے ساتھ متاثرین تک امدادی چیک پہنچائی جو مرکزی حکومت کی عوام دوستی کامنہ بولتا ثبوت ہے انہوں ضلعی انتظامیہ کے زمہ دار اسٹاف کا بھی شکریہ ادا کیا قلیل مدت میں اسسمنٹ کا کام شفاف طریقے سے کی۔اس موقع پر سابق ایم پی اے سید احمد خان صدر مسلم لیگ اپر ،و دیگر نے تاثرات بیان کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت کی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ہر مصیبت کے وقت چترال کے ساتھ ہمدردی اور خصوصی تعاون کرتا رہا ہے۔اس وقت بھی اپنی سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے چترال کے متاثرین تک اولین فرصت میں امدادی چیک پہنچا کر محبت اور عوام دوستی کی ثبوت دیا اس پر مرکزی حکومت کے شکر گزار ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ یہ کوئی الیکشن مہم نہیں الیکشن گزر گئی۔ لیکن چترال کے حقیقی محسنوں کو نظر انداز کرنا چترال کے مفاد میں ہر گز نہیں۔مفروضوں اور افواہوں کی بنیاد پر نواز لیگ کے خلاف پروپگنڈوں کو اہمیت دیتے ہوئے عرصہ دراز سے مسلم لیگ کے ساتھ دشمنی کو چترال میں فوقیت دی جارہی ہے جو صداقت اور حقیقت کے منافی اور چترال دشمنی سے کم نہیں ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔