شاہی مسجدچترال کی کمرشل اراضی کی پشاور میں نیلامی کو منسوخ کیا جائے۔آل پارٹیز اور سول سوسائٹی تنظیموں کا مطالبہ

چترال (چترال ایکسپریس) شاہی مسجد سمیت جامع مسجد ژانگ بازار اور مسجد بلال دروش کو محکمہ اوقاف خیبر پختونخوا کی طرف سے اپنی تحویل میں لینے کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے ایکاکرلیا اور اس کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرتے ہوئے اسے ناکام بنانے کا اعلان کردیا۔ اتوار کے روز سابق ایم پی اے اور امیر جمعیت علمائے اسلام لویر چترال مولانا عبدالرحمن کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں ایک متفقہ قرار داد میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیاکہ چترال کے مساجد کو محکمہ اوقاف کی طرف سے اپنی تحویل میں لینے کے عمل کو فوری طور پر روکتے ہوئے پیر 18مارچ کو شاہی مسجد کی کمرشل اراضی کو پشاور میں نیلامی کو منسوخ کیا جائے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ شاہی مسجد کے لئے سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے گرانٹ دی تھی اور محکمہ اوقاف کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے جبکہ اس محکمہ اوقاف کی اس قدم کا مقصد مسجد کی زمین اور دوسرے وسائل کو ہتھیانے کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس محکمے کے زیر انتظام مساجد بشمول مسجد مہابت خان کی حالت زار بہت ہی خراب ہے اور چترال کے عوام شاہی مسجد کی بھی یہ حالت ہوتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے۔ اجلاس میں سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر عبدالولی خان ایڈوکیٹ، جماعت اسلامی کے مولانا جمشید اور وجیہہ الدین، جے یو آئی کے قاری جمال عبدالناصر اور مولانا فتح ا لباری، پی پی پی کے فتح الرحمن لال، اے این پی کے میر عباداللہ خان، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ساجد اللہ ایڈوکیٹ، تجار یونین کے بشیر احمد، اظہر اقبال اور دوسرے شامل تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔