درہ روشگول تریچ اور حملہ آور بالشویک قبائل اوران کے اثرات۔۔۔شاہ حسین گہتوی

ضلع چترال کے اہم گزرگاہوں یعنی بروغل، شاہ جنالی اور دوراہ کے علاوہ روش گول یا نالہء روش علاقہ تریچ عہد قدیم میں علاقہ چترال اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان ایک اہم گزرگاہ رہا ہے۔ اسی گزرگاہ کے زریعے وسط ایشیا سے حملہ آور فوجیں آیا کرتی تھیں جسے مقامی لوگ ”بول شیریک“ کہلاتے تھے جو روسی زبان کی اصل لفظ بالشویک (Bolshevik) سے ماخوذ تھی۔ اگرچہ یہ اصطلاح روسی کمیونسٹ ورکروں کے لیے استعمال ہونے لگا تھا مگر چترال میں یہ لفظ روسی انقلاب سے بہت پہلے روسی اور منگول و ازبک وغیرہ حملہ آوروں کے لیے مقامی لوگ استعمال کیا کرتے تھے۔
روش گول یا نالہ روش کا وجہ تسمیہ بھی ایک روسی علاقہ کے باشندوں سے منسوب روش گول کہاجاتا ہے۔ پروفیسر عثمان علی نے اپنی کتاب ”قبائل قراقرم“ میں لکھا ہے۔ ” یہ وہی یوچی ہیں جو چین کے مغرب میں گوبی کے ساتھ ساتھ آباد ہوگئے تھے۔ ان کا اصل وطن دشتِ روش (Dasht-e-Rosh) تھا جہاں ان کے بھائی بند ستھیس جمعی رہا کرتے تھے اور کسی انقلاب کے تحت ستھیس کا ایک جتھا چین کے متصل علاقوں میں رہنے لگا تھا جسے چینیوں نے یوچی کا نام دیا۔
قبائل قراقرم (466:2000)
یوچ اور یوچی کی اصطلاح:
منگولی زبان میں یوچ (Yuch) اور یوچی ایک منگول قبیلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چترالی زبان میں یوچ ایک شکاری پرندہ کا نام ہے۔ منگول قبیلہ یوچ اور چترالی شکاری پرندہ کے نام کی مشابہت ان کے گوشت خوری کے عادت کی وجہ سے تھا۔تاتاری یعنی مغل شکار سے گزر اوقات کرتے تھے اور یوچ یعنی باز بھی شکار کے گوشت پر زندگی گزارتا ہے۔
مقصود شیخ نے اپنی کتاب ”چنگیز خان“ میں منگولوں کے متعلق لکھا ہے۔ ” ان کا کھانا کسی ذائقے یا لذت کے بغیر ہوتا تھا۔ ہر وہ چیز جو کھائی جاسکے وہ کھالیتے تھے۔ حرام، حلال کی ان کے ہاں کوئی تمیز نہ تھی۔کتے کو بڑی رغبت سے کھاتے تھے۔ بھیڑیے کو کاٹ کر کھا جاتے تھے۔ لومڑیاں اور گھوڑے ان کے دسترخوان کی زینت تھے۔ (18:2011)۔ یعنی تاتاری ایک گوشت خور قبیلہ تھا۔ فاضل مصنف نےتاتاریوں کے قدیم خوراک کی تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے۔ ”دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ گندم، نہ روٹی، نہ سبزی اور نہ کھانا پکانے کا تیل تھا، تھا تو صرف گوشت ہی گوشت تھا۔ (18:2011)
پروفیسر عثمان علی نے یوچ یعنی منگول قبیلہ کی مذید وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ”حالانکہ چینیوں نے دیوار عظیم شمالی حملہ آور اقوام جن میں یوچ (Yuch)، ستھیس اور دیگر منگول قبیلے تھے، سے بچنے کے لیے بنائی تھی۔ (466:1999)

چترال میں منگولی اثرات لکھاریوں کی نظر میں
سید حسن شاہ کاظمی:۔

شاہ صاحب اپنے مقالہ بعنوان ”ماہ قاشقار“ میں لکھا ہے۔ ” ایک صدی قبل اس کا نام قاشکار تھا۔ یہ منگولی زبان کا لفظ تھا جس کو فارسی میں کاستگار کہتے تھے۔ میرے خیال میں اس کا مآخذ منگولی زبان ہے کیونکہ ابتدا ہی سے یہ علاقہ منگولین نسل کا مرکز توجہ اور مسکن رہا ہے“۔

کوثر پروین:

محترمہ کوثر پروین صاحبہ اپنی کتاب ”وسط ایشیائی ریاستیں“ میں لکھا ہے کہ ازبکستان، خیوا، کوہ کند(کھوکند) اور بخارا پر مشتمل ایک ریاست تھا۔ قیاس کیا جاتا ہے کھوکند کے ازبک قبائل بھی غالباً روش گول یا نالہ روش کے راستے چترال کے بالائی علاقی تریچ میں داخل ہوئے ہونگے۔ اس طرح کھوکند سے آنے کی وجہ سے یہ ازبک قبیلہ کھو مشہور ہوئے ہوں گے۔ اپنی کھو قبائل کی مناسبت سے علاقہ کھو یعنی توری کھو اور موڑی کھو کے علاقے شہرت پاچکے ہیں۔

مذہبی اثرات:

منگولوں کے مذہب کے متعلق مقصود شیخ نے اپنی کتاب ”چنگیز خان“ میں لکھا ہے۔ ” جہاں تک منگولوں کے مذہب کا تعلق تھا وہ شمانی نظریے (Shamanism)کی ایک قسم تھی۔
منگولوں کا مذہبی پیشوا ”شمان“ ہوا کرتا تھا۔ چترال اور گلگت میں بھی شمان ہوا کرتے تھے جو قدیم چترال و گلگت میں مذہبی پیشوا ہوا کرتے تھے۔ ان مذہبی پیشواؤں کو ”بٹان“ ”دیہار (Dehar)“ اور شمان کہا کرتے تھے۔
شمانی مذہب کے متعلق وزیر محمد اشرف خان اپنی کتاب The Hunter land of Isia جس کا اردو ترجمہ بشیر اللہ رونو نے ایشیا کے دور افتادہ سرزمین کے نام سے کیا ہے، میں لکھا ہے۔ ”گلگت کے کا ابتدائی مذہب مافوق الفطرت وجود (بدروحوں، دیوی وغیرہ) کی پوجا پاٹ کی ایک نوع تھی جو نادیدہ طاقتوں کے ساتھ مذہبی عقیدتوں کی بنیادی شکل تھی۔ جنہیں یقینا چند مذہبی رسومات کی ادائیگی اور منتر وغیرہ پھونکنے کے عمل سے قابو میں رکھا جاسکتا تھا۔پوجا کی یہ شکل نہ صرف گلگت بلکہ اس کو چوروں طرف سے گھیرے ہوئے دیگر جملہ علاقہ جات، جیسے چترال، ترکستان، تبت، چین اور منگولیا میں بھی حاوی و غالب رہی۔ تاریخ میں اسے ”شامانیزم“ (شمانی) سے موسوم کیا جاتا ہے۔ (115: 2015)
بروشو قبائل اور بروشال میں سید محمد یحی ٰ شاہ الحسینی نے لکھا ہے۔ ” شامن ازم (Shamanism)کے حوالے قبل از تاریخ انسانی معاشرے سے ملتے ہیں جس وقت انسان غاروں میں سکونت پذیر تھا اُس وقت شامن ازم انسان کا مذہب رہا ہے۔
قرون وسطیٰ یعنی چھٹی صدی عیسوی میں چینی اور ایرانی دستاویزات سے شامن ازم کا سراغ ملتا ہے۔“
شاہ صاحب اس ضمن میں آگے چل کر لکھا ہے۔ ”وہ اندرون اور وسط ایشیا میں شامن ازم عروج پر تھا چنانچہ بارہویں صدی عیسوی میں منگولیا میں چنگیز خان کے دربار میں (Shaman) مذہبی سرگرمیوں (رسومات) کی رہنمائی کے فرائض سرانجام دیتا تھا۔ (70:2006)
شامن ازم کے کرداروں میں دنیل (Danyal) یا بٹان ہوتے تھے۔ چترال کے کھو، کالاش اور گلگت کے شین اور بروشو قبائل میں بٹان، شامن، دیہار ہوا کرتے تھے جو مذہبی رسومات کی ادائیگی پر مقرر تھے۔
راقم کے پاس مردان قلی بیگ ابن سنگ علی کا جاری کردہ ایک سند 1181 ہجری کی ایک نقل موجود ہے جس میں شمان نامی ایک معتبر کو جائیداد بخش دی گئی تھی۔
علاقہ قاقلشٹ میں ایک مقام کا نام بٹان زا (Batan Za)ہے۔ اسی طرح علاقہ گہت موڑکھو کے ایک مقام کا نام بٹان مڑہ ہے۔ یہی بٹان، دیہار اور شامن یا شمان قدیم چترال اور گلگت میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مقرر تھے۔
2۔ چترالی ختان یا بائی پش اور روسی کمرے کی مشابہت:
چترالی ختان یا بائی پش ہو بہو روسی ساخت کی ہے۔ مارکوپولو روسی رہائشی کمرے کا یوں نقشہ پیش کیا ہے۔ ” یہ آتش دان بڑے کمروں کی صورت میں ہیں۔ انہیں لکڑی کے شہتیروں سے بنایا جاتا ہے جنہیں ایک دوسرے کے اوپر لٹا دیا جاتا ہے۔ انہیں اس طرح مضبوطی سے جما کر رکھا جاتا ہے کہ ان کے بیچ معمولی سا خلاء بھی باقی نہیں رہتا۔پھر ان پر چونے یا ایسی ہی کسی مواد کا لیپ کردیا جاتا ہے تاکہ یہ ٹھنڈ اور ہوا سے محفوظ رہیں۔ چھت میں دھوں کے اخراج کے لیے ایک سوراخ (کماڑ) بنایا جاتا ہے۔ آتش دان کے اندر کٹی ہوئی لکڑیوں کا انبار موجود ہوتا ہے۔ لوگ اس میں سے لکڑیاں اُٹھا کر الاؤ میں جھونکتے رہتے ہیں جس سے شعلہ بلند رہتا ہے۔ جب تک آگ میں سے دھواں نکلتا ہے چھت کا سوراخ کھلا رہتا ہے لیکن جب دھواں کم پیدا ہو تو اسے نمدے کے ایک دبیز ٹکڑے کے ساتھ (کماڑ دینی) ڈھانپ دیا جات اہے۔ تب دہکتے ہوئے انگارے کمرے کو گرم رکھتے ہیں۔“ (305: 2009)
قدیم چترال میں بھی روسی ساخت کے اسی چترالی مکان کو سردیوں میں اسی طرح گرمایا جاتا تھا البتہ پائینی علاقوں میں چھت کے سوراخ (کماڑ) کو نہیں ڈھانپا جاتا تھا بلکہ کھلا چھوڑ دیا جاتا تھا۔ دورِ جدید میں چترالی انگریزی ساخت کے کمرے بنائے جاتے ہیں۔ قدیم دور کے روسی ساخت کے کمرے اب آخری سانس لے رہے ہیں۔
3۔ چہرے پر لیپ کرنے کا رسم:
مقصود شیخ نے اپنی کتاب ”چنگیز خان“ میں لکھا ہے۔ ” منگول عورتیں چہرے پر عجیب قسم کے رنگ پھیر لیتی تھیں بعض اوقات اس کاریگری میں اپنا چہرہ ہی بگاڑ لیتیں۔“ (19:2011)
چترال کے کھو اور کالاش خواتین بھی چہرے پر لیپ کیا کرتی تھیں۔ دنبے اور بکرے کی سینگ پہلے گرم راکھ میں اور پھر دہکتے ہوئے انگاروں پر پکاتے تھے۔ پکنے کے بعد اس کو ٹھنڈا کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ان کو کھرچ کھرچ کر دھوتے تھے پھر کسی پتھر پر تھوڑا سا پانی ڈال کر سینگ کو رگڑ تے ہیں۔اس سے زردی مائل مٹیالا مواد نکلتا ہے۔ اسی مواد کو بچے، بچیاں اور عورتیں چہرے پر لیپ کرتی تھیں۔ یہ موسم بہار اور موسم گرما میں دھوپ کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے استعمال کیا کرتی تھیں۔ خواتین زچگی میں بھی اسے استعمال کرتی تھیں جسے پُورُو کہا جاتا تھا۔ دلہن کو رونگی سے پہلے اس قسم کی میک اپ استعمال کرائی جاتی تھیں جسے چُوٹ دیک کہلاتی تھیں۔
مختصر یہ کہ بولشویک حملوں کی وجہ سے وسط ایشیا اور چترال کے درمیان نسلی، لسانی اور تہذیبی روابط پیدا ہوئے تھے۔

حوالہ جات /کتابیات:
۱۔ مقامی قدیم زبانی روایات
۲۔ قبائل قراقرم مصنف پروفیسر عثمان علی
۳۔ سفرنامہ مارکوپولو
۴۔ چنگیز خان مصنف مقصود شیخ
۵۔ ایشیا کے دُور افتادہ سرزمین مترجم بشیر اللہ رونو
۶۔ بروشو قبائل اور بروشال مصنف سید محمد یحیٰ شاہ الحسینی
۷۔ مختصر ترین تاریخ قوم کالاش مصنف شاہ حسین گہتوی
۸۔ وسط ایشیائی ریاستیں مصنفہ کوثر پروین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔