دادبیداد…فلسطین کی جنگ کے اثرات…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

جب سکول میں ہمیں تاریخ کی بڑی جنگوں کے بارے میں پڑھایاجاتا تھا تو جنگ کے اسباب واقعات اور نتائج کو الگ الگ پڑھایاجاتاتھا اور سب سے زیادہ زور جنگ کے نتائج پردیاجاتاتھا گذشتہ پانچ مہینوں سے فلسطین میں دسویں بڑی لڑائی جاری ہے لڑائی ابھی ختم نہیں ہو ئی اس کے نتائج اوراثرات کی بحث چھڑ گئی ہے ایک بات اس کے اسباب اوراثرات دونوں میں آتی ہے اوروہ بات ہے نومبر 2024میں امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخا بات میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی انتخابی مہم کے حوالے سے ہے 7اکتو بر 2023کو فلسطین کی نئی جنگ اس انداز میں شروع ہوئی جس انداز میں اگست 1990میں عراق کو ہمسایہ ملک کو یت پر حملہ کرنے کی ترغیب دی گئی تھی دو دن پہلے عراق کی مدد کا دعویٰ کرنے والوں نے کویت پر حملے کا بہا نہ بنا کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، ریپبلکن آرمی اور صدام حسین کے نا م کا صفا یا کر دیا، لیبیا کے معمر قذافی کو عبرت کا نشان بنا یا اسی طرح7اکتوبر کو ایک جنگی چال کے طور پر غزہ سے چند میزائیل جنوبی اسرائیل کی طرف فائر کرائے گئے جواب میں غزہ کی پٹی پر دشمن نے حملہ کیا سوا پانچ مہینوں کی یک طرفہ جنگ میں غزہ کی فلسطینی سرزمین کھنڈرات میں تبدیل ہوئی بے گنا ہ فلسطینیوں میں سے 55ہزار کو شہید کیا گیا 27ہزار شہری معذور ہوئے، دشمن کے جنگی جہازوں نے خاص طور گنجان اباد بستیوں پر بمباری کر کے ہسپتالوں، مسجدوں اور سکولوں کو نشانہ بنایا، سڑکوں اور پانی کے منصوبوں کو برباد کیا، مارکیٹوں اور اناج کے ذخیروں پر بمباری کی، شہید ہونے والوں میں 22ہزار نابالغ بچے بھی شامل ہیں، 7اکتو بر 2023سے اب تک غزہ کی پٹی چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں ہے، خوراک اور ادویات لیکر غزہ می داخل ہونے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایاجاتاہے زحمیوں کو باہرنکالنے والی کوئی ایمبولینس دشمن کی بمباری سے محفوظ نہیں اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیموں کے دفاتر بھی دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں عالمی ریڈکراس کے دفاتر بھی دشمن کے حملوں سے محفوظ نہیں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کا قتل عام کیا جارہا ہے لیکن حقیقت میں یہ اسرائیل کی جنگ نہیں ایک بڑی طاقت کی جنگ ہے اس جنگ کے اثرات بہت دوررس نظر آ رہے ہیں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یوکرین کی جنگ نے دوسری عالمی طاقت روس کو کسی مظلوم قوم کی حمایت کے قابل نہیں چھوڑا چنانچہ فلسطینیوں کو دوسری عالمی طاقت کی طرف سے کوئی مدد نہ مل سکی اور یہ مسلمانوں کی بے بسی کا بڑا سبب ہے ایران، شام اور یمن کی جنگوں میں روس کی طرف مسلمانوں کی بھر پور مدد کی گئی تھی اور کھلم کھلا مدد دی گئی تھی، فلسطین کی جنگ کے اثرات میں سے دوسرا دور رس اثر یہ ہے کہ 1991سے پہلے 57اسلامی ممالک کا نام لیا جاتا تھا وسطی ایشائی ممالک کی آزادی کے بعد اسلامی ممالک کی تعداد 64ہو گئی تھی اسلامی ملکوں کی تنظیم اوآئی سی کو موثر پلیٹ فارم کا درجہ دیا جا تا تھا افغانستان پر امریکی قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لئے او آئی سی ہر سال دو یا تین غیر معمو لی اجلا س منعقد کر تی تھی، مشرقی وسطیٰ اور خلیجی مما لک میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر وانے کے لئے او آئی سی کے چار خصو صی سربراہ اجلا س بلا ئے گئے تھے غزہ پر دشمن کے حملوں کو رکوانے اور جنگ بندی کروانے کے لئے او آئی سی کے ایک اجلا س کی بھی اجازت نہیں ملی 2017میں 7اسلامی ملکوں کی مشترکہ فوج بنا ئی گئی تھی اگرچہ اس فوج کو ختم کرنے کا کوئی باضا بطہ اعلان نہیں ہواتا ہم غزہ کی جنگ میں مسلمانوں کی کوئی فوج نظر نہیں آئی فلسطینی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ عرب بھی ہیں عربوں کے پاس تیل اورگیس کے وافر ذخائر کی بے تحاشا دولت موجود ہے عرب لیگ ہے، خلیج تعاون کونسل بھی ہے مگر غزہ کے فلسطینی مسلمان دشمن کے سامنے بے بس ہوگئے عربوں کی دولت کام نہیں آئی ”گنتا جا شرما تا جا“ اس جنگ کا ایک اور دیرپااثر سامنے آیا ہے جو عالمی تناظر میں سب سے زیا دہ افسوس ناک ہے عالمی میڈیا نے باربار دکھایاہے کہ یہ صدی آزادی کی صدی نہیں اٹھارویں صدی کی طرح نو آبادیاتی غلامی والی صد ہے غزہ کے مظلوم فلسطینی امریکی انتخابات کا ایندھن بن رہے ہیں دنیا کا کوئی ملک ان کے حق میں اوازنہیں اٹھاسکتا، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی انسا ن دوستی اور جمہوریت کا پرو پگینڈا جھوٹا ثابت ہوا ہے پرندوں کی جان بچانے والوں نے 170دنوں کی یک طرفہ جنگ میں انسانیت کے لئے آواز نہیں اٹھائی العرض دسویں فلسطینی جنگ کے اثرات کا احاطہ کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔