والد بزرگوار نثار احمد شاکر ۔۔ قسط نمبر 1۔ از آصف نثار غیاثی

موت بر حق ہے مگر ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ ابو کو منوں مٹی تلے ان کی حقیقی و آخری آرامگاہ میں اللّٰہ پاک کے سپرد کر آۓ ہیں عمر کے اس حصہ میں بھی انہوں نے ابھی بہت کچھ کرنا اور دیکھنا تھا کئی کتابوں کے مسودے مکمل کرنے تھے زندگی بھر کے تجربات و مشاہدات نوجوان نسل کے لیے ضبط تحریر میں لانے تھے اور سب سے بڑھ کر ننھی پوتی حمنہ کو اپنے ساتھ عادی کرنے کی غرض سے بازار لے کر جانا تھا اتوار تین مارچ کو وہ بیماری کا شکار ہوئے اس سے محض دو دن پہلے جمعہ کو اچانک آواز دی کہ حمنہ کہاں ہے اسے میرے پاس لاؤ میں اسے خود بازار لے جا کر چیزیں دلوانا چاہتا ہوںسب نے کہا کہ سخت سردی ہے ہلکی بارش بھی ہو رہی ہے کوئی اور لے آئے گا مگر کہنے لگے کہ نہیں میں خود اس لیے لے کر جانا چاہتا ہوں کہ یہ تمہاری میرے ساتھ عادی ہو جاۓ چادر اوڑھ کر باہر نکلے مگر بارش کی وجہ سے واپس آگئے اور حمنہ کو نہ لے جا سکے اور پھر اتوار کو ایسے بستر سے لگ گئے کہ دوبارہ اٹھنا نصیب نہ ہو سکا فالج سے زیادہ ان کا مسلہ نمونیا کا تھا سانس بحال نہیں ہو پارہی تھی پھر بھی اس صورت حال کا انتہائی بہادری کے ساتھ دو ہفتے تک مقابلہ کیا ہمارا آخر تک یہی خیال تھا کہ چند روز میں سانس بحال ہونے کے بعد گھر لے آئیں گے اور فالج کا علاج گھر پر چلتا رہے گا مگر چند روز بعد ان کی حالت نازک تر ہوتی چلی گئی اس دوران ان کے حواس مکمل بحال رہے اور ہاتھ و آنکھ کے اشاروں سے بات چیت کی کوشش بھی کرتے رہے مگر رفتہ رفتہ وہ کمزور پڑتے گئے اور پھر اتوار 17 مارچ کو زندگی کی بازی آخر کار ہار گئے انہوں نے بھرپور اور متنوع زندگی گزاری وہ نوجوانی سی ہی انقلابی سوچ رکھنے والے شخصیت تھے ان کی زندگی کے ہر پہلو پر صفحات کے صفحات سیاہ کیے جا سکتے ہیں سرکاری ملازمت میں آۓ تو تاریخ رقم کرتے چلے گئے میدان صحافت میں قدم رکھا تو سب کے لالا بن کر سامنے آئے بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ وہ ایک اچھے شاعر اور ناول نگار بھی تھے اداریہ نویسی اور کالم نگاری کے فن سے تو سب ہی آشنا تھے ان کی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کو الگ الگ سے سامنے لانے کی کوشش کروں گا 78 سال کی عمر میں بھی محنت کے لیے تیار رہتے تھے چند ماہ قبل تک اخبار کے ساتھ وابستہ رہے پھر اچانک گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔۔۔

کہاں یہ عالم کہ گھنٹوں باہر رہا کرتے اور کہاں یہ حالت کہ سیر یا خاندانی تقریبات کے لیے بھی مشکل سے تیار ہوتے تھے آخری چند ماہ بس اپنے پوتوں تک محدود ہوکر رہ گئے تھے اور ان کے بغیر وقت نہیں کٹتا تھا ایک وقت ایسا تھا کہ ایک ایک دن میں پہاڑی علاقوں میں 50/50 کلومیٹر پیدل سفر کیا کرتے سردی کا موسم بہت پسند تھا علاج معالجہ کے معاملے میں ہمیشہ غفلت کیا کرتے جب بھی تفصیلی معائنہ کی بات کی جاتی تو کہتے کہ چھوڑو کوئی ٹیسٹ وغیرہ نہیں کرنا کیونکہ کوئی نہ کوئی مرض نکل آئے گا اور پھر پریشان رہوں گا ہم کہتے کہ اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے مرض نکلے گا تو ہی علاج شروع ہو سکے گا مگر ان کی خواہش یہی رہی کہ کسی موذی بیماری کا انہیں ان کی زندگی میں علم نہ ہو اور اللّٰہ نے ان کی یہ خواہش پوری کردی وہ ایک ایسے عالم میں موذی امراض میں مبتلاء ہوئے کہ جب نیم ہوش میں تھے ڈاکٹر کہتے تھے کہ ان کے سامنے اچھی اچھی باتیں کریں کیونکہ یہ سب کچھ سن اور سمجھ رہے ہیں

آخری وقت میں نالی کے ذریعے خوراک دی جاتی رہی جبکہ آکسیجن ماسک بھی لگا ہوا تھا ایک روز جب میں نے ان کے کان میں یہ کہا کہ آپ کی صحت یابی کیلئے حرمین میں دعائیں مانگی جا رہی ہیں تو ان کی آنکھوں کی چمک دیکھنے کے قابل تھی ان کے منہ سے کچھ نکلا بھی مگر زبان چونکہ فالج کا شکار تھی اس لیے مجھے کچھ سمجھ نہ آسکا وہ زندگی بھر دوسروں کے حصے کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے رہے مگر کبھی اپنے حصے کے بوجھ میں کسی کو شریک نہ کیا حد درجہ کے مہمان نواز اور خرچ کرنے میں بہت ہی فراخ دل تھے کبھی کسی کو انکار نہیں کیا اپنے منہ کا نوالہ تک دوسروں کو دے دیا کرتے تھے چونکہ مخلص تھے اس لیے غصہ کے بھی بہت تیز تھے جب کبھی اپنے موقف پر ڈٹ جاتے تو پھر کسی قسم کا دباؤ اور دھونس ان کو ہٹا اور ہلا نہیں سکتا تھا(جاری)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔