سوشل میڈیا میں کسی بھی پارٹی کے خلاف نازیبہ بیان بازی سے اجتناب کریں۔سابق ایم پی اے سردار حسین

چترال(چترال ایکسپریس) اپر چترال سے پیپلز پارٹی کے نامور رہنما اور خیبر پختون خواہ صوبائی اسمبلی کے سابق ممبر سید سردار حسین نے قوم کو تنبیہ کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا میں کسی بھی پارٹی کے خلاف نازیبہ بیان بازی سے اجتناب کریں ۔ ہمارے نمائندے سے ایک بات چیت کے دوران سید سردار حسین نے نئی لیڈر شپ کے عزم کو بلند کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم وہ واحد خوش قسمت قوم ہیں کہ ہماری راہنمائی بیٹیوں کے ہاتھ میں ہے اور بیٹیاں رحم کی اکائی ہیں ۔ یہ ترقی یافتہ قوموں کا خاصا ہے کہ وہ بیٹیوں کی قدر کرتے ہیں اوریہی اصول تہذیب ہے۔ حالیہ برف باری اور نقصانات کے اذالے کےلیے دیے جانے والے رلیف چیک سے متعلق لوگوں کی بیان بازیاں افسوس ناک ہیں ۔ غلطی ہو سکتی ہے اور پھر اُس کی درستی بھی ممکن ہے ۔ ریلیف چاہے مرکزی ہو یا صوبائی ریونیو ڈپارٹمنٹ کی تصدیق کے بغیر نہیں دی جا سکتی یہ قانون ہےاور قانوں کو یوں کوئی بھی اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کیوںکہ ہم نے بھی یہی کام کئی بار کیا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ چترال کے بالائی علاقوں کے راستے شدید برف باری کی وجہ سے بند پڑے تھے لہذا سروے نہیں ہوا ہوگا ۔ میں چترال کے ہر باسی سے درخواست کرتا ہوں کہ کسی بھی کام کی تصدیق کے بعد اُس پر بولیں ۔ بولانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن کسی واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے بعد ۔ ہمارے نمائندگان کو درست وقت پر درست کام کرنے کا موقع دیا جائے ۔ صوبے میں اُن کی حکومت ہے وہ کسی بھی وقت کام کر سکتے ہیں کیوں کہ اُن کے پاس آپ ہی کا حق رائے دہی ہے اور اس سے بڑی طاقت ملک میں کہیں نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ بہت افسوس ہوتا ہے کہ اُن کے آئے چار دن نہیں ہوئے کہ ہمارے لوگوں میں حسد کی آگ بھڑک اُٹھی ۔ یاد رکھیں کہ ملی مفاد کے لیے مسالک ،جماعیتں علاقہ زبان کو پس پشت ڈال کر ایک ساتھ یک زبان ہو کرآگے بڑھنا پڑتا ہے ۔ آج بھی چھوٹی چھوٹی باتوں کو آڑے لائیں گے تو اس ضلعے کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔ ترقی کا ایک زریں موقع ہے جسے ہمیں کسی بھی صورت ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہیے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔