والد بزرگوار نثاراحمد شاکر ۔۔سرکاری ملازمت کا اختتام ۔۔۔۔ قسط نمبر 3۔ از آصف نثار غیاثی۔

سرکاری ملازمت میں ہمیشہ اصولوں کی پاسداری کی کبھی بھی کسی عہدے یا عہدیدار کی پرواہ نہیں کی بددیانتی سے ہمیشہ اپنا دامن پاک رکھا اسی لیے تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنا گھر تک نہیں بنا سکے تھے جب مانسہرہ میں اسسٹنٹ رجسٹرار تھے تو اس دوران کروڑوں روپے کے قرضے ان کے دستخطوں سے جاری ہوۓ چاہتے تو اپنے کمیشن کے نام پر بہت بڑی رقم اپنے لیے حاصل کر سکتے تھے مگر حرام کے قائل نہیں تھے اسوقت بٹگرام اور کوہستان تک کا علاقہ ان کے ماتحت تھا انتہائی شاندار وقت گزارا 1988 کے انتخابات کے بعد جب نئی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت کے وزیر زراعت و کوآپریٹو نے والد بزرگوار کے پاس اپنے سفارشیوں کی فہرست بھجوائی اور ہدایت کی کہ قرضہ ان کو دینا ہے یہ سن کر والد بزرگوار کو بہت غصہ آیا اور فہرست یہ کہہ کر وزیر موصوف کے پاس واپس بھجوائی کہ زبانی ہدایت کے بجائے اپنے دستخط کے ساتھ تحریری ہدایت بھجوائیں آپ کے لیے میں کیوں غلط کام کروں کل کو جواب مجھے دینا ہوگا یہ سن کر وزیر موصوف نے فون کر کے کہا کہ لگتا ہے کہ آپ موجودہ سیٹ پر نہیں رہنا چاہتے انہوں نے جواب دیا کہ مُجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارے صوبے میں دو ہی مشکل سٹیشن ہیں چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان کہاں بھجوانا ہے یہ سن کر وزیر موصوف کا منہ لٹک گیا اور اس کے بعد جب تک وہ حکومت برقرار رہی انہیں کبھی نہیں چھیڑا والد بزرگوار کہا کرتے تھے کہ سرکاری ملازم کے دل سے تبادلے کا خوف نکل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے غلط کام پر مجبور نہیں کر سکتی جب صوبہ بھر میں قرضوں کی ریکوری مہم شروع ہوئی تو ایک ایک دن میں پہاڑی علاقوں میں 50/50 کلومیٹر تک پیدل سفر کیا اور ریکوری میں ہمیشہ آگے رہے اس مہم کے دوران اس وقت صورتحال نازک ہو گئی کہ جب مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ کے مشیر نے ریکوری کے لیے جانے والے عملے کی توہین کی کیونکہ ان کے ذمے بھی رقم واجب الادا تھی والد بزرگوار سے یہ بات چھپانے کی کوشش کی گئی وہ جب دفتر پہنچے تو ماحول میں تناؤ کو واضح طور پر محسوس کیا کسی نے بھی حقیقت نہ بتائی آخر کار بڑی مشکل سے وہ بات کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور پھر انہوں وہ کچھ کیا جو بہت ہی کم افسران کرنے کی جرات کرتے ہیں انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبائی مشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے اور تاکید کی کہ ہر صورت مشیر کو گرفتار کر کے لایا جائے یہ سن کر عملے کے پیروں تلے زمین نکل گئی مگر ان کے غصے کے سامنے کوئی بول نہ سکا وہ جھوٹ موٹ گئے اور آکر ان کو بتایا کہ مشیر موصوف گھر پر نہیں تھے مگر والد بزرگوار کہاں باز آنے والے تھے وہ اس روز شام تک دفتر میں بیٹھے رہے اور عملے کو بار بار بھجواتے رہے بعد ازاں مشیر موصوف کو صورت حال کی سنگینی کا احساس ہوا تو جرگے کے ذریعے جان چھڑائی اسی طرح ایک مرتبہ ایک انکوائری سپرد ہوئی ضلع مانسہرہ کی ایک اہم شخصیت نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی فارسٹ سوسائٹی کے تحت جنگل میں روڈ بنوایا تھا جو بارشوں کی نذر ہو گیا ہے اس نے حکومت سے بہت بڑی رقم کا مطالبہ کیا تھا انکوائری میں والد بزرگوار کے ساتھ محکمہ جنگلات کا بھی ایک افسر شامل تھا انہوں نے والد بزرگوار کو مشورہ دیا کہ ہم او کے کر دیتے ہیں مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے موقع کا معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ وہ شخصیت بہت طاقتور تھی مگر کوئی پرواہ کیے بغیر انہوں نے نہ صرف موقع کا معائنہ کیا بلکہ اپنی رپورٹ میں لکھ دیا کہ موصوف کا دعویٰ بے بنیاد ہے ۔اسی طرح ایک بار ایک کوآپریٹو فارسٹ سوسائٹی کی انکوائری اور آڈٹ ان کے سپرد ہوا ان دنوں ہم بہت چھوٹے تھے ہمارے مرحوم تایا مختیار احمد بتایا کرتے تھے کہ ان کو نئے ماڈل کی گاڑی کی چابی اور بہت بڑی رقم گھر پر دینے کے لیے لائ گئی مگر ان کو بے عزت کرکے گھر سے نکال دیا ۔۔۔ہم ان کی مانسہرہ پوسٹنگ کے دوران اکثر چھٹیوں میں جایا کرتے تھے ان کے دفتر کے بعض اہلکار کہتے کہ یہاں سے واپس جانے والے افسران کئی کئی ٹرک تو صرف فرنیچر کے بھر کر لے جاتے ہیں نقد تو اس سب کے علاوہ ہے مگر آپ کے والد تو یہاں اپنی جیب سے لوگوں کو کھلا رہے ہیں کیونکہ والد صاحب پورا ڈیرہ اور کچن چلاتے تھے مہمان نوازی ان پر ختم تھی 1995میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی کہا کرتے تھے کہ بس اب مزید لڑائی جھگڑے نہیں کر سکتا یوں ملازمت کا انقلابی دور ختم ہوا حالانکہ ریٹائرمنٹ میں ابھی 10 سال باقی تھے۔۔۔۔۔ جاری

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔