پہاڑی ملبہ نالہ ایون سے نکال کر پانی کا راستہ صاف کیا جائے ۔

چترال ( محکم الدین) چترال کے سڑکوں کی بہتری اور تعمیر کیلئے کام کرنے والی تنظیم چترال ڈویلپمنٹ موومنٹ (سی ڈی ایم ) نے این ایچ اے کے زیر نگرانی کالاش ویلیز روڈکی تعمیر کے دوران پہاڑوں کے بلاسٹنگ سے نالہ ایون میں گرے ملبہ اور بھاری پتھروں کو فوری طور پر ہٹاکر پانی کا راستہ صاف کرنےکا مطالبہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ جس غیر ذمہ دارانہ طریقے سے سڑک کی تعمیر کی جارہی ہے۔ وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ اتوار کے روز کیپٹن ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک کی قیادت میں سی ڈی ایم کے سنئیر نائب صدر لیاقت علی ،عنایت اللہ اسیر و ایون وی سی چیرمینان وجیہ الدین ، محمد رحمن و سابق ممبر جندولہ خان نے میڈیا کی ٹیم کے ساتھ علاقے کا دورہ کیا اور نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا.اس موقع پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئےشہزادہ سراج الملک ،لیاقت علی نے کہاکہ ابتدا میں ہم سیاحت کی ترقی کےمقصد کے تحت اس روڈ کی تعمیر کی حمایت کرتے تھے ۔ لیکن جس طریقےسے سڑک کی تعمیرہورہی ہے ۔ اس سے یہ صاف ظاہرہے کہ ڈیزاسٹر کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ جس سے زیر تعمیر سڑک ،نالہ ایون کے اندر موجود بجلی گھروں کے چینلز ، مقامی نہریں ،واٹر سپلائی اسکیموں اور علاقہ ایون کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور سیاحت کی ترقی کی بجائے تباہی کا باعث بنے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی تعمیر کی اپنی اہمیت ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں ۔ لیکن سڑک کی تعمیرکا جو طرہقہ کار اپنایا گیا ہے۔ وہ کسی صورت درست نہیں ہے ۔ تنگ وادی کے اندر منوں کے حساب سے بارود اور کیماوی کھاد وغیرہ استعمال کرکے پہاڑوں کی بلاسٹنگ کی گئی ہے ۔ جس سے سینکڑوں ٹن وزنی پہاڑی تودے نالے میں گر چکے ہیں ۔ اور مختلف مقامات میں نالے کے اندر کئی ڈیم بن چکے ہیں ۔ جو نالے میں پانی کے بہاو میں اضافے سے علاقہ ایون اور نالے کے اندر اثاثہ جات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے ۔ انہوں نے اسے اینوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ روڈ بنانےکا مقصد یہ نہیں ۔ کہ فائدے کی بجائے نقصان اٹھایا جائے ۔ چیرمین ویلج کونسل ایون ون وجیہ الدین اور چیرمین محمد رحمن نے کہا کہ وہ بار بار این ایچ اے حکام کو اس حوالے سے آگاہ کر چکے ہیں ۔جس کے دستاویزی ثبوت ان کے پاس محفوظ ہیں ۔ اس سسلسلے میں ڈپٹی کمشنر چترال کے ساتھ ایک میٹنگ میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا ۔ لیکن افسوس ہے ۔ کہ اس پر اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا  انہوں نے کہا ۔ کہ ” گورا پون، اوشان “کے مقامات بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں ۔ اسی طرح بمبوریت کے ائریا میں بھی ملبہ نالہ میں ڈال دیاگیا ہے ۔ جس کے تحفظ کیلئے کچھ بھی نہیں گیا ۔ جبکہ اس ملبے سے پانی کی خرابی کے ساتھ ساتھ علاقہ ایون کی تباہی کے خدشات واضح ہیں ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال سے اپیل کی کہ پہاڑی ملبہ نالہ ایون سے نکال کر پانی کا راستہ صاف کیا جائے ۔تاکہ کسی بڑی آفت سے بچا جاسکے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔