موڑکھؤ/ تورکھو بجلی لوڈ شیڈنگ کے حوالے چیرمین تحصیل کونسل میر جمشید کے زیرِ صدارت بونی میں اجلاس ۔

اپرچترال (ذاکرمحمدزخمی)طویل عرصہ سے اپر چترال میں بدترین لوڈ شیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے ۔خصوصاً موڑکھؤ/ تورکھو جو سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کبھی 48 گھنٹوں بعد ایک گھنٹے کی بجلی میسر ہوتی ہے تواکثر غائب ہی رہتی ہے۔رمضان المبارک کے مہینے نہ سحری میں روشنی میسر ہے نہ تو افطاری میں ۔علاقے کے لوگ ادارے ،انتظامیہ اور منتخب نمائیندوں سے مایوس ہو چکے ہیں ایسے میں احتجاجی میٹنگ اور جلسے کرکے اپنی تحفظات سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔چیرمین موڑکھؤ تورکھو میر جمشید نے حالات کی نزاکت اور لوگوں کی مجبوریوں کا احساس کرتے ہوئے اس مسلے کا کوئی درمیانی حل تلاش کرنے لیے بونی میں اجلاس کا انعقاد کیا ۔جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل فدالکریم، آر۔ ای پیڈو اور لائن سپرٹنڈنٹ پیڈو بھی موجود تھے ۔کوشٹ،موڑکھو،سہت،کشم،زیزدی وغیرہ کے ویلیج چیرمین صاحباں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ چیرمین زکواۃ اپر قاری میر فیاض کی تلاوت اور مختصر گفتگو سے میٹنگ کا آغاز کیا گیا۔چیرمین تحصیل کونسل تمام حاضرین کی نمائندگی کرتے ہوئے بجلی کی مسلےکے بارے آر ۔ای سے اگاہی، رائےاور تجویز طلب کی کہ کس طرح لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ کو کم سے کم کیا جائےسکےجس سے صارفین کو کچھ ریلیف مل سکے۔ار۔ ای نے تمام مسائل اور روکاوٹوں کے بارے بتایا کہ اس وقت ریشن پاور ہاؤس کی پیداواری صلاحیت ایک میگا واٹ تک محدود ہے جو اپر چترال کی ضرورت کوپورا کرنے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔لاواری میں ٹاور گرنے سے نیشنل گریڈ سے سپلائی منقطع ہے اور گولین گول پاور بھی پانی کم پڑنے کی وجہ ضرورت کے مطابق بجلی نہیں دے رہی ہے۔اس لیے مجبواً صارفین دقت اور مشکلات سے دو چار ہیں۔ہم چاہتے ہوئے بھی بے بس ہیں کہ صارفین بجلی کو کچھ ریلیف دیں۔میٹنگ میں نمائندہ گاں مختلف تجاویز پیش کی ان تجاویز کی روشنی میں مختلف پہلووں پر غور کیا گیا۔ ساتھ نیشنل گریڈ سے منقطع ٹاور کی بحالی کے لیے ہر سطح مثبت کوشش کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔اور موجود دستیاب بجلی کو حتہ الوسہ بہتر انداز میں صارفین میں تقسیم کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔چیرمین تحصیل کونسل موڑکھؤ تورکھو میر جمشید اس سلسلے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو خود اس کمیٹی کے سربراہی کرتے ہوئے اس مسلے کے حل کے مختلف پہلووں پر سنجیدہ غور و فکر کرینگے ۔ امید ہے آپ کی کاوشیں رنگ لاکر بہت جلد لوڈ شیڈنگ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔