پروفیسر ڈاکٹر قاری بزرگ شاہ الازھری کو نشان امتیاز سے نوازا گیا۔(ڈاکٹر یاسر حسین ستی الخیری)

ہر سال 23 مارچ کے قومی دن کے موقع پر پاکستان میں گراں قومی خدمات سر انجام دینے والی شخصیات کو اعلی سول و فوجی اعزاز پیش کیےجاتے ہیں۔ زیادہ تر تو یہ اعزازات میرٹ پر ہی ہوتے ہیں لیکن مقتدرہ ہمیشہ کچھ اپنی من پسند نااہل شخصیات کو بھی یہ اعزاز کسی ذاتی خدمت کے عوض دینے میں بھی مہارت رکھتی ہے۔۔۔۔
بہرحال آج ہم ایک ایسی شخصیت کا تذکرہ کریں گے جن کو آج کے دن نشان امتیاز پیش کیا گیا۔ انہوں نے اپنے شعبے میں واقعی عالمی سطح پر لوہا منوایا ہے ۔ یہ شخصیت میرے انتہائی مشفق و مہرباں استاد محترم اور میری علمی و ادبی زندگی میں ایک دوست کا تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر قاری بزرگ شاہ الازھری ہیں۔ آپ چترال کی خوبصورت و نرم خو مٹی سے تعلق رکھتے ہیں جس کا عکس آپ کی علمی و ادبی زندگی میں بڑا واضح نظر آتا ہے۔

آپ نے اسلامی علوم میں قرآت کے اندر تخصص کیا اور عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ الازہر سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی
اس کے بعد وطن عزیز میں سرکاری سطح پر اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ اکثر قومی تقریبات میں تلاوت قرآن پاک سے سامعین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں تدریس بھی کرتے رہے اور اپنے علم و فن سے نئی نسل کو منور کرتے رہے ہیں۔ یہاں پر ہی ہمیں بھی آپ سے زانوئے تلمذ حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا
قرآت کے بعد آپ کا دوسرا میدان ادب و شاعری ہے جس میں بھی آپ نے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔ آپ شاعر ہفت زباں ہیں اور قاری اپنا تخلص کرتے ہیں۔
وطن عزیز کی عظیم علمی و ادبی بیٹھک قلم کاروں اسلام آباد کے ہفتہ واری اجلاس میں اکثر تشریف لاتے ہیں اور ترنم کے ساتھ اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔ جس سے حاضرین عش عش کر اٹھتے ہیں۔ اسی طرح آپ حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں میں کبھی کبھی اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔ بزلہ سنجی میں بھی آپ اپنی مثال آپ ہی رکھتے ہیں انتہائی معزز انداز میں لطیف گفتگو سے حاضرین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا فن بھی جانتے ہیں۔
آپ کی مذہبی وسعت ظرفی کا یہ عالم ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے لوگ آپ کو اپنا قریبی سمجھتے ہیں۔ اور دوسری طرف عاجزی و انکساری کا یہ عالم ہے کہ کبھی بھی اپنے علمی و ادبی رعب سے انسانوں میں ممتاز ہونے کا سوچتے بھی نہیں ہیں بلکہ کہ ہم جیسے کمزور طالبعلموں کو ساعتوں میں اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔
آپ نے تجوید و قرات پر کتابیں لکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں میں بھی ادبی و شعری
کتابیں بھی تصنیف فرمائیں ہیں۔ جس سے یقیناً باذوق انسانیت صدیوں تک استفادہ کرتی رہے گی۔
ہم آج نشان امتیاز ملنے پر استاد محترم کو دلی مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ آف پاکستان کو بھی مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے آج وطن عزیز کی ایک نایاب گوہر کی خدمات کا اعتراف کر کے ملک میں پر خلوص محنت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ڈاکٹر قاری بزرگ شاہ الازھری کو کامل صحت کے ساتھ حیات جاوداں نصیب فرمائے تاکہ وہ امہ کو اسی طرح اپنے فیض سے مستفید فرماتے رہیے ۔ آمین یارب العالمین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔