والدبزرگوار نثاراحمد شاکر ۔۔میدان صحافت میں ۔۔ قسط نمبر 4 ۔۔ازآصف نثارغیاثی۔

والد بزرگوار نے ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں بیٹھنے کے بجائے میدان صحافت میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیاانہوں نے ساٹھ کی دہائی میں جب ابھی طالب علم تھے اس وقت کے معروف اخبارات روزنامہ انجام اور روزنامہ شہباز میں مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اسی طرح اپنے کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔دوران ملازمت محکمانہ میگزین کا اجراء کیا تھا میرے دادا جان غیاث احمد بابائے صحافت صوبہ سرحد کہلانے والے اللّٰہ بخش یوسفی کے ساتھ قیامِ پاکستان سے قبل روزنامہ سرحد میں بطورِ ڈپٹی ایڈیٹر کام کرتے رہے ہیں اسی طرح وہ ماسٹر خان گل کے ساتھ ان کے اخبار بانگِ حرم میں بھی لکھتے رہے ۔۔ والد بزرگوار نے بھی اب عملی صحافت کا رُخ کیا اور سینئر صحافی صلاح الدین احمد کے ساتھ ان کے اخبار سرخاب کا حصہ بن گئے محنتی ذہین اور اچھے لکھاری تو تھے ہی دوست بنانے میں بھی ماہر تھے ان کی شخصیت میں کُچھ ایسی کشش تھی جو ان کیساتھ ایک مل لیتا وہ ہمیشہ کے لیے ان کا دوست بن جاتا صلاح الدین احمد صاحب کے ساتھ بھی ان کا تعلق جلد بھائی بندی میں بدل گیا اور آخر تک ان کے ساتھ رہے اس کے بعد وہ روزنامہ کٹہرا کے ساتھ وابستہ ہوئے پھر روزنامہ پاکستان کا حصہ بنے کُچھ عرصہ بعد روزنامہ جہاد کے ڈپٹی ایڈیٹر بنے اس کے بعد روزنامہ مشرق چلے گئے وہاں اداریہ نویسی کے ساتھ ساتھ کالم نگاری بھی کرتے رہے چند سال بعد اشفاق احمد مفتی صاحب کے ساتھ روزنامہ الحاق کی ٹیم کا حصہ بنے بیچ میں کُچھ عرصہ روزنامہ آئین میں بھی کام کرتے رہے مگر پھر آخر تک مفتی صاحب کے ساتھ رہے وہ دوستی نبھانا بخوبی جانتے تھے اس لیے مشکل گھڑی میں کبھی کسی کو تنہا نہیں چھوڑا اور اس کے لیے بڑے سے بڑا نقصان خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتے چنانچہ بعض بڑے اداروں کی پیشکشیں محض اس لیے ٹھکرا دی تھیں کہ جس ادارے میں کام کر رہے تھے اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو اخباری مالکان کے ساتھ ہمیشہ احترام مگر برابری کا تعلق رکھتے اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ نبھاتے بلکہ اپنے حصے سے زیادہ بوجھ اٹھاتے تمام زندگی نوجوان صحافیوں اور لکھاریوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے بلکہ ہمیشہ ان کی رہنمائی کرتے ان کو سکھاتے جب پریس کلب آنا جانا شروع ہؤا تو سب کے ساتھ محبت و خلوص کے رشتے استوار ہوتے چلے گئے بزرگوں کے ساتھ بزرگ نوجوانوں کے ساتھ نوجوان اور بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے اس لئے ان کی محفل میں کبھی کسی کو اکتاہٹ محسوس ہوتی نہ ہی تنگ ہوتا محفلیں جمانے کا ملکہ رکھتے تھے پریس کلب میں جلد ہی سب کے لالا بن کر سامنے آئے ان کے پاس ہر کسی کے لیے ہمیشہ وقت ہوتا تھا اس لیے ہر کوئی اپنی داستان غم سنانے ان کے پاس کھچا چلا آتا میرے اکثر دوست مجھے کہا کرتے کہ تم تو وقت سے پہلے بوڑھے ہو گئے ہو جبکہ لالا ابھی بھی جوان ہیں پریس کلب میں ان کی نشستیں طویل اور وسیع تر ہوتی چلی گئیں جن دنوں نان ممبرز پر ٹی وی لاونج اور لائبریری کے دروازے بند تھے تو والد بزرگوار پرانے گیٹ کے پاس کرسیاں بچھا کر ان نوجوان صحافیوں کو ساتھ بٹھا کر ان کی ڈھارس بندھاتے پریس کلب کی سیاست میں بھی حصہ لیتے رہے مگر کبھی بھی احترام اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا وہ کہا کرتے تھے کہ الیکشن کے دن تک گروپ بندی ٹھیک ہے اس کے بعد منتخب عہدیداران کے ساتھ مل کر ممبران کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی کوششیں کرنی چاہئیں پریس کلب میں جس نے بھی عملی کام کیا وہ ہمیشہ اس کا کریڈٹ اس کو دیتے رہے پریس کلب کی سیاست میں در آنے والی نفرتوں پر ان دل کڑھتا تھا اور ہمیشہ یہی کہتے کہ اختلاف رائے کو مخاصمت میں تبدیل کرنا غلط ہے پریس کلب کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا اور ممبران کی غمی و خوشی میں ہر صورت شرکت کو یقینی بناتے میدان صحافت میں ان کی خدمات پر کئی ایوارڈز بھی ملے 2021 میں وفاقی حکومت نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔