شاہی مسجد کو اوقاف کی تحویل میں دینے کے خلاف چترال کی سول سوسائٹی بھی متحرک

چترال (چترال ایکسپریس) شاہی مسجد کو محکمہ اوقاف کو تحویل میں دینے کے خلاف چترال کی سول سوسائٹی متحرک ہوگئی۔ منگل کے روز چترال میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے پرزورمطالبہ کیا کہ اس تاریخی مسجد پر غیر قانونی قبضہ کی راہ ہموار کرنے والی سیکرٹری اوقاف کے نوٹیفیکیشن کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اس مسجد کو 1924ء میں مہتر چترال سر شجاع الملک نے قائم کیا تھا اور تب سے اس کا انتظام وانصرام چترال کے عوام ضلعی انتظامیہ کے زیر سرپرستی میں چلارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر اوقاف کے محکمہ نے اس کا انتظام سنبھال لیا توا س کی حالت زار بھی مسجد مہابت خان کی طرح ہوجائے گی جس کے محراب کی مرمت گزشتہ سالوں سے نہیں ہوئی اور یہ کھنڈر کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چترال کے عوام کبھی بھی اپنی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔اجلاس میں مہتر چترال ایم پی اے فاتع الملک علی ناصر کی طرف سے سیکرٹری نشان حیدر اور سینئر وکیل سراج الدین ربانی ایڈوکیٹ جبکہ تجار یونین کی طرف سے سینئر نائب صدر ملک اسرار نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء سابق ضلع ناظم مغفرت شاہ، محمد کوثر ایڈووکیٹ ، سراج الدین ربانی ایڈووکیٹ ، قاضی نسیم، آمین الحسن اور دوسروں نے کہا کہ لینڈ سیٹلمنٹ کا کام ابھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا اور نہ ہی فرد جاری ہوئے ہیں اس لئے اس بنیاد پر۔ نوٹیفیکیشن کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔
واضح ریے کہ ہائی کورٹ نے موجودہ سیٹلمنٹ ریکارڈ کی دوبارہ تصحیح تک اس رکارڈ کو نامکمل قرار دیکر اس پر عمل درآمد کرنے پر اسٹے ارڈر بھی جاری کیا ہے۔ اوقاف توہین عدالت کا مرتکب بھی ہورہاہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔