فکرو خیال۔.پل دو پل کی یہ زندگی ۔. فرہاد خان۔

زندگی کا کیا ہے پل میں ہے تو دوسرے پل میں تمام۔ حادثات سے پر ، ہر دن ایک نئے فرد کے حادثے کا منتظر ۔تبھی تو جس مقام پر فرزند علی کو پہاڑ سے نیچے آتے ہوئے پتھر نے ہم سے چھین لیا اس مقام سے تو لوگ روانہ سینکڑوں کی تعداد میں پیدل، گاڑیوں و موٹر بائیک پر سفر کرتے، آتے جاتے رہتے ہیں مگر پہاڑ سے آنے والا وہ پتھر فرزند کا منتظر تھا اور پل دو پل میں یہ حادثہ ہو ہی گیا ۔
فرزند علی سے کبھی ملا نہیں ،حادثے کے دن پتہ چلا کہ اویرک سے گرم چشمہ اور گرم چشمہ سے روئی پرابیگ تک کا سفر کرنے والا یہ لڑکا علم کا اس قدر شیدائی تھا کہ علم کی راہ میں جان ہی وار دی ۔ یعنی راہ علم کا شہید جاتے جاتے پورے دیس کو اکیس مارچ کے دن سوگوار چھوڑ گیا جب لوگ علی الصبح موسم بہار کا تہوار نوروز منانے میں مصروف تھے۔ فرزند کے بارے معلوم ہوا واقعی علم کا شیدائی تھا اور زندگی میں بہت کچھ کرنے کی تمنا و امید لئے راہ علم کی مسافت طے کرنے میں مگن تھا اور حادثے کے دن بھی کتاب ہاتھ میں تھا کہ دار فانی سے رخصت ہوگئے۔
کئی بار لکھ چکا ہوں کہ یہ جو بہت ہی اچھے بھلے لوگ ہوتے ہیں نا، یہ کسی اور ہی دنیا کے لئے بنے ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ بس تھوڑی سی مدت کے لئے مختصر سی جھلک دکھانے اس دار فانی میں آجاتے ہیں اور پھر جلد ہی اسی دنیا کو کوچ کر جاتے ہیں جہان کے لئے وہ بنے ہیں ۔ فرزند کا بھی یہی معاملہ تھا اس لئے جلدی کوچ کرنا مقدر تھا ۔ دل اس دن سے بوجھل ہے ، خفا ہے ،غم زدہ ہے مگر کیا کریں زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ،پل دو پل کی زندگی کا پل بھر بھروسہ نہیں اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ
”ایک نس ٹھس سے مس اور بس”
یہی ہے اوقات زندگی کی ۔ فلک بوس پہاڑوں کے بیچون بیچ گھرے وادی میں ایک نہ ایک دن یہ ہونا ہی تھا ۔ سو ہو گیا ، اگلی باری کس کی ہے معلوم ندارد ، مگر خوف کے سائے گہرے ہیں جس جگے سے ہم ہر روز آتے جاتے رہتے ہیں جیولوجیکل سروے کے حساب سے بھی انتہائی خطرناک ہے مگر مجبوری ہے اور اس لئے حالات جو بھی ہوں اس راستے سے آنا جانا ہی ہے جبکہ اس راستے میں خطرے کی تلوار سر پر ہمیشہ سے لٹکی ہوئی ہے اور بارش و برف باری کے بعد اس راستے سے سفر خطرے سے خالی نہیں ۔ کہنا صرف یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ ایک اور فرزند بلکہ کئی اور فرزند ایسی مجبوری کی بھینٹ چڑھ جائیں ہمیں اس جگے کی کوئی متبادل تلاش کرنا ہے اور متبادل محفوظ راستہ ہی ایسے حادثات سے بچا سکتا ہے۔سرکار سے گزارش صرف اتنی ہے کہ اس جگہ کا متبادل محفوظ ترین جگہ موجود ہے ۔ متبادل سڑک کے طور پر سرکاری سڑک کو ژیتور پل سے آگے وخت کی طرف موڑ دیا جائے اور آگے محفوظ جگہ پر پھر اسے سرکاری روڈ سے جوڑ دیا جائے تو آئندہ ایسے حادثات سے بچا ممکن ہے کیونکہ اگر اب بھی ایسا نہ کیا گیا تو کئی اور قیمتی جانیں ایسے حادثات میں ضائع ہوتے جائیں گے ،پھر کسی اور خاندان کا چشم و چراغ اسی طرح کے حادثے میں جان کی بازی ہار جائیگا، پھر کسی خاندان میں ہوگا ماتم و آہ و کنان ۔ اللہ کرے کہ ایسا نہ ہو اور اللہ کرے کہ اس راستے کے متبادل جگے پر متبادل سڑک کا انتظام ممکن بنایا جائے.
حال ہی میں علاقے کے عمائدین ،لوکل گورنمنٹ کے چیرمین و ممبران اور عوامی سماجی و سیاسی شخصیات کی ایک بیٹھک میں بھی گورنمنٹ اور این جی۔اوز کے لئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی ہے اور مطالبہ یہی ہے کہ اب کے بعد ہم کسی ایک فرزند بھی کھونا نہیں چاہتے اس لئے درخواست کا متن یہ ہے کہ متبادل سڑک ہی اس معاملے کا حل ہے۔ راہ علم کے شہید فرزند علی، اللہ تمہارے درجات بلند فرمائے ۔ آمین ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔