چترال کو موسمیاتی تبدیلی سے پہنچنے والے نقصانات تشویشناک حدتک بڑھ گئے ہیں۔آر پی ایم آکاہ ولی محمد

چترال (محکم الدین ) چترال میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو کم کرنے اور مقامی آبادی کو موسمی تبدیلی کے اثرات سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں آغاخان ایجنسی فار ہبیٹاٹ (آکاہ) کے زیر اہتمام آگہی دینے اورپلان کی تیاری سےمتعلق نالج حب اور بزنس حب کے ممبران کی ایک غیر معمولی نشست چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی ۔جس میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ چترال موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کا سب سے زیادہ نقصانات اٹھانے والا علاقہ بن چکا ہے ۔ جس کے نقصانات کم کرنے کیلئے جامع حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔

ریجنل پروگرام منیجر آکاہ ولی محمدنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چترال کو موسمیاتی تبدیلی سے پہنچنے والے نقصانات تشویشناک حد تک بڑ ھ گئے ہیں اور انسانی زندگی پوری طرح متاثر ہو چکی ہے لیکن ہمیں خود کو ان حالات سے ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو روکا نہیں جاسکتا ۔ تاہم اس میں کمی لائی جا سکتی ہے لیکن اس کیلئے لوگوں میں آگہی اور حساسیت پیدا کرنابنیادی کام ہے ۔

قبل ازین فدا حسن پلاننگ آفیسر نے شرکاء کو خوش آمدید کہا ۔جبکہ جاوید احمد منیجر آکاہ ایمرجنسی ریسپانس نے BRAVE پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیل سے پریزنٹیشن دی ۔ اور کہا کہ اپر چترال میں یہ پراجیکٹ چار یوسیز میں اور لوئر چترال میں آٹھ یوسیز میں کام کر رہا ہے ۔ جن سے مجموعی طور پر 227 دیہات اور 116 کلسٹر کور ہوں گے ۔ یوسی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سےپلان بنایا جائے گا جس پر عملدر آمد کیا جائے گا ۔خطرات سے دوچار اور مالی طورپرکمزور افراد کی مدد کی جائے گی ۔بزنس حب اور نالج حب کے تحت منصوبہ بندی کی جائے گی ۔ لائن ڈیپارٹمنٹس ،این جی اوز ،سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کو ٹریننگ دی جائے گی ۔ کلائمیٹ ایڈاپٹیشن پلان بنائے جائیں گے اور موسمی تبدیلی سےہم آہنگ کرنے نیز موسمی تبدیلی سےہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائےجائیں گے ۔

لیکچرر چترال یونیورسٹی بیالوجیکل سائنس حفیظ اللہ نے اپنے پریزنٹیشن میں قرآن حکیم کی روشنی میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ قدرتی وسائل کا غیر دانشمندانہ استعمال قرار دیا اور کہا 1800 عیسوی سے غیر دانشمندانہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے موسم پر اثرات پڑنے شروع ہوئے ۔ جو بالاخر گلوبل وارمنگ کی صورت میں اپنے منفی اثرات کے ساتھ موسم پر اثر انداز ہوا ۔ انہوں نے کہاہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچ کہیں نہیں جا سکتے بلکہ ہمیں ان حالات کا مقابلہ کرتےہوئے اس ماحول میں زندگی گزارنے کیلئے خود کو تیار کرنا پڑے گا ۔ پاکستان دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا پانچواں ملک ہے اور چترال کے دونوں اضلاع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ چترال میں زرخیز اور سرسبز زمینات کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے سرکاری عمارات کی تعمیر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ غیر مقامی پودوں کی چترال منتقلی ،کوڑا کرکٹ اور کچرے میں اضافہ سمیت پانی کے غیر دانشمندانہ استعمال سے چترال کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔

سوشل سیکٹر اور اینڈیجنس نالج کا وسیع تجربہ رکھنے والے شخصیت شاکریز نے اپنےٹیلفونک خطاب میں تجربات شئیر کرتے ہوئے کہاکہ در اصل چترال اور اس کے لوگوں کو صدیوں کے تجربات پرمحیط مقامی علم سے دوری کی سزا مل گئی ہے اور ہسنتا بستا خوبصورت چترال دن بدن بے موسمی اور تیز بارشوں و برفباری سے تباہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنی زراعت میں مقامی کھاد ،جنگلات کی بےدریغ کٹائی سے پرہیز ، چراگاہوں و جنگلات کی حفاظت کیلئے “سق” کا نظام ،پانی کے انتظامات اور کم آبادی پر انحصار کرنا چاہئے تاکہ مزید تباہی سے بچ سکیں ۔ پروگرام کے دوران سوال و جواب بھی کئے گئے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔