دادبیداد.. بے مثال شہر پشاور…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ہمارے دوست خلیل احمد کو حیرت ہوئی کہ قصہ خوا نی بازار میں ژا لہ باری کی ویڈیو وائرل ہوئی تو 24گھنٹوں میں 19لاکھ لو گوں نے اس کو دیکھا مجھے اس بات پر حیرت با کل بھی نہیں ہوئی قصہ خوانی شہر پشاور کا وہ مقام ہے جہاں ڈھکی دال گراں اور ڈھکی نعلبندی واقع ہیں دونوں کو ملا کر اس کو ڈھکی کہا جا تا تھا اور دوسری صدی قبل مسیح تک شہر کی ابادی ڈھکی، گنج اور سردچاہ میں تھی پشاور کے قدیم نقشوں میں تینوں جگہے نما یاں نظر آتے ہیں، یہ وہ دور تھا جب دریا ئے باڑہ ڈھکی سے گذر تا تھا، مو جو دہ قصہ خوا نی دریا کے دوکناروں پر کاروانوں کی آما جگاہ ہوا کر تی تھی وسطی ایشیا ء سے ہند وستان جا نے والے کاروان یہاں ٹھہر تے تھے تو قصے کہانیاں اور داستانیں سنا نے والے کار وانوں کو تفریح اور شغل فراہم کر تے تھے جب دریا ئے باڑہ نے اپنا رخ تبدیل کیا کارواں سرائے رفتہ رفتہ دکا نوں، ہو ٹلوں اور پلا زوں کی شکل اختیار کرنے لگے تو اس بازار کا نا م پرانی روا یت کی نسبت سے قصہ خوا نی پڑ گیا اس کی کہا نی بجا ئے خود ایک داستان ہے، فصیل شہر بھی ایک داستان ہے قلعہ بالا حصار بھی داستان ہے یہ بدھ مت کے دور کی یاد گاریں ہیں کشان خاندان کو فن تعمیر کے لحا ظ سے ممتاز مقام حا صل ہے اُس دور میں تعمیرات اور دیگر فنون لطیفہ کے ساتھ مجسمہ سازی کو بھی فروغ ملا، گندھا را کی منفرد تہذیب پشکلا وتی میں پرواں چڑھی چینی سیا ح زوان زانگ نے ساتویں صدی میں فصیل کے باہر ایک قلعے کاذکر کیاہے گویااُس وقت فصیل کے کچھ حصے موجود تھے قلعہ بالاحصار بھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود تھا سترھویں صدی میں مہا بت خان مسجد کی تعمیر ہوئی جو با لاحصار کے برابر اہمیت رکھتی ہے اس کو بر صغیر پاک و ہند کی خوب صورت ترین مسجدوں میں شمار کیا جاتا ہے 1610اور 1630کے درمیانی عرصے میں تعمیراتی سامان بھی دستیاب نہیں تھے اس کے باو جود عالیشان مسجد تعمیر ہوئی جو مغلطرز تعمیر کا شہکار ہے میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ پشاور شہر کی تاریخ پڑھو گے تو 19لا کھ ناظرین کی آمد پر تمہیں حیرت نہیں ہو گی، پشاور وہ شہر ہے جو پنجاب کے حکمران مہا راجہ رنجیت سنگھ کا پسندیدہ شہر تھا، افغانستان کے حکمران احمد شاہ ابدالی اس شہر کے عاشق تھے احمد شاہ ابد الی نے 1747ء میں پشاور کو اپنی قلمرو میں شاملکیا، فصیل شہر کو وسعت دی، قلعہ بالاحصار کو تو سیع دی اور اس کو اپنا تخت گاہ بنا یا، 1823ء میں مہا را جہ رنجیت سنکھ کابل اور قند ہار تک کا علا قہ فتح کیا تو قلعہ با لا حصار کو گرا کر دوبار ہ تعمیر کیا حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک اطالوی سپہ سالا ر ایوی ٹیبل یعنی ابو طبیلہ پشاور کے عشق میں گرفتار ہوا، اُس نے فصیل شہر کے اندرگور کٹھڑی میں عا لیشان عما رت تعمیر کر لئیے اُس نے یو رپ کے طرز پر سیوریج لائن بچھا ئی 1837سے 1843تک وہ سکھوں کی عملداری میں پشاور کا منتظم اعلیٰ یعنی ایڈ منسٹریٹر رہا وہ بڑا ظالم تھا اُس کے ظلم کی داستانیں مشہور ہیں 1849ء میں مہا را جہ رنجیت سنگھ کا انتقال ہوا تو ان کی سلطنت سکڑ تی گئی انگریزوں نے پشاور کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی عملداری میں شامل کیا 1868ء میں بر طانوی ہند کی فو ج پشاور آئی تو اس کو یہاں علی مردان کی حویلی، گورکٹھڑی اور قلعہ بالا حصار کی صورت میں تیار انفرا سٹرکچر مل گیا، انگریزوں نے قلعہ بالا حصارکو دوسری بار مسمار کرکے دوبارہ تعمیر کیا، مو جودہ قلعہ انگریزوں کی تعمیر کی ہوئی ہے تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ انگریزوں نے سینکڑوں سال پرانے نقشے کو بر قرار رکھ کر اس میں مفید اضافے کئے قلعہ بالاحصار کے نواح میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی انگریزوں کی یادگار ہے العرض پشاور بے مثال شہر ہے اس کی ویڈیو کو اگر 19لا کھ ناظرین نے پسند کیا تو تعجب، حیرت اور اچھنبے کی کوئی بات نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔