قومی ورثہ شاہی قلعہ چترال کو دریا برد ہونے سے بچایا جائے۔سیف الرحمن مشکور

چترال (چترال ایکسپریس)رہنما پاکستان تحریک انصاف چترال سیف الرحمن مشکور ؔ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ شاہی قلعہ چترال ایک تاریخی ورثہ ہے۔ گذشتہ سال دریائے چترال میں طغیانی اور سیلاب کی وجہ سے شاہی قلعہ چترال کو شدید نقصان پہنچا اور قلعہ کے شمالی سمت میں واقع سینکڑوں سال پرانے چنار کے درختان اور قیمتی اراضی دریا برد ہوگئے ہیں۔ حکومت پاکستان،متعلقہ اداروں اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی غفلت اور لاپراہی کی انتہایہ ہے کہ ایک سال کا عرصہ گذرنے کے باؤجود قلعہ کو مزید نقصانات سے بچانے کے لئے Protection Wall ابھی تک تعمیر نہیں کئے گئے۔ امسال پہاڑوں پر زیادہ برفباری ہوئی ہے اور گرمیوں میں دریائے چترال میں بہاؤ اورطغیانی کا قوی اندیشہ ہے۔ اگر ہنگامی بنیادپر فی الفور حفاظتی پشتے تعمیر نہیں کئے گئے تو شاہی قلعہ کے ساتھ ساتھ شاہی مسجد بھی دریا برد ہونے کا خطرہ ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان، ایم۔ این۔اے، ایم پی ایز صاحبان، متعلقہ اداروں اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ چترال بروقت اقدامات اٹھاتے ہوئے  شاہی قلعہ اور شاہی مسجد چترال کو بچانے کے لئے دریائے چترال میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ سے قبل ہنگامی بنیاد وں پر حفاظتی پشتے تعمیر کرکے تاریخی ورثہ چترال کو مزید نقصانات سے بچایا جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔