چترال میں بارش متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا کام بلاتاخیر شروع کیا جائے۔جماعت اسلامی چترال لوئر

چترال (چترال ایکسپریس) امیر جماعت اسلامی لویر چترال مولانا جمشید احمد، جنرل سیکرٹری وجیہ الدین اور الخدمت فاونڈیشن کے ضلعی صدر عبدالحق نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے

)U

کہ چترال میں حالیہ بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا فوری طور پر اور شفاف طریقے سے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر سروے اور اسیسمنٹ کے بعد معاوضوں کی ادائیگی کا کام بلاتاخیر شروع کیا جائے۔ الخدمت فاونڈیشن کے دیگر ذمہ داروں فضل ربی جان، عمران الدین، ارسلان اور دوسروں کی موجودگی میں

)U

انہوں نے کہاکہ چترال کے طول وعرض میں بارش اور برفباری سے غربت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ سینکڑوں کی تعدادمیں کچے گھر منہدم ہوگئے، ہزاروں کی تعداد میں گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے اور بے وقت برفباری سے فصلوں اور باغات کو بھی بھاری نقصان پہنچ گیا ہے۔ا نہوں نے کہا ہے کہ چترال کے طول وعرض میں ایریگیشن چینل اور واٹر سپلائی اسکیم بھی ناکارہ ہوگئے ہیں جس سے کسانوں کو مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یہاں سوفیصد گھرانے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت نے متاثر یں کے ساتھ صحیح معنوں میں امداد نہ کی تو بھوک اور فاقوں کی وجہ سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے مکمل منہدم گھروں کے لئے 10لاکھ روپے کا معاوضہ اور جزوی طور پر منہدم گھروں کے لئے 5لاکھ روپے اور مال مویشیوں، باغات اور فصلوں کے ساتھ ساتھ چاردیواریوں کے نقصانات کے لئے بھی خاطر خواہ معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ مولانا جمشید نے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے سے مطالبہ کیا کہ متاثریں کے لئے فوڈ اور نان فوڈ پیکج مہیا کرکے ان کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے الخدمت فاونڈیشن کی صوبائی اور مرکزی ایڈمنسٹریشن سے بھی مطالبہ کیاکہ چترال کے متاثرین کے لئے فوری طور پر امدادی اشیاء روانہ کئے جائیں تاکہ بے یارومددگار متاثرین کے مسائل میں کمی لائی جاسکے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت سے مزید مطالبہ کیاکہ چترال میں گندم کے فصل کی تباہی کے باعث سبسڈائز ڈ نرخ پر محکمہ خوراک کے گوداموں سے گندم کی فراہمی بھی شروع کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ الخدمت فاونڈیشن نے اپنے پاس موجود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اب تک 70سے ذیادہ خاندانوں تک راشن اور کیچن کے سامان پہنچادیا ہے جبکہ چترال پشاور روڈ کی بحالی کے بعد مزید امدادی اشیاء پشاور سے چترال بھیجے جائیں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔